کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: عورتوں کے مسجد جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 565
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ ، وَلَكِنْ لِيَخْرُجْنَ وَهُنَّ تَفِلَاتٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو ، البتہ انہیں چاہیئے کہ وہ بغیر خوشبو لگائے نکلیں “ ۔
وضاحت:
یہ عمل عورتوں کے شوق پر مبنی ہے۔ اگر وہ اجازت لے کر مسجد میں آنا چاہیں تو روکا نہ جائے، صحابیات مسجد آیا کرتی تھیں، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ باپردہ اور سادہ لباس میں آئیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 565
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, صححه ابن خزيمة (1679 وسنده حسن)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15013)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/438، 475)، سنن الدارمی/الصلاة 57 (1315) (حسن صحیح) »
حدیث نمبر: 566
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اللہ کی باندیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 566
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (900) صحيح مسلم (442)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8582)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة 166 (900)، والنکاح 116 (5238)، صحیح مسلم/الصلاة 30 (442)، سنن النسائی/المساجد 15 (705)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 2 (16)، موطا امام مالک/القبلة 6 (12)، مسند احمد (2/16، 36، 43، 39، 90، 127، 140، 143، 145، 151)، سنن الدارمی/الصلاة 57 (1314) (صحیح) »
حدیث نمبر: 567
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ ، حَدَّثَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَمْنَعُوا نِسَاءَكُمُ الْمَسَاجِدَ وَبُيُوتُهُنَّ خَيْرٌ لَهُنَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنی عورتوں کو مسجدوں سے نہ روکو ، البتہ ان کے گھر ان کے لیے بہتر ہیں “ ۔
وضاحت:
یہ عمل عورتوں کے شوق پر مبنی ہے۔ اگر وہ اجازت لے کر مسجد میں آنا چاہیں تو روکا نہ جائے، صحابیات مسجد آیا کرتی تھیں، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ باپردہ اور سادہ لباس میں آئیں۔ تاہم افضل یہی ہے کہ عورتیں گھر میں باپردہ ہو کر نماز پڑھیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 567
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, سنده ضعيف, حبيب بن أبي ثابت مدلس و عنعن, و للحديث شواهد ضعيفة عند البيهقي (3/ 131) وغيره, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 185
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6681)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/76) (صحیح) »
حدیث نمبر: 568
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ائْذَنُوا لِلنِّسَاءِ إِلَى الْمَسَاجِدِ بِاللَّيْلِ ، فَقَالَ ابْنٌ لَهُ : وَاللَّهِ لَا نَأْذَنُ لَهُنَّ فَيَتَّخِذْنَهُ دَغَلًا ، وَاللَّهِ لَا نَأْذَنُ لَهُنَّ ، قَالَ : فَسَبَّهُ وَغَضِبَ ، وَقَالَ : أَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ائْذَنُوا لَهُنَّ ، وَتَقُولُ : لَا نَأْذَنُ لَهُنَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مجاہد کہتے ہیں : عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” تم عورتوں کو رات میں مسجد جانے کی اجازت دے دیا کرو “ ، اس پر ان کے ایک لڑکے ( بلال ) نے کہا : قسم اللہ کی ! ہم انہیں اس کی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ اسے فساد کا ذریعہ بنائیں ، قسم اللہ کی ! ہم انہیں اس کی اجازت نہیں دیں گے ۔ مجاہد کہتے ہیں : اس پر انہوں نے ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ) ( اپنے بیٹے کو ) بہت سخت سست کہا اور غصہ ہوئے ، پھر بولے : میں کہتا ہوں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” تم انہیں اجازت دو “ ، اور تم کہتے ہو : ہم انہیں اجازت نہیں دیں گے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: گویا تم اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل لا رہے ہو، احمد کی ایک روایت (۲/۳۶) میں ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے زندگی بھر اس لڑکے سے بات نہیں کی۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک اہم مسئلہ واضح فرمایا ہے کہ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مقابلے میں اپنی سوچ اور فہم و استدلال کو اہمیت دے۔ قرآن مجید میں ہے «وما كان لمؤمن ولا مؤمنة إذا قضى اللـه ورسوله أمرا أن يكون لهم الخيرة من أمرهم» کسی بھی مومن مرد یا عورت کو حق نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے کا فیصلہ فرما دیں تو انہیں اپنے معاملے کا اختیار رہے (الاحزاب، ۳۶)۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 568
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (442)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الجمعة 13(899)، صحیح مسلم/الصلاة 30(442)، سنن الترمذی/الصلاة 48 (570)، (تحفة الأشراف: 7385)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/36، 43، 49، 98، 127، 143، 145) (صحیح) »