حدیث نمبر: 939
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نماز میں مردوں کو «سبحان الله» کہنا چاہیئے اور عورتوں کو تالی بجانی چاہیئے ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: دوران نماز امام سے کچھ بھول چوک ہو جائے تو اس کو اس کی غلطی بتانے کے لیے مرد ’’سبحان اللہ‘‘ کہیں اور عورتیں تالی بجائیں۔
حدیث نمبر: 940
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ ، وَحَانَتِ الصَّلَاةُ فَجَاءَ الْمُؤَذِّنُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : أَتُصَلِّي بِالنَّاسِ ؟ فَأُقِيمَ ، قَالَ : نَعَمْ ، فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ فِي الصَّلَاةِ ، فَتَخَلَّصَ حَتَّى وَقَفَ فِي الصَّفِّ فَصَفَّقَ النَّاسُ ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لَا يَلْتَفِتُ فِي الصَّلَاةِ ، فَلَمَّا أَكْثَرَ النَّاسُ التَّصْفِيقَ الْتَفَتَ فَرَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِ امْكُثْ مَكَانَكَ ، فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَيْهِ فَحَمِدَ اللَّهَ عَلَى مَا أَمَرَهُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ ، ثُمَّ اسْتَأْخَرَ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى اسْتَوَى فِي الصَّفِّ ، وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَّلَى ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ : " يَا أَبَا بَكْرٍ ، مَا مَنَعَكَ أَنْ تَثْبُتَ إِذْ أَمَرْتُكَ ؟ " قَالَ أَبُو بَكْرٍ : مَا كَانَ لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا لِي رَأَيْتُكُمْ أَكْثَرْتُمْ مِنَ التَّصْفِيحِ ؟ مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ فَلْيُسَبِّحْ ، فَإِنَّهُ إِذَا سَبَّحَ الْتُفِتَ إِلَيْهِ ، وَإِنَّمَا التَّصْفِيحُ لِلنِّسَاءِ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَهَذَا فِي الْفَرِيضَةِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ بنی عمرو بن عوف میں ان کے درمیان صلح کرانے کے لیے تشریف لے گئے ، اور نماز کا وقت ہو گیا ، مؤذن نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر پوچھا : کیا آپ نماز پڑھائیں گے ، میں تکبیر کہوں ؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : ہاں ( تکبیر کہو میں نماز پڑھاتا ہوں ) ، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھانے لگے ، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے اور لوگ نماز میں تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفوں کو چیرتے ہوئے ( پہلی ) صف میں آ کر کھڑے ہو گئے تو لوگ تالی بجانے لگے ۱؎ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا حال یہ تھا کہ وہ نماز میں کسی دوسری طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے ، لوگوں نے جب زیادہ تالیاں بجائیں تو وہ متوجہ ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نگاہ پڑی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اشارہ سے فرمایا : ” تم اپنی جگہ پر کھڑے رہو “ ، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر اس بات پر جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا تھا ، اللہ کا شکر ادا کیا ، پھر پیچھے آ کر صف میں کھڑے ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے ، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : ” جب میں نے تمہیں حکم دے دیا تھا تو اپنی جگہ پر قائم رہنے سے تمہیں کس چیز نے روک دیا ؟ “ ، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ابوقحافہ ۲؎ کے بیٹے کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کھڑے ہو کر نماز پڑھائے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا : ” کیا بات تھی ؟ تم اتنی زیادہ کیوں تالیاں بجا رہے تھے ؟ جب کسی کو نماز میں کوئی معاملہ پیش آ جائے تو وہ سبحان اللہ کہے ، کیونکہ جب وہ ” سبحان الله “ کہے گا تو اس کی طرف توجہ کی جائے گی اور تالی بجانا صرف عورتوں کے لیے ہے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ فرض نماز کا واقعہ ہے ۔
وضاحت:
۱؎: تاکہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا علم ہو جائے۔
۲؎: ابوقحافہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے والد کی کنیت ہے۔
۲؎: ابوقحافہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے والد کی کنیت ہے۔
حدیث نمبر: 941
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : كَانَ قِتَالٌ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَاهُمْ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ بَعْدَ الظُّهْرِ ، فَقَالَ لِبِلَالٍ : " إِنْ حَضَرَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ وَلَمْ آتِكَ ، فَمُرْ أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ، " فَلَمَّا حَضَرَتِ الْعَصْرُ أَذَّنَ بِلَالٌ ، ثُمَّ أَقَامَ ، ثُمَّ أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ فَتَقَدَّمَ ، قَالَ فِي آخِرِهِ : إِذَا نَابَكُمْ شَيْءٌ فِي الصَّلَاةِ فَلْيُسَبِّحْ الرِّجَالُ ، وَلْيُصَفِّحْ النِّسَاءُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` قبیلہ بنی عمرو بن عوف کی آپس میں لڑائی ہوئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر پہنچی ، تو آپ ظہر کے بعد مصالحت کرانے کی غرض سے ان کے پاس آئے اور بلال رضی اللہ عنہ سے کہہ آئے کہ اگر عصر کا وقت آ جائے اور میں واپس نہ آ سکوں تو تم ابوبکر سے کہنا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں ، چنانچہ جب عصر کا وقت ہوا تو بلال نے اذان دی پھر تکبیر کہی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھانے کے لیے کہا تو آپ آگے بڑھ گئے ، اس کے اخیر میں ہے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تمہیں نماز میں کوئی حادثہ پیش آ جائے تو مرد ” سبحان الله “ کہیں اور عورتیں دستک دیں “ ۔
حدیث نمبر: 942
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنْ عِيسَى بْنِ أَيُّوبَ ، قَالَ : قَوْلُهُ التَّصْفِيحُ لِلنِّسَاءِ : تَضْرِبُ بِأُصْبُعَيْنِ مِنْ يَمِينِهَا عَلَى كَفِّهَا الْيُسْرَى .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عیسیٰ بن ایوب کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد «التصفيح للنساء» سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنے داہنے ہاتھ کی دونوں انگلیاں اپنے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر ماریں ۔