حدیث نمبر: 469
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ الَّذِي صَلَّى فِيهِ ، مَا لَمْ يُحْدِثْ أَوْ يَقُمْ ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” فرشتے تم میں سے ہر ایک شخص کے لیے دعائے خیر و استغفار کرتے رہتے ہیں جب تک وہ اس جگہ میں جہاں اس نے نماز پڑھی ہے بیٹھا رہتا ہے ، جب تک کہ وہ وضو نہ توڑ دے یا اٹھ کر چلا نہ جائے ، فرشتے کہتے ہیں : «اللهم اغفر له اللهم ارحمه» اے اللہ ! اسے بخش دے ، اے اللہ ! اس پر رحم فرما “ ۔
حدیث نمبر: 470
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ مَا كَانَتِ الصَّلَاةُ تَحْبِسُهُ ، لَا يَمْنَعُهُ أَنْ يَنْقَلِبَ إِلَى أَهْلِهِ إِلَّا الصَّلَاةُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسی سند سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے ہر ایک شخص برابر نماز ہی میں رہتا ہے جب تک نماز اس کو روکے رہے یعنی اپنے گھر والوں کے پاس واپس جانے سے اسے نماز کے علاوہ کوئی اور چیز نہ روکے “ ۔
حدیث نمبر: 471
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَزَالُ الْعَبْدُ فِي صَلَاةٍ مَا كَانَ فِي مُصَلَّاهُ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ ، تَقُولُ الْمَلَائِكَةُ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ ، حَتَّى يَنْصَرِفَ أَوْ يُحْدِثَ ، فَقِيلَ : مَا يُحْدِثُ ؟ قَالَ : يَفْسُو أَوْ يَضْرِطُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بندہ برابر نماز ہی میں رہتا ہے ، جب تک اپنے مصلی میں بیٹھ کر نماز کا انتظار کرتا رہے ، فرشتے کہتے ہیں : اے اللہ ! تو اسے بخش دے ، اے اللہ ! تو اس پر رحم فرما ، جب تک کہ وہ نماز سے فارغ ہو کر گھر نہ لوٹ جائے ، یا حدث نہ کرے “ ۔ عرض کیا گیا : حدث سے کیا مراد ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( حدث یہ ہے کہ وہ ) بغیر آواز کے یا آواز کے ساتھ ہوا خارج کرے ( یعنی وضو توڑ دے ) “ ۔
حدیث نمبر: 472
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاتِكَةِ الْأَزْدِيُّ ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ الْعَنْسِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَتَى الْمَسْجِدَ لِشَيْءٍ فَهُوَ حَظُّهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسجد میں جو جس کام کے لیے آئے گا وہی اس کا نصیبہ ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی جیسی نیت ہو گی اسی کے مطابق اسے اجر و ثواب ملے گا۔