کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ (باڑے) میں نماز پڑھنے کی ممانعت۔
حدیث نمبر: 493
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّازِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : " سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي مَبَارِكِ الْإِبِلِ ، فَقَالَ : لَا تُصَلُّوا فِي مَبَارِكِ الْإِبِلِ ، فَإِنَّهَا مِنَ الشَّيَاطِينِ ، وَسُئِلَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ ، فَقَالَ : صَلُّوا فِيهَا فَإِنَّهَا بَرَكَةٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اونٹ کے باڑوں ( بیٹھنے کی جگہوں ) میں نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اونٹ کے بیٹھنے کی جگہوں میں نماز نہ پڑھو اس لیے کہ وہ شیطانوں میں سے ہیں “ ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہاں نماز پڑھو ، اس لیے کہ یہ باعث برکت ہے “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی ان میں شیطانی خصلتیں ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 493
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, وللحديث شاھد عند مسلم (360) وانظر الحديث السابق (184)
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : 184، (تحفة الأشراف: 1783، 1686) (صحیح) »