کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: ظہر کی قرآت کا بیان۔
حدیث نمبر: 797
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، وَعُمَارَةَ بْنِ مَيْمُونٍ ، وَحَبِيبٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " فِي كُلِّ صَلَاةٍ يُقْرَأُ ، فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ ، وَمَا أَخْفَى عَلَيْنَا أَخْفَيْنَا عَلَيْكُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عطاء بن ابی رباح سے روایت ہے کہ` ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : ” ہر نماز میں قرآت کی جاتی ہے تو جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بالجہر سنایا ہم نے بھی تمہیں ( جہراً ) سنا دیا اور جسے آپ نے چھپایا ہم نے بھی اسے تم سے چھپایا ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اس میں جہر نہیں کیا اسے آہستہ سے پڑھا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 797
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (772) صحيح مسلم (396)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الصلاة 11 (396)، (تحفة الأشراف: 14172)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 104 (772)، سنن النسائی/الافتتاح 54 (970)، مسند احمد (2/ 258، 273، 285، 301، 343، 348، 411، 416، 435، 487) (صحیح) »
حدیث نمبر: 798
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ الْحَجَّاجِ ، وَهَذَا لَفْظُهُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى وَأَبِي سَلَمَةَ : ثُمَّ اتَّفَقَا عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي بِنَا ، فَيَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ، وَسُورَتَيْنِ ، وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا ، وَكَانَ يُطَوِّلُ الرَّكْعَةَ الْأُولَى مِنَ الظُّهْرِ ، وَيُقَصِّرُ الثَّانِيَةَ ، وَكَذَلِكَ فِي الصُّبْحِ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : لَمْ يَذْكُرْ مُسَدَّدٌ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ وَسُورَةً .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھاتے تو ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورۃ فاتحہ اور ایک ایک سورت پڑھتے تھے اور کبھی ہمیں ( ایک آدھ ) آیت سنا دیتے تھے ، اور آپ ظہر کی پہلی رکعت لمبی اور دوسری رکعت چھوٹی کرتے ، اور اسی طرح صبح کی نماز میں کرتے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مسدد نے «فاتحة الكتاب» اور «سورة» کا ذکر نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 798
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (762) صحيح مسلم (451)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الأذان 96 (759)، 97 (762)، 107 (776)، 109 (887)، 110 (779)، صحیح مسلم/الصلاة 34 (451)، سنن النسائی/الافتتاح 56(975)، 57(976)، 58 (977)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 8 (829)، (تحفة الأشراف: 12108)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/383، 5/295، 297، 300، 301، 305، 307، 308، 310، 311، 383) (صحیح) »
حدیث نمبر: 799
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، وَأَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، بِبَعْضِ هَذَا ، وَزَادَ فِي الْأُخْرَيَيْنِ : بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ، وَزَادَ . عَنْ هَمَّامٍ ، قَالَ : " وَكَانَ يُطَوِّلُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مَا لَا يُطَوِّلُ فِي الثَّانِيَةِ ، وَهَكَذَا فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ ، وَهَكَذَا فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے گزشتہ حدیث کے بعض حصے مروی ہیں ، اور اس میں اتنا اضافہ ہے کہ` آپ پچھلی دونوں رکعتوں میں ( صرف ) سورۃ فاتحہ پڑھتے تھے اور حسن بن علی نے بواسطہ «يزيد بن هارون عن همام» اتنی زیادتی اور کی ہے کہ آپ پہلی رکعت اتنی لمبی کرتے جتنی دوسری نہیں کرتے تھے اور اسی طرح عصر میں اور اسی طرح فجر میں ( بھی کرتے تھے ) ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 799
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (776) صحيح مسلم (451)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 12108) (صحیح) »
حدیث نمبر: 800
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : فَظَنَنَّا أَنَّهُ يُرِيدُ بِذَلِكَ أَنْ يُدْرِكَ النَّاسُ الرَّكْعَةَ الْأُولَى .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہمارا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا اس لیے کرتے تھے کہ لوگ پہلی رکعت پا جائیں ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 800
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (776) صحيح مسلم (451)
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : 798، (تحفة الأشراف: 12108) (صحیح) »
حدیث نمبر: 801
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، قَالَ : قُلْنَا لِخَبَّابٍ " هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قُلْنَا : بِمَ كُنْتُمْ تَعْرِفُونَ ذَاكَ ؟ قَالَ : بِاضْطِرَابِ لِحْيَتِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابومعمر کہتے ہیں کہ` ہم نے خباب رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر و عصر میں قرآت کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ( قرآت کرتے تھے ) ، ہم نے کہا : آپ لوگوں کو یہ بات کیسے معلوم ہوتی تھی ؟ انہوں نے کہا : آپ کی داڑھی کے ہلنے سے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: امام بیہقی نے اس حدیث سے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ سری قرات میں یہ ضروری ہے کہ آدمی خود کو سنا سکے کیونکہ «اضطراب لحية» زبان اور دونوں ہونٹ ہلے بغیر ممکن نہیں اگر آدمی اپنے دونوں ہونٹ بند رکھے اور صرف زبان ہلائے تو داڑھی نہیں ہل سکتی اور قرات خود کو نہیں سنا سکتا (فتح الباری، حدیث: ۷۶۰)
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 801
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (746)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الأذان 91 (746)، 96 (760)، 97، 108 (777)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 7 (826)، (تحفة الأشراف: 3517)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/109،110، 112، 6/395) (صحیح) »
حدیث نمبر: 802
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَقُومُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ حَتَّى لَا يُسْمَعَ وَقْعُ قَدَمٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی رکعت میں اتنی دیر تک قیام کرتے تھے کسی قدم کی آہٹ نہیں سنی جاتی ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی جماعت میں آنے والے سب آ چکے ہوتے کوئی باقی نہیں رہتا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 802
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ’’ رجل ‘‘ مجهول،ولم يأت تعينه في السند المقبول, وحديث البيهقي (66/2) ضعيف جدًا, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 42
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداو، (تحفة الأشراف: 5185)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/356) (ضعیف) » (اس کی سند میں رجل مبہم راوی ہیں)