حدیث نمبر: 689
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حُرَيْثٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَدَّهُ حُرَيْثًا يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَجْعَلْ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ شَيْئًا ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيَنْصِبْ عَصًا ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ عَصًا فَلْيَخْطُطْ خَطًّا ثُمَّ لَا يَضُرُّهُ مَا مَرَّ أَمَامَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں کوئی شخص نماز پڑھنے کا قصد کرے ، تو اپنے آگے ( بطور سترہ ) کوئی چیز رکھ لے ، اگر کوئی چیز نہ پائے تو لاٹھی ہی گاڑ لے ، اور اگر اس کے ساتھ لاٹھی بھی نہ ہو تو زمین پر ایک لکیر ( خط ) کھینچ لے ، پھر اس کے سامنے سے گزرنے والی کوئی بھی چیز اس کو نقصان نہیں پہنچائے گی “ ۔
حدیث نمبر: 690
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ الْمَدِينِيِّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ،عَنْ أَبِي مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ جَدِّهِ حُرَيْثٍ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عُذْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَذَكَرَ حَدِيثَ الْخَطِّ ، قَالَ سُفْيَانُ : لَمْ نَجِدْ شَيْئًا نَشُدُّ بِهِ هَذَا الْحَدِيثَ وَلَمْ يَجِئْ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، قَالَ : قُلْتُ لِسُفْيَانَ : إِنَّهُمْ يَخْتَلِفُونَ فِيهِ فَتَفَكَّرَ سَاعَةً ، ثُمَّ قَالَ : مَا أَحْفَظُ إِلَّا أَبَا مُحَمَّدِ بْنَ عَمْرٍو ، قَالَ سُفْيَانُ : قَدِمَ هَاهُنَا رَجُلٌ بَعْدَ مَا مَاتَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ فَطَلَبَ هَذَا الشَّيْخُ أَبَا مُحَمَّدٍ حَتَّى وَجَدَهُ فَسَأَلَهُ عَنْهُ فَخَلَطَ عَلَيْهِ ، قَالَ أَبُو دَاوُد ، سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ سُئِلَ عَنْ وَصْفِ الْخَطِّ غَيْرَ مَرَّةٍ ، فَقَالَ : هَكَذَا عَرْضًا مِثْلَ الْهِلَالِ ، قَالَ أَبُو دَاوُد ، وسَمِعْت مُسَدَّدًا ، قَالَ : قَالَ ابْنُ دَاوُدَ : الْخَطُّ بِالطُّولِ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وسَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ وَصَفَ الْخَطَّ غير مرة ، فقال هكذا يعني بالعرض حورا دورا مثل الهلال ، يعني منعطفا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، پھر سفیان نے لکیر کھینچنے کی حدیث بیان کی ۔ سفیان کہتے ہیں : ہمیں کوئی ایسی دلیل نہیں ملی جس سے اس حدیث کو تقویت مل سکے ، اور یہ حدیث صرف اسی سند سے مروی ہے ۔ علی بن مدینی کہتے ہیں : میں نے سفیان سے پوچھا : لوگ تو ابو محمد بن عمرو بن حریث کے نام میں اختلاف کرتے ہیں ؟ تو سفیان نے تھوڑی دیر غور کرنے کے بعد کہا : مجھے تو ان کا نام ابو محمد بن عمرو ہی یاد ہے ۔ سفیان کہتے ہیں : اسماعیل بن امیہ کی وفات کے بعد ایک شخص یہاں ( کوفہ ) آیا ، اور اس نے ابو محمد کو تلاش کیا یہاں تک کہ وہ اسے ملے ، تو اس نے ان سے اس ( حدیث خط ) کے متعلق سوال کیا ، تو ان کو اشتباہ ہو گیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے احمد بن حنبل سے سنا ، آپ سے متعدد بار لکیر کھینچنے کی کیفیت کے بارے میں پوچھا گیا : تو آپ نے کہا : وہ اس طرح ہلال کی طرح چوڑائی میں ہو گی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اور میں نے مسدد کو کہتے سنا کہ ابن داود کا بیان ہے کہ لکیر لمبائی میں ہو گی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے لکیر کی کیفیت کے بارے میں متعدد بار سنا ، انہوں نے کہا : اس طرح یعنی چوڑائی میں چاند کی طرح محور اور مدور یعنی مڑا ہوا ۔
حدیث نمبر: 691
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : " رَأَيْتُ شَرِيكًا صَلَّى بِنَا فِي جَنَازَةٍ الْعَصْرَ ، فَوَضَعَ قَلَنْسُوَتَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ " ، يَعْنِي فِي فَرِيضَةٍ حَضَرَتْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سفیان بن عیینہ کا بیان ہے کہ` میں نے شریک کو دیکھا ، انہوں نے ہمارے ساتھ ایک جنازے کے موقع پر عصر پڑھی تو اپنی ٹوپی ( بطور سترہ ) اپنے سامنے رکھ لی ۔