کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: وضو ٹوٹ جانے پر دوبارہ نماز ادا کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1005
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ عِيسَى بْنِ حِطَّانَ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ سَلَّامٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ طَلْقٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا فَسَا أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَنْصَرِفْ ، فَلْيَتَوَضَّأْ وَلْيُعِدْ صَلَاتَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی بن طلق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کسی کو دوران نماز بغیر آواز کے ہوا خارج ہو تو وہ ( نماز ) چھوڑ کر چلا جائے اور وضو کرے اور نماز دہرائے ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: علی بن طلق رضی اللہ عنہ کی یہ روایت صحت کے اعتبار سے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس روایت سے زیادہ راجح ہے جو کتاب الطہارۃ میں آئی ہے اور جس میں ہے: «من أصابه قيء في صلواته أو رعاف فإنه ينصرف ويبني على صلاته» کیونکہ اگرچہ علی بن طلق اور عائشہ رضی اللہ عنہما دونوں کی روایتوں میں کلام ہے لیکن علی بن طلق رضی اللہ عنہ کی روایت کو ابن حبان نے صحیح کہا ہے اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کو کسی نے صحیح نہیں کہا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 1005
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: حسن, انظر الحديث السابق (205)
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم :205، (تحفة الأشراف: 10344) (ضعیف) » (اس کے راوی عیسیٰ اور مسلم دونوں لین الحدیث ہیں)