کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: تشہد کے بعد آدمی کیا پڑھے؟
حدیث نمبر: 983
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَائِشَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا فَرَغَ أَحَدُكُمْ مِنَ التَّشَهُّدِ الْآخِرِ فَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ أَرْبَعٍ : مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ ، وَمِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی آخری تشہد سے فارغ ہو تو چار چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگے : جہنم کے عذاب سے ، قبر کے عذاب سے ، زندگی اور موت کے فتنے سے اور مسیح دجال کے شر سے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 983
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (588)
حدیث تخریج « صحیح مسلم/المساجد 25 (588)، سنن النسائی/السھو 64 (1311)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 26(909)، (تحفة الأشراف: 14587)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجنائز 87 (1377)، مسند احمد (2/237)، سنن الدارمی/الصلاة 86 (1383) (صحیح) »
حدیث نمبر: 984
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْيَمَامِيُّ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ بَعْدَ التَّشَهُّدِ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشہد کے بعد یہ کہتے تھے : «اللهم إني أعوذ بك من عذاب جهنم وأعوذ بك من عذاب القبر وأعوذ بك من فتنة الدجال وأعوذ بك من فتنة المحيا والممات» یعنی ” اے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم کے عذاب سے ، تیری پناہ چاہتا ہوں قبر کے عذاب سے ، تیری پناہ چاہتا ہوں دجال کے فتنہ سے اور تیری پناہ چاہتا ہوں زندگی اور موت کے فتنے سے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 984
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, ورواه مسلم (590) من حديث طاوس به وانظر الحديث الآتي (1543)
حدیث تخریج « صحیح مسلم/المساجد 25 (588)، سنن الترمذی/الدعوات 77 (3494)، سنن النسائی/الجنائز 115 (2065)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 3 (3840)، (تحفة الأشراف: 5721)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القرآن 8(33)، مسند احمد (1/242، 258، 298، 311)، ویأتي برقم (1542) (حسن صحیح) »
حدیث نمبر: 985
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ ، أَنَّ مِحْجَنَ بْنَ الْأَدْرَعِ حَدَّثَهُ ، قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ ، فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ قَدْ قَضَى صَلَاتَهُ وَهُوَ يَتَشَهَّدُ ، وَهُوَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ يَا اللَّهُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ ، أَنْ تَغْفِرَ لِي ذُنُوبِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ، قَالَ : فَقَالَ : " قَدْ غُفِرَ لَهُ ، قَدْ غُفِرَ لَهُ " ثَلَاثًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک شخص نے اپنی نماز پوری کر لی ، اور تشہد میں بیٹھا ہے اور کہہ رہا ہے : «اللهم إني أسألك يا الله الأحد الصمد الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد أن تغفر لي ذنوبي إنك أنت الغفور الرحيم» ” اے تنہا و اکیلا ، باپ بیٹا سے بے نیاز ، بے مقابل ولا مثیل اللہ ! میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ تو میری گناہوں کو بخش دے ، بیشک تو بہت بخشش کرنے والا مہربان ہے “ یہ سن کر آپ نے تین مرتبہ یہ فرمایا : ” اسے بخش دیا گیا ، اسے بخش دیا گیا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 985
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, أخرجه النسائي (1302 وسنده صحيح) وصححه ابن خزيمة (724 وسنده صحيح)
حدیث تخریج « سنن النسائی/السھو 58 (1302)، (تحفة الأشراف: 11218)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/338) (صحیح) »