کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: جس جگہ پر فرض نماز پڑھی ہو وہاں نفلی نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1006
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، وَعَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ ؟ " قَالَ : عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ ، أَنْ يَتَقَدَّمَ أَوْ يَتَأَخَّرَ أَوْ عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ شِمَالِهِ ، زَادَ فِي حَدِيثِ حَمَّادٍ فِي الصَّلَاةِ : يَعْنِي فِي السُّبْحَةِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم میں سے کوئی شخص عاجز ہے “ ۔ عبدالوارث کی روایت میں ہے : آگے بڑھ جانے سے یا پیچھے ہٹ جانے سے یا دائیں یا بائیں چلے جانے سے ۔ حماد کی روایت میں «في الصلاة» کا اضافہ ہے یعنی نفل نماز پڑھنے کے لیے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 1006
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن ماجه (1427), ليث بن أبي سليم ضعيف, وھذا الحديث ضعفه البخاري في صحيحه (848), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 48
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الأذان 157 (848 تعلیقاً)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 203 (1427)، (تحفة الأشراف: 12179)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/425) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1007
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ شُعْبَةَ ، عَنْ الْمِنْهَالِ بْنِ خَلِيفَةَ ، عَنْ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا إِمَامٌ لَنَا يُكْنَى أَبَا رِمْثَةَ ، فَقَالَ : صَلَّيْتُ هَذِهِ الصَّلَاةَ أَوْ مِثْلَ هَذِهِ الصَّلَاةِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ يَقُومَانِ فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ عَنْ يَمِينِهِ ، وَكَانَ رَجُلٌ قَدْ شَهِدَ التَّكْبِيرَةَ الْأُولَى مِنَ الصَّلَاةِ ، فَصَلَّى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ سَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ حَتَّى رَأَيْنَا بَيَاضَ خَدَّيْهِ ، ثُمَّ انْفَتَلَ كَانْفِتَالِ أَبِي رِمْثَةَ يَعْنِي نَفْسَهُ ، فَقَامَ الرَّجُلُ الَّذِي أَدْرَكَ مَعَهُ التَّكْبِيرَةَ الْأُولَى مِنَ الصَّلَاةِ يَشْفَعُ ، فَوَثَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ ، فَأَخَذَ بِمَنْكِبِهِ فَهَزَّهُ ، ثُمَّ قَالَ : اجْلِسْ ، فَإِنَّهُ لَمْ يَهْلِكْ أَهْلُ الْكِتَابِ ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بَيْنَ صَلَوَاتِهِمْ فَصْلٌ ، فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَصَرَهُ ، فَقَالَ : " أَصَابَ اللَّهُ بِكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَقَدْ قِيلَ : أَبُو أُمَيَّةَ مَكَانَ أَبِي رِمْثَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ازرق بن قیس کہتے ہیں کہ` ہمیں ہمارے ایک امام نے جن کی کنیت ابورمثہ ہے نماز پڑھائی ، نماز سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے کہا : یہی نماز یا ایسی ہی نماز میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی ہے ، وہ کہتے ہیں : اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما اگلی صف میں آپ کے دائیں طرف کھڑے ہوتے تھے ، اور ایک اور شخص بھی تھا جو تکبیر اولیٰ میں موجود تھا ، اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا چکے تو آپ نے دائیں اور بائیں طرف سلام پھیرا ، یہاں تک کہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گالوں کی سفیدی دیکھی ، پھر آپ پلٹے ایسے ہی جیسے ابورمثہ یعنی وہ خود پلٹے ، پھر وہ شخص جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تکبیر اولیٰ پائی تھی اٹھ کر دو رکعت پڑھنے لگا تو اٹھ کر عمر رضی اللہ عنہ تیزی کے ساتھ اس کی طرف بڑھے اور اس کا کندھا پکڑ کر زور سے جھنجوڑ کر کہا بیٹھ جاؤ ، کیونکہ اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ کو صرف اسی چیز نے ہلاک کیا ہے کہ ان کی نمازوں میں فصل نہیں ہوتا تھا ، اتنے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر اٹھائی ( اور یہ صورت حال دیکھی ) تو فرمایا : ” خطاب کے بیٹے ! اللہ تعالیٰ نے تمہیں ٹھیک اور درست بات کہنے کی توفیق دی “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 1007
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, قال الذھبي :’’ المنھال ضعفه ابن معين،وأشعث فيه لين والحديث منكر ‘‘ (تلخيص المستدرك 270/1), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 48
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12041، 12037) (حسن لغیرہ) » (اس کے راوی اشعث اور منہال دونوں ضعیف ہیں’ لیکن دونوں کی متابعت کے ملنے سے یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: الصحيحة: 3173، وتراجع الألباني: 9)