کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: نماز میں (ادھر ادھر) دیکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 912
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ وَهَذَا حَدِيثُهُ ، وَهُوَ أَتَمُّ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ الطَّائِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ عُثْمَانُ ، قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ فَرَأَى فِيهِ نَاسًا يُصَلُّونَ رَافِعِي أَيْدِيهِمْ إِلَى السَّمَاءِ ، ثُمَّ اتَّفَقَا ، فَقَالَ : " لَيَنْتَهِيَنَّ رِجَالٌ يَشْخَصُونَ أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ " . قَالَ مُسَدَّدٌ فِي الصَّلَاةِ : " أَوْلَا تَرْجِعُ إِلَيْهِمْ أَبْصَارُهُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ کچھ لوگ نماز میں اپنے ہاتھ آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر دعا کر رہے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو لوگ نماز میں اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں انہیں چاہیئے کہ اس سے باز آ جائیں ورنہ ( ہو سکتا ہے کہ ) ان کی نگاہیں ان کی طرف واپس نہ لوٹیں یعنی بینائی جاتی رہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 912
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, انظر الحديث السابق (661)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الصلاة 26 (430)، سنن النسائی/ السہو 5 (1185)، (تحفة الأشراف: 2128)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 68 (1045)، مسند احمد (5/108) (صحیح) »
حدیث نمبر: 913
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ فِي صَلَاتِهِمْ " فَاشْتَدَّ قَوْلُهُ فِي ذَلِكَ ، فَقَالَ : " لَيَنْتَهُنَّ عَنْ ذَلِكَ أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُهُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان لوگوں کا کیا حال ہے جو نماز میں اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں ؟ “ ، پھر اس سلسلہ میں آپ نے بڑی سخت بات کہی ، اور فرمایا : ” لوگ اس سے باز آ جائیں ورنہ ان کی نگاہیں اچک لی جائیں گی “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 913
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (750)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الأذان 92 (750)، سنن النسائی/السھو 9 (1194)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 68 (1044)، (تحفة الأشراف: 11713)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/109، 112، 115، 116، 140، 258)، سنن الدارمی/الصلاة 67 (1339) (صحیح) »
حدیث نمبر: 914
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَمِيصَةٍ لَهَا أَعْلَامٌ ، فَقَالَ : " شَغَلَتْنِي أَعْلَامُ هَذِهِ اذْهَبُوا بِهَا إِلَى أَبِي جَهْمٍ وَأْتُونِي " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسی چادر میں نماز پڑھی جس میں نقش و نگار تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے اس چادر کے نقش و نگار نے نماز سے غافل کر دیا ، اسے ابوجہم کے پاس لے جاؤ ( ابوجہم ہی نے وہ چادر آپ کو تحفہ میں دی تھی ) اور ان سے میرے لیے ان کی انبجانی چادر لے آؤ “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 914
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (752) صحيح مسلم (556)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الصلاة 14 (373)، والأذان 93 (752)، واللباس 19 (5817)، صحیح مسلم/المساجد 15 (556)، سنن النسائی/القبلة 20 (772)، سنن ابن ماجہ/اللباس 1 (3550)، (تحفة الأشراف: 1634)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة 18(67)، مسند احمد (6/37، 46، 177، 199، 208)، ویأتي ہذا الحدیث فی اللباس (4053) (صحیح) »
حدیث نمبر: 915
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الزِّنَادِ ، قَالَ : سَمِعْتُ هِشَامًا يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ بِهَذَا الْخَبَرِ ، قَالَ : وَأَخَذَ كُرْدِيًّا كَانَ لِأَبِي جَهْمٍ ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْخَمِيصَةُ كَانَتْ خَيْرًا مِنَ الْكُرْدِيِّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے` اس میں ہے : ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہم کی کر دی چادر لے لی ، تو آپ سے کہا گیا : اللہ کے رسول ! وہ ( باریک نقش و نگار والی ) چادر اس ( کر دی چادر ) سے اچھی تھی “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 915
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن، صحيح مسلم (556)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16403، 17023)، ویاٹی ہذا الحدیث في اللباس (4052)، (حسن) »