حدیث نمبر: 697
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فَلَا يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلْيَدْرَأْهُ مَا اسْتَطَاعَ ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جب تم میں سے کوئی نماز پڑھ رہا ہو تو کسی کو نہ چھوڑے کہ اس کے آگے سے گزرے ۔ جہاں تک ہو سکے اس کو روکے ۔ اگر وہ انکار و اصرار کرے تو چاہیئے کہ اس کے ساتھ لڑائی کرے ، بیشک وہ شیطان ہے “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اگر کوئی شخص سترہ کے باوجود نمازی کے آگے سے گزرنے کی کوشش کرتا اور اس پر اصرار کرتا ہے تو وہ شیطان صفت ہے۔ شیطانوں کا سا کام کر رہا ہے روکنے سے بھی نہیں مانتا۔ اس کو اثنائے نماز ہی میں روکنا چاہیے اور روکنے کی کیفیت ہاتھ سے اشارہ کرنا ہے۔
حدیث نمبر: 698
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيُصَلِّ إِلَى سُتْرَةٍ وَلْيَدْنُ مِنْهَا ثُمَّ سَاقَ مَعْنَاهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو کسی سترے کی طرف منہ کر کے پڑھے ، اور اس سے قریب رہے “ ۔ پھر ابن عجلان نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی ۔
حدیث نمبر: 699
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ الرَّازِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، أَخْبَرَنَا مَسَرَّةُ بْنُ مَعْبَدٍ اللَّخْمِيُّ لَقِيتُهُ بِالْكُوفَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدٍ حَاجِبُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : رَأَيْتُ عَطَاءَ بْنَ زَيْدٍ اللَّيْثِيَّ قَائِمًا يُصَلِّي ، فَذَهَبْتُ أَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَرَدَّنِي ، ثُمَّ قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ لَا يَحُولَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قِبْلَتِهِ أَحَدٌ فَلْيَفْعَلْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سلیمان بن عبدالملک کے دربان ابو عبید بیان کرتے ہیں کہ` میں نے عطاء بن زید لیثی کو کھڑے ہو کر نماز پڑھتے دیکھا ، تو میں ان کے سامنے سے گزرنے لگا ، تو انہوں نے مجھے واپس کر دیا ، پھر ( نماز سے فارغ ہونے کے بعد ) کہا : ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے جو شخص طاقت رکھے کہ کوئی شخص اس کے اور قبلہ کے بیچ میں حائل نہ ہو تو وہ ایسا کرے ( یعنی سامنے سے گزرنے والے کو روکے ) “ ۔
حدیث نمبر: 700
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ حُمَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ هِلَالٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو صَالِحٍ : أُحَدِّثُكَ عَمَّا رَأَيْتُ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ وَسَمِعْتُهُ مِنْهُ ، دَخَلَ أَبُو سَعِيدٍ عَلَى مَرْوَانَ ، فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى شَيْءٍ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ فَأَرَادَ أَحَدٌ أَنْ يَجْتَازَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلْيَدْفَعْ فِي نَحْرِهِ ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ الشَّيْطَانُ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : قَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ : يَمُرُّ الرَّجُلُ يَتَبَخْتَرُ بَيْنَ يَدَيَّ وَأَنَا أُصَلِّي فَأَمْنَعُهُ وَيَمُرُّ الضَّعِيفُ فَلَا أَمْنَعُهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوصالح کہتے ہیں` میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو جو کچھ کرتے ہوئے دیکھا اور سنا ، وہ تم سے بیان کرتا ہوں : ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ مروان کے پاس گئے ، تو عرض کیا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب تم میں سے کوئی شخص کسی چیز کو ( جسے وہ لوگوں کے لیے سترہ بنائے ) سامنے کر کے نماز پڑھے ، پھر کوئی اس کے آگے سے گزرنا چاہے تو اسے چاہیئے کہ سینہ پر دھکا دے کر اسے ہٹا دے ، اگر وہ نہ مانے تو اس سے لڑے ( یعنی سختی سے دفع کرے ) کیونکہ وہ شیطان ہے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : سفیان ثوری کا بیان ہے کہ میں نماز پڑھتا ہوں اور کوئی آدمی میرے سامنے سے اتراتے ہوئے گزرتا ہے تو میں اسے روک دیتا ہوں ، اور کوئی ضعیف العمر کمزور گزرتا ہے تو اسے نہیں روکتا ۔