کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: رکوع اور سجدے میں دعا کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 875
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ،عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا صَالِحٍ ذَكْوَانَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : "أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّهِ وَهُوَ سَاجِدٌ فَأَكْثِرُوا الدُّعَاءَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب سجدے کی حالت میں ہوتا ہے ، تو ( سجدے میں ) تم بکثرت دعائیں کیا کرو “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 875
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (482)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الصلاة 42 (482)، سنن النسائی/التطبیق 78 (1138)، (تحفة الأشراف: 12565)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/241) (صحیح) »
حدیث نمبر: 876
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَشَفَ السِّتَارَةَ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلَّا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ ، وَإِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا ، فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا الرَّبَّ فِيهِ ، وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مرض الموت میں اپنے کمرہ کا ) پردہ اٹھایا ، ( دیکھا کہ ) لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صف باندھے ہوئے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگو ! نبوت کی بشارتوں ( خوشخبری دینے والی چیزوں ) میں سے اب کوئی چیز باقی نہیں رہی سوائے سچے خواب کے جسے مسلمان خود دیکھتا ہے یا اس کے سلسلہ میں کوئی دوسرا دیکھتا ہے ، مجھے رکوع اور سجدہ کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع کر دیا گیا ہے ، رہا رکوع تو اس میں تم اپنے رب کی بڑائی بیان کیا کرو ، اور رہا سجدہ تو اس میں تم دعا میں کوشاں رہو کیونکہ یہ تمہاری دعا کی مقبولیت کے لیے زیادہ موزوں ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 876
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (479)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الصلاة 41 (479)، سنن النسائی/التطبیق 8 (1046)، 62 (1121)، سنن ابن ماجہ/تعبیر الرؤیا 1 (3899)، (تحفة الأشراف: 5812)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/219)، (1900)، سنن الدارمی/الصلاة 77 (1364) (صحیح) »
حدیث نمبر: 877
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ : سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع اور سجدوں میں کثرت سے «سبحانك اللهم ربنا وبحمدك اللهم اغفر لي» کہتے تھے اور قرآن کی آیت «فسبح بحمد ربك واستغفره» ( سورة النصر : ۳ ) کی عملی تفسیر کرتے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 877
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (4968) صحيح مسلم (484)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الأذان 123 (794)، 139 (817) والمغازي 51 (4293)، وتفسیر سورة النصر 1 (4967)، 2 (4968)، صحیح مسلم/الصلاة 42 (484)، سنن النسائی/التطبیق 10 (1048)، 64 (1123)، 65 (1124)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 20 (889)، (تحفة الأشراف: 17635)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/43، 49، 190) (صحیح) »
حدیث نمبر: 878
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ السَّرْحِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ دِقَّهُ وَجِلَّهُ وَأَوَّلَهُ وَآخِرَهُ " . زَادَ ابْنُ السَّرْحِ : " عَلَانِيَتَهُ وَسِرَّهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سجدوں میں یہ دعا پڑھتے تھے : «اللهم اغفر لي ذنبي كله دقه وجله وأوله وآخره» یعنی ” اے اللہ ! تو میرے تمام چھوٹے بڑے اور اگلے پچھلے گناہ بخش دے “ ۔ ابن السرح نے اپنی روایت میں «علانيته وسره» کی زیادتی کی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 878
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (483)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الصلاة 42 (483)، (تحفة الأشراف: 12566) (صحیح) »
حدیث نمبر: 879
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَلَمَسْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا هُوَ " سَاجِدٌ وَقَدَمَاهُ مَنْصُوبَتَانِ ، وَهُوَ يَقُولُ : أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ ، لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک رات ( اپنے پاس بستر پر ) نہیں پایا تو میں نے آپ کو نماز پڑھنے کی جگہ میں ٹٹولا تو کیا دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں ہیں اور آپ کے دونوں پاؤں کھڑے ہیں اور آپ یہ دعا کر رہے ہیں : «أعوذ برضاك من سخطك وأعوذ بمعافاتك من عقوبتك وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك» یعنی ” اے اللہ ! میں تیرے غصے سے تیری رضا مندی کی پناہ مانگتا ہوں اور تیرے عذاب سے تیری بخشش کی پناہ مانگتا ہوں اور میں تجھ سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، میں تیری تعریف شمار نہیں کر سکتا ، تو ویسا ہی ہے جیسے تو نے خود اپنی تعریف کی ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 879
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (486)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الصلاة 42 (486)، سنن النسائی/الطھارة 119، باب 120(169)، والتطبیق 47 (1101)، 71 (1131)، والاستعاذة 62 (5536)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 3 (3841)، (تحفة الأشراف: 17807)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ القرآن 8 (31)، مسند احمد (6/58، 201) (صحیح) »