مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: نماز میں رفع الیدین (دونوں ہاتھ اٹھانے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 721
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ مَنْكِبَيْهِ ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ وَبَعْدَ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً : وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ وَأَكْثَرُ مَا كَانَ يَقُولُ : وَبَعْدَ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَلَا يَرْفَعُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، جب آپ نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ، یہاں تک کہ اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل لے جاتے ، اور جب رکوع کرنے کا ارادہ کرتے ( تو بھی اسی طرح کرتے ) ، اور رکوع سے اپنا سر اٹھانے کے بعد بھی ۔ سفیان نے ( ” اور رکوع سے اپنا سر اٹھانے کے بعد بھی “ کے بجائے ) ایک مرتبہ یوں نقل کیا : ” اور جب آپ اپنا سر اٹھاتے “ ، اور زیادہ تر سفیان نے : ” رکوع سے اپنا سر اٹھانے کے بعد “ کے الفاظ ہی کی روایت کی ہے ، اور آپ دونوں سجدوں کے درمیان رفع یدین نہیں کرتے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 721
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (735، 736، 738) صحيح مسلم (390)
حدیث تخریج « صحیح البخاری/الأذان 83 (735)، 84 (736)، 85 (738)، 86 (739)، صحیح مسلم/الصلاة 9 (390)، سنن الترمذی/الصلاة 76 (255، 256)، سنن النسائی/الافتتاح 1 (875)، 86 (1026)، والتطبیق 19 (1058)، 21 (1060)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 15 (858)، موطا امام مالک/الصلاة 4(16)، مسند احمد (2 /8، 18، 44، 45، 47، 62، 100، 147)، سنن الدارمی/الصلاة 41 (1285)، 71 (1347)، (تحفة الأشراف: 6816، 6841) (صحیح) »
حدیث نمبر: 722
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى تَكُونَ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ كَبَّرَ ، وَهُمَا كَذَلِكَ فَيَرْكَعُ ، ثُمَّ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْفَعَ صُلْبَهُ رَفَعَهُمَا حَتَّى تَكُونَ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، وَلَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي السُّجُودِ وَيَرْفَعُهُمَا فِي كُلِّ تَكْبِيرَةٍ يُكَبِّرُهَا قَبْلَ الرُّكُوعِ حَتَّى تَنْقَضِيَ صَلَاتُهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ( رفع یدین کرتے ) ، یہاں تک کہ وہ آپ کے دونوں کندھوں کے مقابل ہو جاتے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم «الله أكبر» کہتے ، اور وہ دونوں ہاتھ اسی طرح ہوتے ، پھر رکوع کرتے ، پھر جب رکوع سے اپنی پیٹھ اٹھانے کا ارادہ کرتے تو بھی ان دونوں کو اٹھاتے ( رفع یدین کرتے ) یہاں تک کہ وہ آپ کے کندھوں کے بالمقابل ہو جاتے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم «سمع الله لمن حمده» کہتے ، اور سجدے میں اپنے دونوں ہاتھ نہ اٹھاتے ، اور رکوع سے پہلے ہر تکبیر کے وقت دونوں ہاتھ اٹھاتے ، یہاں تک کہ آپ کی نماز پوری ہو جاتی ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 722
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, ورواه ابن أبي أخي الزھري عن الزھري به عند أحمد (2/133، 134) وابن الجارود (178) وسنده حسن
حدیث تخریج « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 6816، 6928) (صحیح) »
حدیث نمبر: 723
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ الْجُشَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، قَالَ : كُنْتُ غُلَامًا لَا أَعْقِلُ صَلَاةَ أَبِي ، قَالَ : فَحَدَّثَنِي وَائِلُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، عَنْ أَبِي وَائِلِ بْنِ حُجْر ، قَالَ : " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ إِذَا كَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْهِ ، قَالَ : ثُمَّ الْتَحَفَ ثُمَّ أَخَذَ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ وَأَدْخَلَ يَدَيْهِ فِي ثَوْبِهِ ، قَالَ : فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ أَخْرَجَ يَدَيْهِ ثُمَّ رَفَعَهُمَا ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَ يَدَيْهِ ثُمَّ سَجَدَ وَوَضَعَ وَجْهَهُ بَيْنَ كَفَّيْهِ ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ أَيْضًا رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ " ، قَالَ مُحَمَّدٌ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، فَقَالَ : هِيَ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَعَلَهُ مَنْ فَعَلَهُ وَتَرَكَهُ مَنْ تَرَكَهُ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ هَمَّامٌ، عَنْ ابْنِ جُحَادَةَ ، لَمْ يَذْكُرِ الرَّفْعَ مَعَ الرَّفْعِ مِنَ السُّجُودِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ، جب آپ نے تکبیر ( تحریمہ ) کہی تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ کو پکڑا ، اور انہیں اپنے کپڑے میں داخل کر لیا ، جب آپ نے رکوع کا ارادہ کیا تو اپنے دونوں ہاتھ ( چادر سے ) نکالے پھر رفع یدین کیا ، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھانے کا ارادہ کیا تو رفع یدین کیا ، پھر سجدہ کیا اور اپنی پیشانی کو دونوں ہتھیلیوں کے بیچ میں رکھا ، اور جب سجدے سے اپنا سر اٹھایا تو رفع یدین ۱؎ کیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو گئے ۔ محمد کہتے ہیں : میں نے حسن بصری سے اس کا ذکر کیا ، تو انہوں نے کہا : یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ہے ، کرنے والوں نے ایسا ہی کیا اور چھوڑنے والوں نے اسے چھوڑ دیا ۔ أبوداود کہتے ہیں : اس حدیث کو ہمام نے بھی ابن جحادہ سے روایت کیا ہے ، لیکن انہوں نے سجدے سے اٹھتے وقت رفع یدین کا ذکر نہیں کیا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: مؤلف کے سوا کسی کے یہاں بھی سجدے سے اٹھتے وقت رفع یدین کا ذکر نہیں ہے، اکثر علماء کے نزدیک مؤلف کی یہ روایت منسوخ ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 723
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, شاذ, وقوله ’’ وإذا رفع رأسه من السجود أيضًا رفع يديه ‘‘ شاذ مخالف لحديث مسلم (401) وغيره ومعناه إن صح: ’’إذا رفع رأسه من سجود الركعة الثانية وأراد أن يقوم من التشھد رفع يديه ‘‘, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 38
حدیث تخریج « صحیح مسلم/الصلاة 15 (401)، (تحفة الأشراف: 11774، 11788)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الافتتاح 11 (890)، الافتتاح 139 (1103)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 3 (810)، مسند احمد (4/317، 318)، سنن الدارمی/الصلاة 35 (1217)، 92 (1397) (ولیس عند أحد ذکر رفع الیدین مع الرفع من السجود) (صحیح) »
حدیث نمبر: 724
حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ النَّخَعِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، " أَنَّهُ أَبْصَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى كَانَتَا بِحِيَالِ مَنْكِبَيْهِ وَحَاذَى بِإِبْهَامَيْهِ أُذُنَيْهِ ثُمَّ كَبَّرَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رفع یدین کیا یہاں تک کہ آپ کے دونوں ہاتھ دونوں مونڈھوں کے بالمقابل ہوئے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں انگوٹھے دونوں کانوں کے بالمقابل ہوئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الله أكبر» کہا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 724
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, عبدالجبار بن وائل لم يسمع من أبيه : قاله البخاري (سنن الترمذي : 1453), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 38
حدیث تخریج « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11761) (ضعیف) » (عبدالجبار کی اپنے والد سے روایت ثابت نہیں ہے، نیز «کبر» کا لفظ منکر ہے، کیونکہ تکبیر رفع الیدین کے پہلے ہوگی یا ساتھ میں، رفع الیدین کے بعد نہیں جیسا کہ اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے)
حدیث نمبر: 725
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَائِلٍ ، حَدَّثَنِي أَهْلُ بَيْتِي ، عَنْ أَبِي ، أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ ، أَنَّهُ " رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ مَعَ التَّكْبِيرَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالجبار بن وائل کہتے ہیں : مجھ سے میرے گھر والوں نے بیان کیا کہ میرے والد نے ان سے بیان کیا کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکبیر کے ساتھ اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 725
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, أھل بيت عبدالجبار : مجهولون،كما قال المنذري (عون المعبود 1/ 264), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 38
حدیث تخریج « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11791)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/316) (صحیح) »
حدیث نمبر: 726
