حدیث نمبر: 932
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ ، عَنْ حُجْرٍ أَبِي الْعَنْبَسِ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَرَأَ : وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 ، قَالَ : آمِينَ وَرَفَعَ بِهَا صَوْتَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب «ولا الضالين» پڑھتے تو آمین کہتے ، اور اس کے ساتھ اپنی آواز بلند کرتے تھے ۔
حدیث نمبر: 933
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ الشَّعِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ حُجْرِ بْنِ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، أَنَّهُ صَلَّى خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَجَهَرَ بِآمِينَ ، وَسَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ خَدِّهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی تو آپ نے زور سے آمین کہی اور اپنے دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرا یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گال کی سفیدی دیکھ لی ۔
حدیث نمبر: 934
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، أَخْبَرَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، عَنْ بِشْرِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ عَمِّ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَلَا غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 ، قَالَ : آمِينَ ، حَتَّى يَسْمَعَ مَنْ يَلِيهِ مِنَ الصَّفِّ الْأَوَّلِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کی تلاوت فرماتے تو آمین کہتے یہاں تک کہ پہلی صف میں سے جو لوگ آپ سے نزدیک ہوتے اسے سن لیتے ۔
حدیث نمبر: 935
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا قَالَ الْإِمَامُ : غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 ، فَقُولُوا : آمِينَ ، فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب امام «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہے تو تم آمین کہو ، کیونکہ جس کا کہنا فرشتوں کے کہنے کے موافق ہو جائے گا اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے “ ۔
حدیث نمبر: 936
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَمَّنَ الْإِمَامُ فَأَمِّنُوا ، فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " آمِينَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو ، کیونکہ جس کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہو گی اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جائیں گے “ ۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آمین کہتے تھے ۔
حدیث نمبر: 937
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ رَاهَوَيْهِ ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ بِلَالٍ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " لَا تَسْبِقْنِي بِآمِينَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ مجھ سے پہلے آمین نہ کہا کیجئے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اتنی مہلت دیا کیجئے کہ میں سورۃ فاتحہ سے فارغ ہو جاؤں تاکہ آپ کی اور میری آمین ساتھ ہوا کرے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ بات مروان سے کہا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 938
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ الدِّمَشْقِيُّ ، وَمَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ ، عَنْ صُبَيْحِ بْنِ مُحْرِزٍ الْحِمْصِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبُو مُصَبِّحٍ الْمَقْرَائِيُّ ، قَالَ : كُنَّا نَجْلِسُ إِلَى أَبِي زُهَيْرٍ النُّمَيْرِيِّ ، وَكَانَ مِنَ الصَّحَابَةِ ، فَيَتَحَدَّثُ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ ، فَإِذَا دَعَا الرَّجُلُ مِنَّا بِدُعَاءٍ ، قَالَ : اخْتِمْهُ بِآمِينَ ، فَإِنَّ آمِينَ مِثْلُ الطَّابَعِ عَلَى الصَّحِيفَةِ . قَالَ أَبُو زُهَيْرٍ : أُخْبِرُكُمْ عَنْ ذَلِكَ ، خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَأَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ قَدْ أَلَحَّ فِي الْمَسْأَلَةِ ، فَوَقَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَمِعُ مِنْهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوْجَبَ إِنْ خَتَمَ " ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : بِأَيِّ شَيْءٍ يَخْتِمُ ؟ قَالَ : "بِآمِينَ ، فَإِنَّهُ إِنْ خَتَمَ بِآمِينَ فَقَدْ أَوْجَبَ " ، فَانْصَرَفَ الرَّجُلُ الَّذِي سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَى الرَّجُلَ ، فَقَالَ : اخْتِمْ يَا فُلَانُ بِآمِينَ وَأَبْشِرْ . وَهَذَا لَفْظٌ مَحْمُودٌ . قَالَ أَبُو دَاوُد : الْمَقْرَاءُ : قَبِيلٌ مِنْ حِمْيَرَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابومصبح مقرائی کہتے ہیں کہ` ہم ابوزہیر نمیری رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا کرتے تھے ، وہ صحابی رسول تھے ، وہ ( ہم سے ) ا چھی اچھی حدیثیں بیان کرتے تھے ، جب ہم میں سے کوئی دعا کرتا تو وہ کہتے : اسے آمین پر ختم کرو ، کیونکہ آمین کتاب پر لگی ہوئی مہر کی طرح ہے ۔ ابوزہیر نے کہا : میں تمہیں اس کے بارے میں بتاؤں ؟ ایک رات ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ، ہم لوگ ایک شخص کے پاس پہنچے جو نہایت عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا کر رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر سننے لگے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر اس نے ( اپنی دعا پر ) مہر لگا لی تو اس کی دعا قبول ہو گئی “ ، اس پر ایک شخص نے پوچھا : کس چیز سے وہ مہر لگائے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آمین سے ، اگر اس نے آمین سے ختم کیا تو اس کی دعا قبول ہو گئی “ ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سن کر وہ شخص ( جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا ) اس آدمی کے پاس آیا جو دعا کر رہا تھا اور اس سے کہا : اے فلاں ! تم اپنی دعا پر آمین کی مہر لگا لو اور خوش ہو جاؤ ۔