کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: نماز کے لیے مسجد چل کر جانے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 556
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْأَبْعَدُ فَالْأَبْعَدُ مِنَ الْمَسْجِدِ ، أَعْظَمُ أَجْرًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو مسجد سے جتنا دور ہو گا اتنا ہی اس کا ثواب زیادہ ہو گا “ ۔
وضاحت:
جو شخص جس قدر زیادہ قدم چل کر جائے گا اور مشقت برداشت کرے گا اس کو اسی قدر ثواب بھی زیادہ ہو گا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 556
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, أخرجه أحمد (1/68 وسنده حسن) وله شاھد في صحيح مسلم (662)
تخریج حدیث « تخريج: سنن ابن ماجہ/المساجد والجماعات 15 (782)، (تحفة الأشراف: 13597)، وقد أخرجہ: حم (2/351، 428) (صحیح) »
حدیث نمبر: 557
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، أَنَّ أَبَا عُثْمَانَ حَدَّثَهُ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : " كَانَ رَجُلٌ لَا أَعْلَمُ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ مِمَّنْ يُصَلِّي الْقِبْلَةَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَبْعَدَ مَنْزِلًا مِنَ الْمَسْجِدِ مِنْ ذَلِكَ الرَّجُلِ وَكَانَ لَا تُخْطِئُهُ صَلَاةٌ فِي الْمَسْجِدِ ، فَقُلْتُ : لَوِ اشْتَرَيْتَ حِمَارًا تَرْكَبُهُ فِي الرَّمْضَاءِ وَالظُّلْمَةِ ، فَقَالَ : مَا أُحِبُّ أَنَّ مَنْزِلِي إِلَى جَنْبِ الْمَسْجِدِ ، فَنُمِيَ الْحَدِيثُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَهُ عَنْ قَوْلِهِ ذَلِكَ ، فَقَالَ : أَرَدْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يُكْتَبَ لِي إِقْبَالِي إِلَى الْمَسْجِدِ وَرُجُوعِي إِلَى أَهْلِي إِذَا رَجَعْتُ ، فَقَالَ : أَعْطَاكَ اللَّهُ ذَلِكَ كُلَّهُ ، أَنْطَاكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا احْتَسَبْتَ كُلَّهُ أَجْمَعَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` اہل مدینہ میں نمازیوں میں ایک صاحب تھے ، میری نظر میں کسی کا مکان مسجد سے ان کے مکان سے زیادہ دور نہیں تھا ، اس کے باوجود ان کی کوئی نماز جماعت سے ناغہ نہیں ہوتی تھی ، میں نے ان سے کہا : اگر آپ ایک گدھا خرید لیتے اور گرمی اور تاریکی میں اس پر سوار ہو کر ( مسجد ) آیا کرتے ( تو زیادہ اچھا ہوتا ) تو انہوں نے کہا : میں نہیں چاہتا کہ میرا گھر مسجد کے بغل میں ہو ، یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے ان سے اس کے متعلق پوچھا ، انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! میری غرض یہ تھی کہ مجھے مسجد آنے کا اور پھر لوٹ کر اپنے گھر والوں کے پاس جانے کا ثواب ملے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے تمہیں وہ سب عنایت فرما دیا ، اور جو کچھ تم نے چاہا ، اللہ نے وہ سب تمہیں دے دیا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 557
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (663)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/المساجد 49 (663)، سنن ابن ماجہ/المساجد والجماعات 16 (783)، (تحفة الأشراف: 64)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصلاة 60 (1321) (صحیح) »
حدیث نمبر: 558
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ مُتَطَهِّرًا إِلَى صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ فَأَجْرُهُ كَأَجْرِ الْحَاجِّ الْمُحْرِمِ ، وَمَنْ خَرَجَ إِلَى تَسْبِيحِ الضُّحَى لَا يَنْصِبُهُ إِلَّا إِيَّاهُ فَأَجْرُهُ كَأَجْرِ الْمُعْتَمِرِ ، وَصَلَاةٌ عَلَى أَثَرِ صَلَاةٍ لَا لَغْوَ بَيْنَهُمَا كِتَابٌ فِي عِلِّيِّينَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو اپنے گھر سے وضو کر کے فرض نماز کے لیے نکلے ، تو اس کا ثواب احرام باندھنے والے حاجی کے ثواب کی طرح ہے ، اور جو چاشت کی نماز کے لیے نکلے اور اسی کی خاطر تکلیف برداشت کرتا ہو تو اس کا ثواب عمرہ کرنے والے کے ثواب کی طرح ہے ، اور ایک نماز سے لے کر دوسری نماز کے بیچ میں کوئی لغو کام نہ ہو تو وہ علیین ۱؎ میں لکھی جاتی ہے “ ۔
وضاحت:
۱؎: علیین اللہ تعالی کے پاس ایک دفتر ہے جس میں نیک اعمال لکھے جاتے ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 558
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (728)
