حدیث نمبر: 885
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ السَّعْدِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَوْ عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ : رَمَقْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاتِهِ " فَكَانَ يَتَمَكَّنُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ قَدْرَ مَا يَقُولُ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ثَلَاثًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعدی کے والد یا چچا کہتے ہیں کہ` میں نے نماز میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ رکوع اور سجدہ میں اتنی دیر تک رہتے جتنی دیر میں تین بار : «سبحان الله وبحمده» کہہ سکیں ۔
حدیث نمبر: 886
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ الْأَهْوَازِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، وَأَبُو دَاوُدَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ يَزِيدَ الْهُذَلِيِّ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا رَكَعَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ : سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ وَذَلِكَ أَدْنَاهُ ، وَإِذَا سَجَدَ فَلْيَقُلْ : سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى ثَلَاثًا وَذَلِكَ أَدْنَاهُ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : هَذَا مُرْسَلٌ ، عَوْنٌ لَمْ يُدْرِكْ عَبْدَ اللَّهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی رکوع کرے تو اسے چاہیئے کہ تین بار : «سبحان ربي العظيم» کہے ، اور یہ کم سے کم مقدار ہے ، اور جب سجدہ کرے تو کم سے کم تین بار : «سبحان ربي الأعلى» کہے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ مرسل ہے ، عون نے عبداللہ رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 887
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، سَمِعْتُ أَعْرَابِيًّا ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَرَأَ مِنْكُمْ وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ فَانْتَهَى إِلَى آخِرِهَا أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ سورة التين آية 8 فَلْيَقُلْ : بَلَى ، وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنَ الشَّاهِدِينَ ، وَمَنْ قَرَأَ لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَانْتَهَى إِلَى أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَى سورة القيامة آية 40 فَلْيَقُلْ : بَلَى ، وَمَنْ قَرَأَ وَالْمُرْسَلاتِ فَبَلَغَ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ سورة المرسلات آية 50 فَلْيَقُلْ : آمَنَّا بِاللَّهِ " . قَالَ إِسْمَاعِيلُ : ذَهَبْتُ أُعِيدُ عَلَى الرَّجُلِ الْأَعْرَابِيِّ وَأَنْظُرُ لَعَلَّهُ ، فَقَالَ : يَا ابْنَ أَخِي ، أَتَظُنُّ أَنِّي لَمْ أَحْفَظْهُ ، لَقَدْ حَجَجْتُ سِتِّينَ حَجَّةً مَا مِنْهَا حَجَّةٌ إِلَّا وَأَنَا أَعْرِفُ الْبَعِيرَ الَّذِي حَجَجْتُ عَلَيْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے جو شخص سورۃ «والتين والزيتون» پڑھے اسے چاہیئے کہ جب اس کی آخری آیت «والتين والزيتون» پر پہنچے تو : «بلى وأنا على ذلك من الشاهدين» کہے ، اور جو سورۃ «لا أقسم بيوم القيامة» پڑھے اور «أليس ذلك بقادر على أن يحيي الموتى» پر پہنچے تو «بلى» کہے ، اور جو سورۃ «والمرسلات» پڑھے اور آیت «فبأى حديث بعده يؤمنون» پر پہنچے تو «آمنا بالله» کہے ۔ اسماعیل کہتے ہیں : ( میں نے یہ حدیث ایک اعرابی سے سنی ) ، پھر دوبارہ اس کے پاس گیا تاکہ یہ حدیث پھر سے سنوں اور دیکھوں شاید ؟ ( وہ نہ سنا سکے ) تو اس اعرابی نے کہا : میرے بھتیجے ! تم سمجھتے ہو کہ مجھے یہ یاد نہیں ؟ میں نے ساٹھ حج کئے ہیں اور ہر حج میں جس اونٹ پر میں چڑھا تھا اسے پہچانتا ہوں ۔
حدیث نمبر: 888
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، وَابْنُ رَافِعٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُمَرَ بْنِ كَيْسَانَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مَانُوسٍ ، قَالَ :سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذَا الْفَتَى ، يَعْنِي عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ : " فَحَزَرْنَا فِي رُكُوعِهِ عَشْرَ تَسْبِيحَاتٍ ، وَفِي سُجُودِهِ عَشْرَ تَسْبِيحَاتٍ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ : قُلْتُ لَهُ : مَانُوسٌ أَوْ مَابُوسٌ ، قَالَ : أَمَّا عَبْدُ الرَّزَّاقِ فَيَقُولُ : مَابُوسٌ ، وَأَمَّا حِفْظِي : فَمَانُوسٌ ، وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ رَافِعٍ . قَالَ أَحْمَدُ :عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ` میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کے پیچھے ایسی نماز نہیں پڑھی جو اس نوجوان یعنی عمر بن عبدالعزیز کی نماز سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے مشابہ ہو سعید بن جبیر کہتے ہیں : تو ہم نے ان کے رکوع اور سجدہ میں دس دس مرتبہ تسبیح کہنے کا اندازہ کیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : احمد بن صالح کا بیان ہے : میں نے عبداللہ بن ابراہیم بن عمر بن کیسان سے پوچھا : ( وہب کے والد کا نام ) مانوس ہے یا مابوس ؟ تو انہوں نے کہا : عبدالرزاق تو مابوس کہتے تھے لیکن مجھے مانوس یاد ہے ، یہ ابن رافع کے الفاظ ہیں اور احمد نے ( اسے «سمعت» کے بجائے «عن» سے یعنی : «عن سعيد بن جبير عن أنس بن مالك» روایت کی ہے ) ۔