کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: اذان میں مؤذن دائیں بائیں گھومے اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 520
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا قَيْسٌ يَعْنِي ابْنَ الرَّبِيعِ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، جَمِيعًا عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ حَمْرَاءَ مِنْ أَدَمٍ ، فَخَرَجَ بِلَالٌ فَأَذَّنَ ، فَكُنْتُ أَتَتَبَّعُ فَمَهُ هَاهُنَا وَهَاهُنَا ، قَالَ : ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ بُرُودٌ يَمَانِيَةٌ قِطْرِيٌّ ، وَقَالَ مُوسَى : قَالَ : رَأَيْتُ بِلَالًا خَرَجَ إِلَى الْأَبْطَحِ فَأَذَّنَ ، فَلَمَّا بَلَغَ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ ، لَوَى عُنُقَهُ يَمِينًا وَشِمَالًا وَلَمْ يَسْتَدِرْ ، ثُمَّ دَخَلَ فَأَخْرَجَ الْعَنَزَةَ " ، وَسَاقَ حَدِيثَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں مکہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، آپ چمڑے کے ایک لال خیمہ میں تھے ، بلال رضی اللہ عنہ باہر نکلے پھر اذان دی ، میں انہیں اپنے منہ کو ادھر ادھر پھیرتے دیکھ رہا تھا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے ، آپ یمنی قطری چادروں ۱؎ سے بنے سرخ جوڑے پہنے ہوئے تھے ، موسی بن اسماعیل اپنی روایت میں کہتے ہیں کہ ابوحجیفہ نے کہا : میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ ابطح کی طرف نکلے پھر اذان دی ، جب «حي على الصلاة» اور «حي على الفلاح» پر پہنچے تو اپنی گردن دائیں اور بائیں جانب موڑی اور خود نہیں گھومے ۲؎ ، پھر وہ اندر گئے اور نیزہ نکالا ، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی ۔
وضاحت:
۱؎: مکہ سے یمن جنوب میں ہے، اور قطر احساء اور بحرین کے درمیانی علاقہ کا ایک مقام ہے، مذکورہ چادر ان جنوبی علاقوں میں بن کر ’’یمنی قطری چادروں‘‘ کے نام سے مشہور تھی۔
۲؎: اس سلسلہ میں روایتیں مختلف آئی ہیں بعض میں ہے «إنه كان يستدير» اور بعض میں ہے «لم يستدر» ان دونوں روایتوں میں تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ جس نے گھومنے کا ذکر کیا ہے اس نے سر کا گھمانا مراد لیا ہے، اور جس نے نفی کی ہے اس نے جسم کے گھمانے کی نفی کی ہے۔ سرخ رنگ کے لباس کی عمومی طور پر نہی وارد ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو پہنا ہے تو شارحین اس کی بابت یہ فرماتے ہیں کہ اس میں سرخ دھاریاں تھیں۔ «واللہ اعلم»
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 520
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح ، لكن من قوله : قال موسى : منكر , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (503)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الصلاة 47 (503)، سنن الترمذی/الصلاة 30 (197)، سنن النسائی/الأذان 13 (644)، والزینة 123 (5380)، (تحفة الأشراف: 11806، 11817)، مسند احمد (4/308)، سنن الدارمی/الصلاة 8 (1234)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 15 (634)، سنن ابن ماجہ/الأذان 3 (711) (صحیح) »