کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: دونوں سجدوں کے درمیان اقعاء کرنے یعنی ایڑیوں پر بیٹھنے کا حکم۔
حدیث نمبر: 845
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا ، يَقُولُ : قُلْنَا لِابْنِ عَبَّاسٍ فِي "الْإِقْعَاءِ عَلَى الْقَدَمَيْنِ فِي السُّجُودِ ، فَقَالَ : هِيَ السُّنَّةُ ، قَالَ : قُلْنَا : إِنَّا لَنَرَاهُ جُفَاءً بِالرَّجُلِ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : هِيَ سُنَّةُ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´طاؤس کہتے ہیں کہ` ہم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا : دونوں سجدوں کے بیچ میں دونوں قدموں پر اقعاء ۱؎ ( سرین کو ایڑیوں پر رکھ کر پنجے کو کھڑا کر کے بیٹھنا ) کیسا ہے ؟ تو انہوں نے کہا : یہ سنت ہے ۔ طاؤس کہتے ہیں : ہم نے کہا : ہم تو اسے آدمی کے ساتھ زیادتی سمجھتے تھے تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : یہ تیرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یہ اقعاء کی مسنون صورت ہے جو دونوں سجدوں کے درمیان کی بیٹھک کے ساتھ مخصوص ہے، رہی اقعاء کی ممنوع صورت جس سے حدیث میں روکا گیا ہے، تو وہ کتے کی طرح چوتڑ اور دونوں ہاتھ زمین پر رکھ کر دونوں پنڈلیوں اور رانوں کو کھڑا کرکے بیٹھنا ہے یا تشہد کی حالت میں دونوں قدموں کو گاڑ کر ایڑیوں پر بیٹھنا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 845
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (536)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/المساجد 6 (536)، سنن الترمذی/الصلاة 98 (283)، (تحفة الأشراف: 5753)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/313) (صحیح) »