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، قَالَ : قُلْتُ لَأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي ، قَالَ : " فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَكَبَّرَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا أُذُنَيْهِ ، ثُمَّ أَخَذَ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَهُمَا مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا مِثْلَ ذَلِكَ ، فَلَمَّا سَجَدَ وَضَعَ رَأْسَهُ بِذَلِكَ الْمَنْزِلِ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ ، ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى وَحَدَّ مِرْفَقَهُ الْأَيْمَنَ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى وَقَبَضَ ثِنْتَيْنِ وَحَلَّقَ حَلْقَةً ، وَرَأَيْتُهُ يَقُولُ هَكَذَا : وَحَلَّقَ بِشْرٌ الْإِبْهَامَ وَالْوُسْطَى وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے کہا : میں ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز دیکھوں گا کہ آپ کس طرح نماز ادا کرتے ہیں ؟ ( میں نے دیکھا ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رخ کھڑے ہوئے اور آپ نے ” اللہ اکبر “ کہا ، پھر دونوں ہاتھوں کو اٹھایا یہاں تک کہ وہ دونوں کانوں کے بالمقابل ہو گئے ، پھر اپنے دائیں ہاتھ سے اپنے بائیں ہاتھ کو پکڑا ، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کا ارادہ کیا تو بھی اسی طرح ہاتھوں کو اٹھایا ، پھر دونوں ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھے ، پھر رکوع سے سر اٹھاتے وقت بھی انہیں اسی طرح اٹھایا ، پھر جب سجدہ کیا تو اپنے سر کو اپنے دونوں ہاتھوں کے بیچ اس جگہ پہ رکھا ، پھر بیٹھے تو اپنا بایاں پیر بچھایا ، اور بائیں ہاتھ کو اپنی بائیں ران پر رکھا ، اور اپنی داہنی کہنی کو داہنی ران سے جدا رکھا اور دونوں انگلیوں ( خنصر ، بنصر ) کو بند کر لیا اور دائرہ بنا لیا ( یعنی بیچ کی انگلی اور انگوٹھے سے ) ۔ بشر بن مفضل بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے شیخ عاصم بن کلیب کو دیکھا وہ اسی طرح کرتے تھے ، اور بشر نے انگوٹھے اور بیچ کی انگلی کا دائرہ بنایا اور انگشت شہادت سے اشارہ کیا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 726
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, صححه ابن خزيمة (480، 714 وسندھما صحيح)
حدیث تخریج « سنن النسائی/ الافتتاح 11 (890)، سنن ابن ماجہ/ إقامة الصلاة 3 (810)، (تحفة الأشراف: 11781)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/316، 317، 318، 319) (صحیح) ویأتی ہذا الحدیث عند المؤلف برقم (957) »
حدیث نمبر: 727
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ ، قَالَ فِيهِ : ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى ظَهْرِ كَفِّهِ الْيُسْرَى وَالرُّسْغِ وَالسَّاعِدِ : وَقَالَ فِيهِ : ثُمَّ جِئْتُ بَعْدَ ذَلِكَ فِي زَمَانٍ فِيهِ بَرْدٌ شَدِيدٌ فَرَأَيْتُ النَّاسَ عَلَيْهِمْ جُلُّ الثِّيَابِ تَحَرَّكُ أَيْدِيهِمْ تَحْتَ الثِّيَاب
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عاصم بن کلیب نے اس سند سے بھی اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے ، اس میں یہ ہے کہ` پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا داہنا ہاتھ بائیں ہتھیلی کی پشت پہنچے اور کلائی پر رکھا ، اس میں یہ بھی ہے کہ پھر میں سخت سردی کے زمانہ میں آیا تو میں نے لوگوں کو بہت زیادہ کپڑے پہنے ہوئے دیکھا ، ان کے ہاتھ کپڑوں کے اندر ہلتے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 727
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, انظر الحديث السابق (726)
حدیث تخریج « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11781) (صحیح) »
حدیث نمبر: 728
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، قَالَ : " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حِيَالَ أُذُنَيْهِ ، قَالَ : ثُمَّ أَتَيْتُهُمْ فَرَأَيْتُهُمْ يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ إِلَى صُدُورِهِمْ فِي افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ وَعَلَيْهِمْ بَرَانِسُ وَأَكْسِيَةٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جس وقت آپ نے نماز شروع کی اپنے دونوں ہاتھوں کو کانوں کے بالمقابل اٹھایا ، پھر میں ( ایک زمانہ کے بعد ) لوگوں کے پاس آیا تو میں نے انہیں دیکھا کہ وہ نماز شروع کرتے وقت اپنے ہاتھ اپنے سینوں تک اٹھاتے اور حال یہ ہوتا کہ ان پر جبے اور چادریں ہوتیں ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 728
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, شريك عنعن في ھذا المتن وھو مدلس, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 38
حدیث تخریج « سنن النسائی/ السہو 31 (1266)، (تحفة الأشراف: 11783) (صحیح) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