کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: رکوع اور سجدہ میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھنے والے کی نماز کا حکم۔
حدیث نمبر: 855
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْبَدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُجْزِئُ صَلَاةُ الرَّجُلِ حَتَّى يُقِيمَ ظَهْرَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آدمی کی نماز درست نہیں ، جب تک کہ وہ رکوع و سجود میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ کر لے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 855
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (878)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الصلاة 84 (265)، سنن النسائی/الافتتاح 88 (1028) والتطبیق 144 (1112)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 16 (870)، (تحفة الأشراف: 9995)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/119، 122)، سنن الدارمی/الصلاة 78 (1360) (صحیح) »
حدیث نمبر: 856
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاضٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ الْمُثَنَّى ،حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ ، فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى ، ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ السَّلَامَ ، وَقَالَ : ارْجِعْ فَصَلِّ ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ ، فَرَجَعَ الرَّجُلُ فَصَلَّى كَمَا كَانَ صَلَّى ، ثُمَّ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَعَلَيْكَ السَّلَامُ ، ثُمَّ قَالَ : ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ ، حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مِرَارٍ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، مَا أُحْسِنُ غَيْرَ هَذَا فَعَلِّمْنِي ، قَالَ : " إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَكَبِّرْ ، ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا ، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا ، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ، ثُمَّ اجْلِسْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا ، ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا " . قَالَ الْقَعْنَبِيُّ : عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ : " فَإِذَا فَعَلْتَ هَذَا ، فَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُكَ وَمَا انْتَقَصْتَ مِنْ هَذَا شَيْئًا ، فَإِنَّمَا انْتَقَصْتَهُ مِنْ صَلَاتِكَ ، وَقَالَ فِيهِ : إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَسْبِغْ الْوُضُوءَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو ایک شخص اس نے نماز پڑھی پھر آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب دیا اور فرمایا : ” واپس جاؤ ، پھر سے نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی “ ، وہ شخص واپس گیا اور پھر سے اسی طرح نماز پڑھی جس طرح پہلے پڑھی تھی ، پھر آ کر سلام کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اور تم پر بھی سلامتی ہو ، واپس جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو ، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ہے “ ، یہاں تک کہ تین بار ایسا ہوا ، پھر اس شخص نے عرض کیا : قسم ہے اس ذات کی ، جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ! میں اس سے اچھی نماز پڑھنا نہیں جانتا تو آپ مجھے سکھا دیجئیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو ( پہلے ) تکبیر کہو ، پھر جتنا قرآن بآسانی پڑھ سکتے ہو پڑھو ، اس کے بعد اطمینان سے رکوع کرو ، پھر رکوع سے سر اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ ، اس کے بعد اطمینان سے سجدہ کرو ، پھر اطمینان سے قعدہ میں بیٹھو ، اسی طرح اپنی پوری نماز میں کرو “ ۔ قعنبی نے «عن سعيد بن أبي سعيد المقبري ، عن أبي هريرة» کہا ہے اور اس کے اخیر میں یوں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم نے ایسا کر لیا تو تمہاری نماز مکمل ہو گئی ، اور اگر تم نے اس میں کچھ کم کیا تو اپنی نماز میں کم کیا “ ، اور اس میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو کامل وضو کرو “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے تعدیل ارکان کی فرضیت ثابت ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 856
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (757) صحيح مسلم (397)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الأذان 95 (757)، 122 (793)، والأیمان والنذور 15 (6251)، صحیح مسلم/الصلاة 11 (397)، سنن الترمذی/الصلاة 114 (302)، سنن النسائی/الافتتاح 7 (885)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 72 (1060)، (تحفة الأشراف: 12983، 14304)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/437) (صحیح) »
