کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: ان جگہوں کا بیان جہاں پر نماز ناجائز ہے۔
حدیث نمبر: 489
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي ذَرّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " جُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے لیے ساری زمین ذریعہ طہارت اور مسجد بنائی گئی ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی ہر پاک زمین تیمم کرنے اور نماز پڑھنے کے لائق بنا دی گئی ہے، یہ صرف امت محمدیہ کی خصوصیت ہے کہ ہم بالعموم ہر جگہ نماز پڑھ سکتے ہیں، سوائے چند مخصوص مقامات کے جن کا ذکر آگے احادیث میں آ رہا ہے۔ پہلی امتوں کو اس کے لئے بڑا اہتمام کرنا پڑتا تھا، وہ صرف عبادت خانوں ہی میں نماز پڑھ سکتی تھیں، دوسری جگہوں پر نہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 489
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, وله شواھد عند البخاري (335،438) ومسلم (521) وغيرهما
تخریج حدیث « تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف: 11969)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/145، 147، 248، 256) (صحیح) »
حدیث نمبر: 490
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ وَيَحْيَى بْنُ أَزْهَرَ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ الْمُرَادِيِّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْغِفَارِيِّ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَرَّ بِبَابِلَ وَهُوَ يَسِيرُ فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ يُؤَذِّنُ بِصَلَاةِ الْعَصْرِ ، فَلَمَّا بَرَزَ مِنْهَا أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ ، فَلَمَّا فَرَغَ ، قَالَ : " إِنَّ حَبِيبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانِي أَنْ أُصَلِّيَ فِي الْمَقْبَرَةِ وَنَهَانِي أَنْ أُصَلِّيَ فِي أَرْضِ بَابِلَ فَإِنَّهَا مَلْعُونَةٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوصالح غفاری کہتے ہیں کہ` علی رضی اللہ عنہ بابل سے گزر رہے تھے کہ ان کے پاس مؤذن انہیں نماز عصر کی خبر دینے آیا ، تو جب آپ بابل کی سر زمین پار کر گئے تو مؤذن کو حکم دیا اس نے عصر کے لیے تکبیر کہی ، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قبرستان میں اور سر زمین بابل میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے ۱؎ کیونکہ اس پر لعنت کی گئی ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یہ روایت اس باب کی صحیح روایت کے معارض ہے کچھ لوگوں نے کہا ہے کہ بفرض صحت اس سے مقصود یہ ہے کہ بابل میں سکونت اختیار نہ کی جائے یا یہ ممانعت خاص علی رضی اللہ عنہ کے لئے تھی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ معلوم تھا کہ یہاں کے لوگوں سے انہیں ضرر پہنچے گا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 490
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, رواية أبي صالح الغفاري: سعيد بن عبد الرحمٰن عن علي مرسلة،قاله ابن يونس المصري،انظر التقريب (2356) وتاريخ ابن يونس المصري (1/ 208 ت 554) وتحفة التحصيل (ص 125), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 31
تخریج حدیث « تفرد بہ ابو داود، (تحفة الأشراف: 10328) (ضعیف) » (اس کے راوی ”عمار“ ضعیف ہیں اور ”ابوصالح الغفاری“ کا سماع علی رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں)
حدیث نمبر: 491
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَزْهَرَ ، وَابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْغِفَارِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ ، بِمَعْنَى سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ ، قَالَ : فَلَمَّا خَرَجَ مَكَانَ فَلَمَّا بَرَزَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی علی رضی اللہ عنہ سے` سلیمان بن داود کی حدیث کے ہم معنی حدیث مروی ہے ، مگر اس میں : «فلما برز» کے بجائے «فلما خرج» ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 491
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, انظر الحديث السابق: 490, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 31
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 10328) (ضعیف) » (اس کے رواة میں ”الحجاج“ بھی ضعیف ہیں)
حدیث نمبر: 492
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ . ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَقَالَ مُوسَى فِي حَدِيثِهِ فِيمَا يَحْسَبُ عَمْرٌو : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدٌ ، إِلَّا الْحَمَّامَ وَالْمَقْبَرَةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اور موسیٰ ( موسیٰ بن اسمٰعیل ) نے اپنی روایت میں کہا ، عمرو ( عمرو بن یحییٰ ) کا خیال ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ) : ” ساری زمین نماز پڑھنے کی جگہ ہے ، سوائے حمام ( غسل خانہ ) اور قبرستان کے “ ۔
وضاحت:
مذکورہ سندوں میں روایت مسدد یقینی طور پر مرفوع ہے، محدثین کرام رحمہ اللہ علیہم فرامین رسول کے نقل کرنے میں بہت ہی حساس اور محتاط واقع ہوئے تھے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 492
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (737)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الصلاة 120 (317)، سنن ابن ماجہ/المساجد والجماعات 4 (745)، (تحفة الأشراف: 4406)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/83، 96) (صحیح) »