حدیث نمبر: 591
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُمَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَلَّادٍ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ أُمِّ وَرَقَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَوْفَلٍ الْأَنْصَارِيَّةِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا غَزَا بَدْرًا ، قَالَتْ : قُلْتُ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ائْذَنْ لِي فِي الْغَزْوِ مَعَكَ أُمَرِّضُ مَرْضَاكُمْ ، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَرْزُقَنِي شَهَادَةً ، قَالَ : " قَرِّي فِي بَيْتِكِ ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَرْزُقُكِ الشَّهَادَةَ ، قَالَ : فَكَانَتْ تُسَمَّى الشَّهِيدَةُ ، قَالَ : وَكَانَتْ قَدْ قَرَأَتِ الْقُرْآنَ ، فَاسْتَأْذَنَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَتَّخِذَ فِي دَارِهَا مُؤَذِّنًا ، فَأَذِنَ لَهَا " ، قَالَ : وَكَانَتْ قَدْ دَبَّرَتْ غُلَامًا لَهَا وَجَارِيَةً ، فَقَامَا إِلَيْهَا بِاللَّيْلِ فَغَمَّاهَا بِقَطِيفَةٍ لَهَا حَتَّى مَاتَتْ وَذَهَبَا ، فَأَصْبَحَ عُمَرُ فَقَامَ فِي النَّاسِ ، فَقَالَ : مَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْ هَذَيْنِ عِلْمٌ أَوْ مَنْ رَآهُمَا فَلْيَجِئْ بِهِمَا ، فَأَمَرَ بِهِمَا فَصُلِبَا فَكَانَا أَوَّلَ مَصْلُوبٍ بِالْمَدِينَةِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام ورقہ بنت عبداللہ بن نوفل انصاریہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ بدر میں جانے لگے تو میں نے آپ سے کہا : اللہ کے رسول ! اپنے ساتھ مجھے بھی جہاد میں چلنے کی اجازت دیجئیے ، میں آپ کے بیماروں کی خدمت کروں گی ، شاید اللہ تعالیٰ مجھے بھی شہادت نصیب فرمائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنے گھر میں بیٹھی رہو ، اللہ تمہیں شہادت نصیب کرے گا “ ۔ راوی کہتے ہیں : چنانچہ انہیں شہیدہ کہا جاتا تھا ، وہ کہتے ہیں : ام ورقہ رضی اللہ عنہا نے قرآن پڑھ رکھا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے گھر میں مؤذن مقرر کرنے کی اجازت چاہی ، تو آپ نے انہیں اس کی اجازت دی ، اپنے ایک غلام اور ایک لونڈی کو اپنے مر جانے کے بعد آزاد کر دینے کی وصیت کر دی تھی ، چنانچہ وہ دونوں ( یعنی غلام اور لونڈی ) رات کو ام ورقہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور انہی کی ایک چادر سے ان کا گلا گھونٹ دیا یہاں تک کہ وہ مر گئیں اور وہ دونوں بھاگ نکلے ، صبح ہوئی تو عمر رضی اللہ عنہ لوگوں میں کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ ان دونوں کے متعلق جس کو بھی کچھ معلوم ہو ، یا جس نے بھی ان دونوں کو دیکھا ہو وہ انہیں پکڑ کر لائے ، ( چنانچہ وہ پکڑ کر لائے گئے ) تو آپ نے ان دونوں کے متعلق حکم دیا تو انہیں سولی دے دی گئی ، یہی دونوں تھے جنہیں مدینہ منورہ میں سب سے پہلے سولی دی گئی ۔
حدیث نمبر: 592
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ الْحَضْرَمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ جُمَيْعٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَلَّادٍ ،عَنْ أُمِّ وَرَقَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ ، وَالْأَوَّلُ أَتَمُّ ، قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزُورُهَا فِي بَيْتِهَا ، وَجَعَلَ لَهَا مُؤَذِّنًا يُؤَذِّنُ لَهَا وَأَمَرَهَا أَنْ تَؤُمَّ أَهْلَ دَارِهَا ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : فَأَنَا رَأَيْتُ مُؤَذِّنَهَا شَيْخًا كَبِيرًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی ام ورقہ بنت عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے ، لیکن پہلی حدیث زیادہ کامل ہے ، اس میں یہ ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام ورقہ سے ملنے ان کے گھر تشریف لے جاتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے ایک مؤذن مقرر کر دیا تھا ، جو اذان دیتا تھا اور انہیں حکم دیا تھا کہ اپنے گھر والوں کی امامت کریں ۔ عبدالرحمٰن کہتے ہیں : میں نے ان کے مؤذن کو دیکھا ، وہ بہت بوڑھے تھے ۔