مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: کن چیزوں کے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے؟
حدیث نمبر: 702
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ مُطَهَّرٍ ، وَابْنُ كَثِيرٍ الْمَعْنَى ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ الْمُغِيرَةِ أَخْبَرَهُمْ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ حَفْصٌ : قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَقْطَعُ صَلَاةَ الرَّجُلِ ، وَقَالَا : عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ أَبُو ذَرٍّ : يَقْطَعُ صَلَاةَ الرَّجُلِ إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْهِ قَيْدُ آخِرَةِ الرَّحْلِ الْحِمَارُ وَالْكَلْبُ الْأَسْوَدُ وَالْمَرْأَةُ ، فَقُلْتُ : مَا بَالُ الْأَسْوَدِ مِنَ الْأَحْمَرِ مِنَ الْأَصْفَرِ مِنَ الْأَبْيَضِ ؟ فَقَالَ : يَا ابْنَ أَخِي ، سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي ، فَقَالَ : الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ شَيْطَانٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ( حفص کی روایت میں ہے ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور سلیمان کی روایت میں ہے کہ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا جب آدمی کے سامنے کجاوہ کے اگلے حصہ کی لکڑی کے برابر کوئی چیز نہ ہو ، تو گدھے ، کالے کتے اور عورت کے گزر جانے سے اس کی نماز ٹوٹ جائے گی ۱؎ ۔ میں نے عرض کیا : سرخ ، زرد یا سفید رنگ کے کتے کے مقابلے میں کالے کتے کی کیا وجہ ہے ؟ تو انہوں نے کہا : میرے بھتیجے ! میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے ہی پوچھا تھا جیسے تم نے مجھ سے پوچھا ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کالا کتا شیطان ہے “ ۔
وضاحت:
۱؎: جمہور علماء نے اس روایت کی تاویل یہ کی ہے کہ نماز ٹوٹنے سے مراد نماز میں نقص پیدا ہونا ہے، کیونکہ ان چیزوں کے گزرنے سے مصلی کا دھیان بٹ جاتا ہے اور خشوع و خضوع میں فرق آ جاتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب ما يقطع الصلاة وما لا تقطعها / حدیث: 702
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (510)
حدیث تخریج « صحیح مسلم/الصلاة 50 (510)، سنن الترمذی/الصلاة 141 (338)، سنن النسائی/القبلة 7 (751)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 38 (952)، (تحفة الأشراف: 11939)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/149، 151، 155، 160، 161)، سنن الدارمی/الصلاة 128 (1454) (صحیح) »
حدیث نمبر: 703
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، رَفَعَهُ شُعْبَةُ قَالَ : " يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْمَرْأَةُ الْحَائِضُ وَالْكَلْبُ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَقَفَهُ سَعِيدٌ ، وَهِشَامٌ ، وَهَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں` ( شعبہ نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے ) : ” نماز حائضہ عورت اور کتا ( مصلی کے سامنے گزرنے ) سے نماز ٹوٹ جاتی ہے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے سعید ، ہشام اور ہمام نے قتادہ سے ، قتادہ نے جابر بن زید سے ، جابر نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے موقوفاً یعنی ان کا اپنا قول نقل کیا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب ما يقطع الصلاة وما لا تقطعها / حدیث: 703
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, صححه ابن خزيمة (832)
حدیث تخریج « سنن النسائی/القبلہ 7 (752)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 38 (949)، مسند احمد (1/437)، (تحفة الأشراف: 5379) (صحیح) »
حدیث نمبر: 704
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَحْسَبُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى غَيْرِ سُتْرَةٍ ، فَإِنَّهُ يَقْطَعُ صَلَاتَهُ الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْخِنْزِيرُ وَالْيَهُودِيُّ وَالْمَجُوسِيُّ وَالْمَرْأَةُ ، وَيُجْزِئُ عَنْهُ إِذَا مَرُّوا بَيْنَ يَدَيْهِ عَلَى قَذْفَةٍ بِحَجَرٍ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : فِي نَفْسِي مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ شَيْءٌ كُنْتُ أُذَاكِرُ بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَغَيْرَهُ ، فَلَمْ أَرَ أَحَدًا جَاءَ بِهِ عَنْ هِشَامٍ وَلَا يَعْرِفُهُ ، وَلَمْ أَرَ أَحَدًا يُحَدِّثُ بِهِ عَنْ هِشَامٍ ، وَأَحْسَبُ الْوَهْمَ مِنْ ابْنِ أَبِي سَمِينَةَ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ الْبَصْرِيَّ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ وَالْمُنْكَرُ فِيهِ ذِكْرُ الْمَجُوسِيِّ ، وَفِيهِ عَلَى قَذْفَةٍ بِحَجَرٍ وَذِكْرُ الْخِنْزِيرِ وَفِيهِ نَكَارَةٌ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَلَمْ أَسْمَعْ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَّا مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي سَمِينَةَ ، وَأَحْسَبُهُ وَهِمَ لِأَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُنَا مِنْ حِفْظِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں ، عکرمہ کہتے ہیں کہ` میرا گمان ہے کہ وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں : ” جب تم میں سے کوئی شخص بغیر سترہ کے نماز پڑھے تو اس کی نماز کتا ، گدھا ، سور ، یہودی ، مجوسی اور عورت کے گزرنے سے باطل ہو جاتی ہے ، البتہ اگر یہ ایک پتھر کی مار کی دوری سے گزریں تو نماز ہو جائے گی “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس حدیث کے سلسلے میں میرے دل میں کچھ کھٹک اور شبہ ہے ، میں اس حدیث کے متعلق ابراہیم اور دوسرے لوگوں سے مذاکرہ کرتا یعنی پوچھتا تھا کہ کیا معاذ کے علاوہ کسی اور نے بھی یہ حدیث ہشام سے روایت کی ہے ، تو کسی نے مجھے اس کا جواب نہیں دیا اور کسی کو نہیں معلوم تھا کہ اسے ہشام سے کسی اور نے بھی روایت کیا ہے یا نہیں ، اور نہ ہی میں نے کسی کو اسے ہشام سے روایت کرتے دیکھا ( سوائے معاذ کے ) ، میرا خیال ہے کہ یہ ابن ابی سمینہ ( یعنی بنی ہاشم کے آزاد کردہ غلام محمد بن اسماعیل بصریٰ ) کا وہم ہے ، اس میں مجوسی کا ذکر منکر ہے ، اور اس میں پتھر کی مار کی دوری ، اور خنزیر کا ذکر ہے ، اس میں بھی نکارت ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے یہ حدیث محمد بن اسماعیل بن سمینہ کے علاوہ کسی اور سے نہیں سنی ، اور میرا خیال ہے کہ انہیں وہم ہوا ہے ، کیونکہ وہ ہم سے اپنے حافظے سے حدیثیں بیان کیا کرتے تھے
حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب ما يقطع الصلاة وما لا تقطعها / حدیث: 704
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, ضعيف, شك الراوي في رفعه وفيه علة أخري وھي عنعنة يحيي بن أبي كثير فإنه مدلس, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 37
حدیث تخریج « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6245) (ضعیف) » (ابن أبی سمینہ ثقہ راوی ہیں، ممکن ہے یحییٰ بن أبی کثیر سے وہم واقع ہوا ہو، نیز یحییٰ مدلس ہیں، ممکن ہے تدلیس سے کام لے کر موقوف کو «أحسبہ» کے ذریعہ مرفوع بنا دیا ہو، ابن عباس رضی اللہ عنہما پر موقوفاً یہ روایت صحیح ہے)
حدیث نمبر: 705
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ مَوْلَى يَزِيدَ بْنِ نِمْرَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ نِمْرَانَ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَجُلًا بِتَبُوكَ مُقْعَدًا ، فَقَالَ مَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عَلَى حِمَارٍ وَهُوَ يُصَلِّي ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اقْطَعْ أَثَرَهُ " ، فَمَا مَشَيْتُ عَلَيْهَا بَعْدُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´یزید بن نمران کہتے ہیں کہ` میں نے تبوک میں ایک اپاہج کو دیکھا ، اس نے کہا : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گدھے پر سوار ہو کر گزرا اور آپ نماز پڑھ رہے تھے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے اللہ ! اس کی چال کاٹ دے “ ، تو میں اس دن کے بعد سے گدھے پر سوار ہو کر چل نہیں سکا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب ما يقطع الصلاة وما لا تقطعها / حدیث: 705
