حدیث نمبر: 608
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ فَأَتَوْهُ بِسَمْنٍ وَتَمْرٍ ، فَقَالَ : رُدُّوا هَذَا فِي وِعَائِهِ وَهَذَا فِي سِقَائِهِ فَإِنِّي صَائِمٌ ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ تَطَوُّعًا ، فَقَامَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ ، وَأُمُّ حَرَامٍ خَلْفَنَا ، قَالَ ثَابِتٌ : وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ : أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ عَلَى بِسَاطٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام حرام رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو ان کے گھر والوں نے گھی اور کھجور پیش کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے ( کھجور کو ) اس کی تھیلی میں اور اسے ( گھی کو ) اس کے برتن میں لوٹا دو کیونکہ میں روزے سے ہوں “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ہمیں دو رکعت نفل نماز پڑھائی تو ام سلیم ( انس رضی اللہ عنہ کی والدہ ) اور ام حرام رضی اللہ عنہا ہمارے پیچھے کھڑی ہوئیں ۔ ثابت کہتے ہیں : میں تو یہی جانتا ہوں کہ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی داہنی طرف چٹائی پر کھڑا کیا ۔
وضاحت:
بعض اوقات نفل نماز کی جماعت ہو سکتی ہے۔ اور ہو سکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برکت رسانی کے ارادے سے نماز پڑھائی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز کی تعلیم کے لیے ایسے کیا ہو تاکہ عورتیں بھی قریب سے آپ کی نماز کا مشاہدہ کر لیں (نووی)۔ جماعت میں دو مرد ہوں تو دونوں کی ایک صف ہو گی۔ امام بائیں جانب اور مقتدی اس سے دائیں جانب کھڑا ہو گا۔ اور عورت خواہ اکیلی ہو یا زیادہ ان کی علیحدہ صف ہو گی۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 608
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
حدیث تخریج « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 375)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 78 (727)، صحیح مسلم/المساجد 48 (1499)، سنن النسائی/الإمامة 20 (804)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 45 (975)، مسند احمد (3/160، 184، 204، 239، 242، 248) (صحیح) »
حدیث نمبر: 609
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُخْتَارِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّهُ وَامْرَأَةً مِنْهُمْ ، فَجَعَلَهُ عَنْ يَمِينِهِ وَالْمَرْأَةَ خَلْفَ ذَلِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اور ان کے گھر کی ایک عورت کی امامت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( یعنی انس رضی اللہ عنہ کو ) اپنے داہنی طرف کھڑا کیا ، اور عورت کو پیچھے ۔
وضاحت:
بعض اوقات نفل نماز کی جماعت ہو سکتی ہے۔ اور ہو سکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برکت رسانی کے ارادے سے نماز پڑھائی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز کی تعلیم کے لیے ایسے کیا ہو تاکہ عورتیں بھی قریب سے آپ کی نماز کا مشاہدہ کر لیں (نووی)۔ جماعت میں دو مرد ہوں تو دونوں کی ایک صف ہو گی۔ امام بائیں جانب اور مقتدی اس سے دائیں جانب کھڑا ہو گا۔ اور عورت خواہ اکیلی ہو یا زیادہ ان کی علیحدہ صف ہو گی۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 609
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (660)
حدیث تخریج « صحیح مسلم/المساجد 48 (660)، سنن النسائی/الإمامة 20 (804)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 44 (975)، (تحفة الأشراف: 1609)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/194، 258، 261) (صحیح) »
حدیث نمبر: 610
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ فَأَطْلَقَ الْقِرْبَةَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ أَوْكَأَ الْقِرْبَةَ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ ، فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ كَمَا تَوَضَّأَ ثُمَّ جِئْتُ ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَنِي بِيَمِينِهِ فَأَدَارَنِي مِنْ وَرَائِهِ فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` میں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات بسر کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھے ، مشک کا منہ کھول کر وضو کیا پھر اس میں ڈاٹ لگا دی ، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے ، پھر میں بھی اٹھا اور اسی طرح وضو کیا جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا تھا ، پھر میں آ کر آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا ، تو آپ نے اپنے داہنے ہاتھ سے مجھے پکڑا ، اور اپنے پیچھے سے لا کر اپنی داہنی طرف کھڑا کر لیا ، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ۔
وضاحت:
اس میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی فضیلت کا اثبات ہے کہ انہیں اوائل عمر ہی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معمولات کے مشاہدہ کا شوق تھا۔ ایک شخص جو اپنی نماز پڑھ رہا ہو، اس کو امام بنانا جائز ہے خواہ اس نے امام بننے کی نیت نہ کی ہو۔ بعض اوقات تہجد یا نفل نماز کی جماعت کرائی جا سکتی ہے۔ دو آدمیوں کی جماعت بھی درست ہے اور اس صورت میں وہ دونوں ایک صف میں برابر کھڑے ہوں گے۔ اثنائے نماز میں کوئی ضروری اصلاح ممکن ہو تو کر دینے اور قبول کر لینے میں کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 610
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (763)
حدیث تخریج « صحیح مسلم/المسافرین 26 (763)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 44 (973)، (تحفة الأشراف: 5908)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العلم 41 (117)، والأذان 57 (697)، 59 (699)، 79 (728)، واللباس 71 (5919)، سنن النسائی/الغسل 29 (443)، الإمامة 22 (807)، وقیام اللیل 9 (1621)، مسند احمد (1/215، 252، 258، 287، 341، 347، 354، 357، 360، 365)، سنن الدارمی/الصلاة 43 (1290) (صحیح) »
حدیث نمبر: 611
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ ، قَالَ : فَأَخَذَ بِرَأْسِي أَوْ بِذُؤَابَتِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس واقعہ میں مروی ہے کہ` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا سر یا میری چوٹی پکڑی پھر مجھے اپنی داہنی جانب لا کھڑا کیا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 611
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5919 من حديث ھشيم به وصرح بالسماع)
حدیث تخریج « صحیح البخاری/اللباس 71 (5919)، (تحفة الأشراف: 5455)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/215، 287) (صحیح) »