کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: وقت سے پہلے اذان دیدے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 532
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَدَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ المعنى ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنّ بِلَالًا أَذَّنَ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْجِعَ فَيُنَادِيَ : أَلَا إِنَّ الْعَبْدَ قَدْ نَامَ أَلَا إِنَّ الْعَبْدَ قَدْ نَامَ ، زَادَ مُوسَى : فَرَجَعَ فَنَادَى : أَلَا إِنَّ الْعَبْدَ قَدْ نَامَ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَهَذَا الْحَدِيثُ لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَيُّوبَ إِلَّا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` بلال رضی اللہ عنہ نے فجر کا وقت ہونے سے پہلے اذان دے دی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ دوبارہ اذان دیں اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہیں : سنو ، بندہ سو گیا تھا ، سنو ، بندہ سو گیا تھا ۔ موسیٰ بن اسماعیل کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ نے دوبارہ اذان دی اور بلند آواز سے کہا : سنو ، بندہ سو گیا تھا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث ایوب سے حماد بن سلمہ کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 532
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, ضعيف, ترمذي (203), رجالة ثقات ولكن اتفق أئمة الحديث علي أن حمادًا أخطأ في رفعه،انظر فتح الباري (103/2), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 32
تخریج حدیث « تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 7587) (صحیح) »
حدیث نمبر: 533
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ،أَخْبَرَنَا نَافِعٌ ، عَنْ مُؤَذِّنٍ لِعُمَرَ يُقَالُ لَهُ : مَسْرُوحٌ ، أَذَّنَ قَبْلَ الصُّبْحِ فَأَمَرَهُ عُمَرُ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ ، قَالَ أَبُو دَاوُد وَقَدْ رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ أَوْ غَيْرِهِ ، أَنَّ مُؤَذِّنًا لِعُمَرَ يُقَالُ لَهُ : مَسْرُوحٌ أَوْ غَيْرُهُ ، قَالَ أَبُو دَاوُد ، وَرَوَاهُ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ لِعُمَرَ مُؤَذِّنٌ يُقَالُ لَهُ : مَسْعُودٌ ، وَذَكَرَ نَحْوَهُ . وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ ذَاكَ
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمر رضی اللہ عنہ کے مسروح نامی مؤذن سے روایت ہے کہ` انہوں نے صبح صادق سے پہلے اذان دے دی تو عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں حکم دیا ، پھر انہوں نے اسی طرح کی روایت ذکر کی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے حماد بن زید نے عبیداللہ بن عمر سے ، عبیداللہ نے نافع سے یا کسی اور سے روایت کیا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کا ایک مؤذن تھا ( جس کا نام مسروح یا کچھ اور تھا ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے دراوردی نے عبیداللہ سے ، عبیداللہ نے نافع سے ، نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کا مسعود نامی ایک مؤذن تھا ، اور دراوردی نے اسی طرح کی روایت ذکر کی اور یہ پہلی روایت سے زیادہ صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 533
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, مسروح مجھول الحال،وثقه ابن حبان وحده, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 32
تخریج حدیث « انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 7587) (صحیح) »
حدیث نمبر: 534
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، عَنْ شَدَّادٍ مَوْلَى عِيَاضِ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ بِلَالٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهُ : " لَا تُؤَذِّنْ حَتَّى يَسْتَبِينَ لَكَ الْفَجْرُ هَكَذَا : وَمَدَّ يَدَيْهِ عَرْضًا " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : شَدَّادٌ مَوْلَى عِيَاضٍ لَمْ يُدْرِكْ بِلَالًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” تم اذان نہ دیا کرو جب تک کہ فجر تمہارے لیے اس طرح واضح نہ ہو جائے “ ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ چوڑائی میں پھیلائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عیاض کے آزاد کردہ غلام شداد نے بلال رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 534
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سنده مرسل،شداد مولي عياض لم يدرك بلا لاً كما قال أبو داود, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 33
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2034) (حسن) » (اس کے راوی شدّاد مجہول ہیں، حافظ ابن حجر نے انہیں مقبول یرسل کہا ہے، لیکن اس کی تقویت ابو ذر رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، ملاحظہ ہو مسند احمد: 5/171- 172، وصحیح ابی داود: 3/45)