حدیث نمبر: 857
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ ، قَالَ فِيهِ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُ لَا تَتِمُّ صَلَاةٌ لِأَحَدٍ مِنَ النَّاسِ حَتَّى يَتَوَضَّأَ فَيَضَعَ الْوُضُوءَ يَعْنِي مَوَاضِعَهُ ، ثُمَّ يُكَبِّرُ وَيَحْمَدُ اللَّهَ جَلَّ وَعَزَّ وَيُثْنِي عَلَيْهِ وَيَقْرَأُ بِمَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ ، ثُمَّ يَقُولُ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، ثُمَّ يَرْكَعُ حَتَّى تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُهُ ، ثُمَّ يَقُولُ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَائِمًا ، ثُمَّ يَقُولُ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، ثُمَّ يَسْجُدُ حَتَّى تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُهُ ، ثُمَّ يَقُولُ : اللَّهُ أَكْبَرُ وَيَرْفَعُ رَأْسَهُ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَاعِدًا ، ثُمَّ يَقُولُ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، ثُمَّ يَسْجُدُ حَتَّى تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُهُ ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ فَيُكَبِّرُ ، فَإِذَا فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی بن یحییٰ بن خلاد اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ` ایک شخص مسجد میں داخل ہوا ، پھر راوی نے گذشتہ حدیث کے مانند روایت ذکر کی ، اس میں کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی شخص کی نماز مکمل نہیں ہوتی ، جب تک وہ اچھی طرح وضو نہ کرے ، پھر «الله أكبر» کہے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرے اور قرآن سے جتنا آسان ہو پڑھے پھر «الله أكبر» کہے پھر اطمینان و سکون کے ساتھ اس طرح رکوع کرے کہ سب جوڑ اپنی جگہ پر آ جائیں ، پھر «سمع الله لمن حمده» کہے اور سیدھا کھڑا ہو جائے ، پھر «الله أكبر» کہے ، پھر اطمینان سے اس طرح سجدہ کرے کہ اس کے جسم کے سارے جوڑ اپنی جگہ پر آ جائیں ، پھر «الله أكبر» کہے اور اپنا سر سجدے سے اٹھائے یہاں تک کہ سیدھا بیٹھ جائے پھر «الله أكبر» کہے پھر ( دوسرا ) سجدہ اطمینان سے اس طرح کرے کہ سب جوڑ اپنی جگہ پر آ جائیں ، پھر سجدے سے اپنا سر اٹھائے اور «الله أكبر» کہے ، جب اس نے ایسا کر لیا تو اس کی نماز پوری ہو گئی “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 857
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, انظر الحديث الآتي (858)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الصلاة 114 (302)، سنن النسائی/الأذان 28 (668)، الافتتاح 167 (1137)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 57 (460)، (تحفة الأشراف: 3604 مسند رفاعة بن رافع الأنصاري)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/ 100، 102، 4/340)، سنن الدارمی/الصلاة 78 (1368) (صحیح) »
حدیث نمبر: 858
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، وَالْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمِّهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ ، بِمَعْنَاهُ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهَا لَا تَتِمُّ صَلَاةُ أَحَدِكُمْ حَتَّى يُسْبِغَ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، فَيَغْسِلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ، وَيَمْسَحَ بِرَأْسِهِ وَرِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ، ثُمَّ يُكَبِّرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيَحْمَدَهُ ، ثُمَّ يَقْرَأَ مِنَ الْقُرْآنِ مَا أَذِنَ لَهُ فِيهِ وَتَيَسَّرَ . فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ حَمَّادٍ ، قَالَ : ثُمَّ يُكَبِّرَ فَيَسْجُدَ فَيُمَكِّنَ وَجْهَهُ ، قَالَ هَمَّامٌ : وَرُبَّمَا ، قَالَ : جَبْهَتَهُ مِنَ الْأَرْضِ ، حَتَّى تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُهُ وَتَسْتَرْخِيَ ، ثُمَّ يُكَبِّرَ فَيَسْتَوِيَ قَاعِدًا عَلَى مَقْعَدِهِ وَيُقِيمَ صُلْبَهُ " . فَوَصَفَ الصَّلَاةَ هَكَذَا أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ حَتَّى فَرَغَ ، لَا تَتِمُّ صَلَاةُ أَحَدِكُمْ حَتَّى يَفْعَلَ ذَلِكَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے ، اس میں ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کسی کی نماز پوری ( مکمل ) نہیں ہوتی یہاں تک کہ وہ اچھی طرح وضو کرے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا ہے ، ( یعنی ) وہ اپنا منہ اور دونوں ہاتھ کہنیوں تک دھوئے اور اپنے سر کا مسح کرے اور دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوئے ، پھر «الله اكبر» کہے ، اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کرے ، پھر قرآن میں سے جو آسان ہو اسے پڑھے “ ، پھر راوی نے حماد کی حدیث کے مانند ذکر کیا اور کہا : ” پھر وہ «الله اكبر» کہے اور سجدہ کرے تو اپنا چہرہ زمین پر ٹکا دے “ ۔ ہمام کہتے ہیں : اسحاق بن عبداللہ نے کبھی یوں کہا : اپنی پیشانی زمین پر ٹکا دے یہاں تک کہ اس کے جوڑ آرام پا لیں اور ڈھیلے ہو جائیں ، پھر «الله اكبر» کہے اور اپنے بیٹھنے کی جگہ پر سیدھا بیٹھ جائے اور اپنی پیٹھ سیدھی کر لے پھر نماز کی چاروں رکعتوں کی کیفیت فارغ ہونے تک اسی طرح بیان کی ( پھر فرمایا ) : ” تم میں سے کسی کی نماز اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک کہ وہ ایسا نہ کرے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 858
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, أخرجه النسائي (1137 وسنده صحيح) وابن ماجه (460 وسنده صحيح)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 3604) (صحیح) »
حدیث نمبر: 859
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ ، قَالَ : " إِذَا قُمْتَ فَتَوَجَّهْتَ إِلَى الْقِبْلَةِ فَكَبِّرْ ، ثُمَّ اقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَبِمَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَقْرَأَ ، وَإِذَا رَكَعْتَ فَضَعْ رَاحَتَيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ وَامْدُدْ ظَهْرَكَ ، وَقَالَ : إِذَا سَجَدْتَ فَمَكِّنْ لِسُجُودِكَ ، فَإِذَا رَفَعْتَ فَاقْعُدْ عَلَى فَخِذِكَ الْيُسْرَى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے یہی قصہ مروی ہے اس میں ہے کہ` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو اور اپنا رخ ( چہرہ ) قبلہ کی طرف کر لو تو تکبیر ( تکبیر تحریمہ ) کہو ، پھر سورۃ فاتحہ پڑھو اور قرآن مجید میں سے جس کی اللہ توفیق دے پڑھو ، پھر جب رکوع میں جاؤ تو اپنی دونوں ہتھیلیاں اپنے گھٹنوں پر رکھو اور اپنی پیٹھ برابر رکھو “ ، اور فرمایا : ” جب تم سجدہ میں جاؤ تو اپنے سجدوں میں ( پیشانی کو ) ٹکائے رکھو اور جب سجدے سے سر اٹھاؤ تو اپنی بائیں ران پر بیٹھو “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 859
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (804), صححه ابن خزيمة (638 وسنده حسن) محمد بن عمرو بن علقمة الليثي وثقه الجمھور
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : 857، (تحفة الأشراف: 3604) (حسن) »
حدیث نمبر: 860
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَلَّادِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمِّهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ ، قَالَ : " إِذَا أَنْتَ قُمْتَ فِي صَلَاتِكَ فَكَبِّرِ اللَّهَ تَعَالَى ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ عَلَيْكَ مِنَ الْقُرْآنِ ، وَقَالَ فِيهِ : فَإِذَا جَلَسْتَ فِي وَسَطِ الصَّلَاةِ فَاطْمَئِنَّ وَافْتَرِشْ فَخِذَكَ الْيُسْرَى ثُمَّ تَشَهَّدْ ، ثُمَّ إِذَا قُمْتَ فَمِثْلَ ذَلِكَ حَتَّى تَفْرُغَ مِنْ صَلَاتِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی قصہ روایت کرتے ہیں ، اس میں ہے` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو ( پہلے ) «الله اكبر» کہو ، پھر قرآن مجید میں سے جو تمہارے لیے آسان ہو پڑھو “ ، اور اس میں ہے : ” جب تم نماز کے بیچ میں بیٹھو تو اطمینان و سکون سے بیٹھو اور اپنی بائیں ران کو بچھا لو ، پھر تشہد پڑھو ، پھر جب کھڑے ہو تو ایسا ہی کرو یہاں تک کہ تم اپنی نماز سے فارغ ہو جاؤ “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 860
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, صححه ابن خزيمة (597، 638 وسندھما حسن)
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : 857، (تحفة الأشراف: 3604) (حسن) »
حدیث نمبر: 861
حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى الْخُتَّلِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلَّادِ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَصَّ هَذَا الْحَدِيثَ ، قَالَ فِيهِ : " فَتَوَضَّأْ كَمَا أَمَرَكَ اللَّهُ جَلَّ وَعَزَّ ، ثُمَّ تَشَهَّدْ فَأَقِمْ ، ثُمَّ كَبِّرْ ، فَإِنْ كَانَ مَعَكَ قُرْآنٌ فَاقْرَأْ بِهِ ، وَإِلَّا فَاحْمَدِ اللَّهَ وَكَبِّرْهُ وَهَلِّلْهُ ، وَقَالَ فِيهِ : وَإِنِ انْتَقَصْتَ مِنْهُ شَيْئًا انْتَقَصْتَ مِنْ صَلَاتِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( فرمایا ) ، پھر انہوں نے یہی حدیث بیان کی اس میں ہے : ” پھر وضو کرو جس طرح اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے ، پھر تشہد پڑھو ۱؎ ، پھر اقامت کہو ، پھر «الله اكبر» کہو ، پھر اگر تمہیں کچھ قرآن یاد ہو تو اسے پڑھو ، ورنہ «الحمد لله ، الله أكبر ، لا إله إلا الله» کہو “ ، اور اس میں ہے کہ : ” اگر تم نے اس میں سے کچھ کم کیا تو اپنی نماز میں سے کم کیا “ ۔
