کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: نابینا آدمی کی اذان کا بیان۔
حدیث نمبر: 535
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ كَانَ مُؤَذِّنًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ أَعْمَى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ` ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن تھے اور وہ نابینا تھے ۔
وضاحت:
نابینے شخص کا اذان دینا یا امامت کا اہل ہونے کی صورت میں امامت کرانا بالکل صحیح اور جائز ہے اور اذان کے بارے میں ظاہر ہے کہ کوئی دوسرا ہی اس کی رہنمائی کرے گا اور آج کل تو ایسی گھڑیاں بھی ایجاد ہو چکی ہیں جن سے ایسے لوگوں کو وقت معلوم کرنے میں کوئی دقت نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 535
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (381)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الصلاة 5 (381)، (تحفة الأشراف: 16907) (صحیح) »