کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: آدمی لوگوں کی امامت کرے اور لوگ اسے ناپسند کرتے ہوں۔
حدیث نمبر: 593
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ غَانِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ عَبْدٍ الْمَعَافِرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَقُولُ : " ثَلَاثَةٌ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُمْ صَلَاةً : مَنْ تَقَدَّمَ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ ، وَرَجُلٌ أَتَى الصَّلَاةَ دِبَارًا وَالدِّبَارُ أَنْ يَأْتِيَهَا بَعْدَ أَنْ تَفُوتَهُ ، وَرَجُلٌ اعْتَبَدَ مُحَرَّرَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے : ” تین آدمیوں کی نماز اللہ قبول نہیں فرماتا : ایک تو وہ شخص جو لوگوں کی امامت کرے اور لوگ اسے ناپسند کرتے ہوں ، دوسرا وہ شخص جو نماز میں پیچھے آئے ، پیچھے آنا یہ ہے کہ جماعت فوت ہو جانے یا وقت گزر جانے کے بعد آئے ، اور تیسرا وہ شخص جو اپنے آزاد کئے ہوئے شخص کو دوبارہ غلام بنا لے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 593
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف إلا الشطر الأول فصحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن ماجه (970), عبد الرحمٰن بن زياد الإفريقي ضعيف, وعمران بن عبد ٍالمعافري : ضعيف (تقريب : 5160), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 34
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 43 (970)، (تحفة الأشراف: 8903) (ضعیف) » (اس کے دو راوی عبدالرحمن افریقی اور عمران ضعیف ہیں، مگر اس کا پہلا جزء شواہد سے تقویت پاکر صحیح ہے)