حدیث نمبر: 639
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ قُنْفُذٍ ، عَنْ أُمِّهِ ، أَنَّهَا سَأَلَتْ أُمَّ سَلَمَةَ : مَاذَا تُصَلِّي فِيهِ الْمَرْأَةُ مِنَ الثِّيَابِ ؟ فَقَالَتْ : "تُصَلِّي فِي الْخِمَارِ وَالدِّرْعِ السَّابِغِ الَّذِي يُغَيِّبُ ظُهُورَ قَدَمَيْهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام حرام والدہ محمد بن زید سے روایت ہے کہ` انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : عورت کتنے کپڑوں میں نماز پڑھے ؟ تو انہوں نے کہا : وہ اوڑھنی اور ایک ایسے لمبے کرتے میں نماز پڑھے جو اس کے دونوں قدموں کے اوپری حصہ کو چھپا لے ۔
حدیث نمبر: 640
حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، قَالَ :عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّهَا سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتُصَلِّي الْمَرْأَةُ فِي دِرْعٍ وَخِمَارٍ لَيْسَ عَلَيْهَا إِزَارٌ ؟ قَالَ : إِذَا كَانَ الدِّرْعُ سَابِغًا يُغَطِّي ظُهُورَ قَدَمَيْهَا " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، وَبَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، وَابْنُ إِسْحَاقَ ،عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، لَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَصَرُوا بِهِ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ` انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : کیا عورت کرتہ اور اوڑھنی میں جب کہ وہ ازار ( تہبند ) نہ پہنے ہو ، نماز پڑھ سکتی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( پڑھ سکتی ہے ) جب کرتہ اتنا لمبا ہو کہ اس کے دونوں قدموں کے اوپری حصہ کو ڈھانپ لے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس حدیث کو مالک بن انس ، بکر بن مضر ، حفص بن غیاث ، اسماعیل بن جعفر ، ابن ابی ذئب اور ابن اسحاق نے محمد بن زید سے ، محمد بن زید نے اپنی والدہ سے ، اور محمد بن زید کی والدہ نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے ، لیکن ان میں سے کسی نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا ہے ، بلکہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا پر ہی اسے موقوف کر دیا ہے ۔