وضاحت:
۱؎: تشہد سے مراد وضو کے بعد کی دعا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 861
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, أخرجه النسائي (668 وسنده صحيح) وصححه ابن خزيمة (545 وسنده صحيح)
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : 857، (تحفة الأشراف: 3604) (صحیح) »
حدیث نمبر: 862
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ الْحَكَمِ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ مَحْمُودٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَقْرَةِ الْغُرَابِ ، وَافْتِرَاشِ السَّبْعِ ، وَأَنْ يُوَطِّنَ الرَّجُلُ الْمَكَانَ فِي الْمَسْجِدِ كَمَا يُوَطِّنُ الْبَعِيرُ " . هَذَا لَفْظُ قُتَيْبَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن بن شبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوے کی طرح چونچ مارنے ۱؎ ، درندے کی طرح بازو بچھانے ۲؎ ، اور اونٹ کے مانند آدمی کے مسجد میں اپنے لیے ایک جگہ متعین کر لینے سے ( جیسے اونٹ متعین کر لیتا ہے ) منع فرمایا ہے ( یہ قتیبہ کے الفاظ ہیں ) ۔
وضاحت:
۱؎: کوے کی طرح چونچ مارنے سے مراد ارکان نماز کی ادائیگی جلدی جلدی کرنا ہے۔
۲؎: درندے کی طرح بازو بچھانے سے مراد سجدے میں دونوں ہاتھ کو زمین سے لگانا اور پیٹ کو رانوں سے ملا کر رکھنا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 862
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, نسائي (1113) ابن ماجه (1429), تميم بن محمود ضعفه البخاري والجمھور و ضعفه راجح, وللحديث شاھد ضعيف في مسند أحمد (447/5), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 44
تخریج حدیث « سنن النسائی/الافتتاح 145 (1113)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 204 (1429)، (تحفة الأشراف: 9701)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/428، 444)، سنن الدارمی/الصلاة 75 (1362) (حسن) »
حدیث نمبر: 863
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَالِمٍ الْبَرَّادِ ، قَالَ : أَتَيْنَا عُقْبَةَ بْنَ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيَّ أَبَا مَسْعُود ، فَقُلْنَا لَهُ حَدِّثْنَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ بَيْنَ أَيْدِينَا فِي الْمَسْجِدِ " فَكَبَّرَ ، فَلَمَّا رَكَعَ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَجَعَلَ أَصَابِعَهُ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ وَجَافَى بَيْنَ مِرْفَقَيْهِ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ ، ثُمَّ قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، فَقَامَ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ وَوَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى الْأَرْضِ ، ثُمَّ جَافَى بَيْنَ مِرْفَقَيْهِ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَجَلَسَ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ ، فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ أَيْضًا ، ثُمَّ صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ مِثْلَ هَذِهِ الرَّكْعَةِ فَصَلَّى صَلَاتَهُ " . ثُمَّ قَالَ : هَكَذَا رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سالم براد کہتے ہیں کہ` ہم ابومسعود عقبہ بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو ہم نے ان سے کہا : ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق بتائیے تو وہ مسجد میں ہمارے سامنے کھڑے ہوئے ، پھر انہوں نے «الله اكبر» کہا ، پھر جب وہ رکوع میں گئے تو انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھے اور اپنی انگلیاں اس سے نیچے رکھیں اور اپنی دونوں کہنیوں کے درمیان فاصلہ رکھا یہاں تک کہ ہر ایک عضو اپنے اپنے مقام پر جم گیا ، پھر انہوں نے «سمع الله لمن حمده» کہا اور کھڑے ہوئے یہاں تک کہ ہر عضو اپنی جگہ پر آ کر ٹھہر گیا ، پھر «الله اكبر» کہہ کر سجدہ کیا اور اپنی دونوں ہتھیلیاں زمین پر رکھیں اور اپنی دونوں کہنیوں کے درمیان فاصلہ رکھا یہاں تک کہ ہر عضو اپنے مقام پر آ کر ٹھہر گیا ، پھر اپنا سر اٹھایا اور بیٹھے یہاں تک کہ ہر عضو اپنے مقام پر آ کر ٹھہر گیا ، پھر دوبارہ ایسا ہی کیا ، پھر چاروں رکعتیں اسی کی طرح پڑھیں ( اس طرح ) انہوں نے اپنی نماز پوری کی پھر کہا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 863
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, أخرجه النسائي (1037 وسنده حسن) عطاء بن السائب حدث قبل اختلاطه
تخریج حدیث « سنن النسائی/الافتتاح 93 (1037)، (تحفة الأشراف: 9985)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/119، 120، 5/247)، سنن الدارمی/الصلاة 68(1343) (صحیح) »