تخریج حدیث « تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 4899)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/263، 268) (حسن) »
حدیث نمبر: 559
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ تَزِيدُ عَلَى صَلَاتِهِ فِي بَيْتِهِ ، وَصَلَاتِهِ فِي سُوقِهِ خَمْسًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً ، وَذَلِكَ بِأَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ وَأَتَى الْمَسْجِدَ لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ وَلَا يَنْهَزُهُ إِلَّا الصَّلَاةُ ، لَمْ يَخْطُ خُطْوَةً إِلَّا رُفِعَ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ وَحُطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ حَتَّى يَدْخُلَ الْمَسْجِدَ ، فَإِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ كَانَ فِي صَلَاةٍ مَا كَانَتِ الصَّلَاةُ هِيَ تَحْبِسُهُ ، وَالْمَلَائِكَةُ يُصَلُّونَ عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مَجْلِسِهِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ ، وَيَقُولُونَ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ ، اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ ، مَا لَمْ يُؤْذِ فِيهِ أَوْ يُحْدِثْ فِيهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آدمی کی باجماعت نماز اس کے گھر یا بازار کی نماز سے پچیس درجہ بڑھ کر ہے ، اور یہ اس وجہ سے کہ تم میں سے کوئی جب اچھی طرح وضو کر کے مسجد آئے اور نماز کے علاوہ کوئی اور چیز اس کے پیش نظر نہ رہی ہو تو وہ جو بھی قدم اٹھائے گا اس کے بدلے میں اس کا ایک درجہ بلند ہو گا اور ایک گناہ معاف ہو گا ، یہاں تک کہ وہ مسجد میں داخل ہو جائے ، پھر جب وہ مسجد میں پہنچ گیا تو نماز ہی میں رہا جب تک کہ نماز اسے روکے رہی ، اور فرشتے اس کے لیے دعا کرتے ہیں جب تک وہ اس جگہ بیٹھا رہے جہاں اس نے نماز پڑھی ہے ، فرشتے کہتے ہیں : اے اللہ ! اسے بخش دے ، اے اللہ ! اس پر رحم فرما ، اے اللہ ! اس کی توبہ قبول فرما ، ( اور یہ دعا برابر کرتے رہتے ہیں ) جب تک کہ اس مجلس میں ( جہاں وہ بیٹھا ہے ) کسی کو تکلیف نہ دے یا وضو نہ توڑ دے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 559
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (477) صحيح مسلم (649)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/المساجد 49 (649)، سنن الترمذی/الصلاة 47 (330)، سنن النسائی/الإمامة 42 (839)، سنن ابن ماجہ/المساجد 16 (786)، موطا امام مالک/صلاة الجماعة 1 (1، 2)، (تحفة الأشراف: 12502)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 87 (477)، مسند احمد (2 /252، 264، 266، 273، 328، 396، 454، 473، 475، 485، 486، 520، 525، 529)، سنن الدارمی/الصلاة 56 (1312، 1313) (صحیح) »
حدیث نمبر: 560
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الصَّلَاةُ فِي جَمَاعَةٍ تَعْدِلُ خَمْسًا وَعِشْرِينَ صَلَاةً ، فَإِذَا صَلَّاهَا فِي فَلَاةٍ فَأَتَمَّ رُكُوعَهَا وَسُجُودَهَا بَلَغَتْ خَمْسِينَ صَلَاةً " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : قَالَ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ : صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي الْفَلَاةِ تُضَاعَفُ عَلَى صَلَاتِهِ فِي الْجَمَاعَةِ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” باجماعت نماز ( کا ثواب ) پچیس نمازوں کے برابر ہے ، اور جب اسے چٹیل میدان ( بیابان میں ) میں پڑھے اور رکوع و سجدہ اچھی طرح سے کرے تو اس کا ثواب پچاس نمازوں تک پہنچ جاتا ہے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عبدالواحد بن زیاد کی روایت میں یوں ہے : ” آدمی کی نماز چٹیل میدان میں ( بیابان میں ) باجماعت ( شہر اور آبادی کے اندر ) نماز سے ثواب میں کئی گنا بڑھا دی جاتی ہے “ ، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 560
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح خ الشطر الأول منه , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, أبو معاوية الضرير صرح بالسماع عند ابن حبان (الإحسان: 1746)
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/المساجد 16 (788)، مسند احمد (3/55) (كلهم إلى قوله: ’’خمسا وعشرين صلاة‘‘)، (تحفة الأشراف: 4157)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 30 (646) (صحیح) »