کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: زائر کی امامت کا بیان۔
حدیث نمبر: 596
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، عَنْ بُدَيْلٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَطِيَّةَ مَوْلًى مِنَّا ، قَالَ : كَانَ مَالِكُ بْنُ حُوَيْرِثٍ يَأْتِينَا إِلَى مُصَلَّانَا هَذَا فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ ، فَقُلْنَا لَهُ : تَقَدَّمْ فَصَلِّهْ ، فَقَالَ لَنَا : قَدِّمُوا رَجُلًا مِنْكُمْ يُصَلِّي بِكُمْ ، وَسَأُحَدِّثُكُمْ لِمَ لَا أُصَلِّي بِكُمْ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ زَارَ قَوْمًا فَلَا يَؤُمَّهُمْ وَلْيَؤُمَّهُمْ رَجُلٌ مِنْهُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بدیل کہتے ہیں کہ ہمارے ایک غلام ابوعطیہ نے ہم سے بیان کیا کہ` مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہماری اس مسجد میں آتے تھے ، ( ایک بار ) نماز کے لیے تکبیر کہی گئی تو ہم نے ان سے کہا : آپ آگے بڑھئیے اور نماز پڑھائیے ، انہوں نے ہم سے کہا : تم اپنے لوگوں میں سے کسی کو آگے بڑھاؤ تاکہ وہ تمہیں نماز پڑھائے ، میں ابھی تم لوگوں بتاؤں گا کہ میں تمہیں نماز کیوں نہیں پڑھا رہا ہوں ؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” جو شخص کسی قوم کی زیارت کے لیے جائے تو وہ ان کی امامت نہ کرے بلکہ انہیں لوگوں میں سے کوئی آدمی ان کی امامت کرے ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: اگر خوشی و رضا مندی سے لوگ زائر کو امام بنانا چاہیں اور وہ امامت کا مستحق بھی ہو تو اس کا امام بننا جائز ہے، کیونکہ ابومسعود کی ایک روایت میں «إلا بإذنه» کا اضافہ ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 596
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (1120), أبو عطية: حسن الحديث، وثقه ابن خزيمة (1520) والترمذي (356)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الصلاة 148 (356)، سنن النسائی/الإمامة 9 (788)، (تحفة الأشراف: 11186)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/436)، (صحیح) » (مالک بن حویرث کے قصہ کے بغیر حدیث صحیح ہے)