حدیث نمبر: 805
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِ وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ ، وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوجِ وَنَحْوِهِمَا مِنَ السُّوَرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر میں «والسماء والطارق» ، «والسماء ذات البروج» اور ان دونوں جیسی سورتیں پڑھتے تھے ۔
حدیث نمبر: 806
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا دَحَضَتِ الشَّمْسُ صَلَّى الظُّهْرَ ، وَقَرَأَ بِنَحْوٍ مِنْ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى ، وَالْعَصْرِ كَذَلِكَ ، وَالصَّلَوَاتِ كَذَلِكَ إِلَّا الصُّبْحَ فَإِنَّهُ كَانَ يُطِيلُهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سورج ڈھل جاتا تو ظہر پڑھتے اور اس میں «والليل إذا يغشى» جیسی سورت پڑھتے تھے ، اسی طرح عصر میں اور اسی طرح بقیہ نمازوں میں پڑھتے سوائے فجر کے کہ اسے لمبی کرتے ۔
حدیث نمبر: 807
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَهُشَيْمٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " سَجَدَ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ ، ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ ، فَرَأَيْنَا أَنَّهُ قَرَأَ تَنْزِيلَ السَّجْدَةِ " . قَالَ ابْنُ عِيسَى : لَمْ يَذْكُرْ أُمَيَّةَ أَحَدٌ إِلَّا مُعْتَمِرٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر میں سجدہ کیا پھر کھڑے ہوئے اور رکوع کیا تو ہم نے جانا کہ آپ نے الم تنزیل السجدہ پڑھی ہے ۔ ابن عیسیٰ کہتے ہیں : معتمر کے علاوہ کسی نے بھی ( سند میں ) امیہ کا ذکر نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 808
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَالِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فِي شَبَابٍ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ ، فَقُلْنَا لِشَابٍّ مِنَّا : سَلْ ابْنَ عَبَّاسٍ " أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ؟ فَقَالَ : لَا ، لَا . فَقِيلَ لَهُ : فَلَعَلَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي نَفْسِهِ ، فَقَالَ : خَمْشًا هَذِهِ شَرٌّ مِنَ الْأُولَى كَانَ عَبْدًا مَأْمُورًا ، بَلَّغَ مَا أُرْسِلَ بِهِ ، وَمَا اخْتَصَّنَا دُونَ النَّاسِ بِشَيْءٍ إِلَّا بِثَلَاثِ خِصَالٍ : " أَمَرَنَا أَنْ نُسْبِغَ الْوُضُوءَ ، وَأَنْ لَا نَأْكُلَ الصَّدَقَةَ ، وَأَنْ لَا نُنْزِيَ الْحِمَارَ عَلَى الْفَرَسِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عبیداللہ کہتے ہیں کہ` میں بنی ہاشم کے کچھ نوجوانوں کے ہمراہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا تو ہم نے اپنے میں سے ایک نوجوان سے کہا : تم ابن عباس سے پوچھو کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر میں قرآت کرتے تھے ؟ ابن عباس نے کہا : نہیں ، نہیں ، تو ان سے کہا گیا : شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جی میں قرآت کرتے رہے ہوں ، اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : اللہ تمہارے چہرے یا چمڑے میں خراش کرے ! یہ پہلی سے بھی بری ہے ۱؎ ، آپ ایک مامور ( حکم کے پابند ) بندے تھے ، آپ کو جو حکم ملتا وہی لوگوں کو پہنچاتے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم ( بنی ہاشم ) کو کوئی مخصوص حکم نہیں دیا سوائے تین باتوں کے : ایک یہ کہ ہم کامل وضو کریں دوسرے یہ کہ صدقہ نہ کھائیں ، تیسرے یہ کہ گدھے کو گھوڑی پر نہ چڑھائیں ۔
وضاحت:
۱؎: یہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا وہم ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ظہر اور عصر کی پہلی دونوں رکعتوں میں سورہ فاتحہ اور دوسری سورت کا پڑھنا ثابت ہے، اوپر ابوقتادہ رضی اللہ عنہ اور خباب رضی اللہ عنہ کی روایتیں گزر چکی ہیں جو صریح طور سے اس پر دلالت کرتی ہیں۔
حدیث نمبر: 809
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لَا أَدْرِي أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ أَمْ لَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` مجھے نہیں معلوم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر میں قرآت کرتے تھے یا نہیں ۔