کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: مؤذن اذان کے بعد امام کا انتظار کرے۔
حدیث نمبر: 537
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : " كَانَ بِلَالٌ يُؤَذِّنُ ثُمَّ يُمْهِلُ ، فَإِذَا رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ ، أَقَامَ الصَّلَاةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` بلال رضی اللہ عنہ اذان دیتے تھے پھر رکے رہتے تھے ، پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیتے کہ آپ تشریف لا رہے ہیں تو نماز کی اقامت کہتے تھے ۔
وضاحت:
ثابت ہوا کہ اقامت کہنے کے لیے ضروری نہیں کہ پہلے امام اپنے مصلے پر کھڑا ہو تب ہی اقامت کہی جائے بلکہ امام کو آتا دیکھ کر بھی تکبیر کہنا جائز ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 537
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (606)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الصلاة 34 (202)، (تحفة الأشراف: 2137)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 29 (606)، مسند احمد (5/76، 78، 95، 104، 105) (صحیح) »