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سعيد مولي ليزيد بن نمران مجهول (تقريب : 2430), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 38
حدیث تخریج « تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف: 15684)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/64، 5/376) (ضعیف) » (اس کے راوی مولی یزید مجہول ہیں)
حدیث نمبر: 706
حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ يَعْنِي الْمَذْحِجِيَّ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيْوَةَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ زَادَ ، قَالَ : قَطَعَ صَلَاتَنَا قَطَعَ اللَّهُ أَثَرَهُ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَرَوَاهُ أَبُو مُسْهِرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، قَالَ فِيهِ : قَطَعَ صَلَاتَنَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعید سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے ، اس میں انہوں نے یہ اضافہ کیا ہے کہ` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس نے ہماری نماز کاٹ دی ، اللہ اس کی چال کاٹ دے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابومسہر نے بھی سعید سے روایت کیا ہے ، جس میں صرف اتنا ہے : ” اس نے ہماری نماز کاٹ دی “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب ما يقطع الصلاة وما لا تقطعها / حدیث: 706
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, انظر الحديث الآتي(707), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 38
حدیث تخریج « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15684) (ضعیف) »
حدیث نمبر: 707
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ . ح وحَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ غَزْوَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ نَزَلَ بِتَبُوكَ وَهُوَ حَاجٌّ ، فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ مُقْعَدٍ فَسَأَلَهُ عَنْ أَمْرِهِ ، فَقَالَ لَهُ : سَأُحَدِّثُكَ حَدِيثًا فَلَا تُحَدِّثْ بِهِ مَا سَمِعْتَ أَنِّي حَيٌّ ، " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ بِتَبُوكَ إِلَى نَخْلَةٍ ، فَقَالَ : هَذِهِ قِبْلَتُنَا ، ثُمَّ صَلَّى إِلَيْهَا ، فَأَقْبَلْتُ وَأَنَا غُلَامٌ أَسْعَى حَتَّى مَرَرْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا ، فَقَالَ : قَطَعَ صَلَاتَنَا قَطَعَ اللَّهُ أَثَرَهُ " ، فَمَا قُمْتُ عَلَيْهَا إِلَى يَوْمِي هَذَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´غزوان کہتے ہیں کہ` وہ حج کو جاتے ہوئے تبوک میں اترے ، انہیں ایک اپاہج آدمی نظر آیا ، انہوں نے اس سے اس کا حال پوچھا ، تو اس آدمی نے غزوان سے کہا کہ میں تم سے ایک حدیث بیان کروں گا ، بشرطیکہ تم اس حدیث کو کسی سے اس وقت تک بیان نہ کرنا جب تک تم یہ سننا کہ میں زندہ ہوں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک میں ایک درخت کی آڑ میں اترے اور فرمایا : ” یہ ہمارا قبلہ ہے “ ، پھر آپ نے اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنی شروع کی ، میں ایک لڑکا تھا ، دوڑتا ہوا آیا یہاں تک کہ آپ کے اور درخت کے بیچ سے ہو کر گزر گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس نے ہماری نماز کاٹ دی ، اللہ اس کا قدم کاٹ دے “ ، چنانچہ اس روز سے آج تک میں اس پر کھڑا نہ ہو سکا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب ما يقطع الصلاة وما لا تقطعها / حدیث: 707
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سعيد بن غزوان مستور و أبو ه مجهول (تقريب : 2378،5355), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 38
حدیث تخریج « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15656) (ضعیف) » (اس کے راوی سعید بن غزوان مجہول ہیں)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