حدیث نمبر: 435
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حِينَ قَفَلَ مِنْ غَزْوَةِ خَيْبَرَ فَسَارَ لَيْلَةً حَتَّى إِذَا أَدْرَكَنَا الْكَرَى عَرَّسَ ، وَقَالَ لِبِلَالٍ : اكْلَأْ لَنَا اللَّيْلَ ، قَالَ : فَغَلَبَتْ بِلَالًا عَيْنَاهُ وَهُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَى رَاحِلَتِهِ ، فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا بِلَالٌ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهِ حَتَّى إِذَا ضَرَبَتْهُمُ الشَّمْسُ ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلَهُمُ اسْتِيقَاظًا ، فَفَزِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا بِلَالُ ، فَقَالَ : أَخَذَ بِنَفْسِي الَّذِي أَخَذَ بِنَفْسِكَ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَاقْتَادُوا رَوَاحِلَهُمْ شَيْئًا ، ثُمَّ تَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ لَهُمُ الصَّلَاةَ وَصَلَّى بِهِمُ الصُّبْحَ ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ ، قَالَ : مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى ، قَالَ : 0 أَقِمْ الصَّلَاةَ لِلذِّكْرَى 0 " ، قَالَ يُونُسُ : وَكَانَ ابْنُ شِهَابٍ يَقْرَؤُهَا كَذَلِكَ ، قَالَ أَحْمَدُ : قَالَ عَنْبَسَةُ يَعْنِي عَنْ يُونُسَ ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ : لِذِكْرِي ، قَالَ أَحْمَدُ : الْكَرَى النُّعَاسُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت غزوہ خیبر سے لوٹے تو رات میں چلتے رہے ، یہاں تک کہ جب ہمیں نیند آنے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اخیر رات میں پڑاؤ ڈالا ، اور بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” ( تم جاگتے رہنا ) اور رات میں ہماری نگہبانی کرنا “ ، ابوہریرہ کہتے ہیں کہ بلال بھی سو گئے ، وہ اپنی سواری سے ٹیک لگائے ہوئے تھے ، پھر نہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے نہ بلال رضی اللہ عنہ ، اور نہ آپ کے اصحاب میں سے کوئی اور ہی ، یہاں تک کہ جب ان پر دھوپ پڑی تو سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا کر بیدار ہوئے اور فرمایا : ” اے بلال ! “ انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، مجھے بھی اسی چیز نے گرفت میں لے لیا جس نے آپ کو لیا ، پھر وہ لوگ اپنی سواریاں ہانک کر آگے کچھ دور لے گئے ۱؎ ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور بلال کو حکم دیا تو انہوں نے اقامت کہی ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھائی ، جب نماز پڑھا چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص کوئی نماز بھول جائے تو جب بھی یاد آئے اسے پڑھ لے ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : نماز قائم کرو جب یاد آئے “ ۔ یونس کہتے ہیں : ابن شہاب اس آیت کو اسی طرح پڑھتے تھے ( یعنی «للذكرى» لیکن مشہور قرأت : «أقم الصلاة للذكرى» ( سورۃ طہٰ : ۱۴ ) ہے ) ۔ احمد کہتے ہیں : عنبسہ نے یونس سے روایت کرتے ہوئے اس حدیث میں «للذكرى» کہا ہے ۔ احمد کہتے ہیں : «الكرى» «نعاس» ( اونگھ ) کو کہتے ہیں ۔
حدیث نمبر: 436
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فِي هَذَا الْخَبَرِ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَحَوَّلُوا عَنْ مَكَانِكُمُ الَّذِي أَصَابَتْكُمْ فِيهِ الْغَفْلَةُ ، قَالَ : فَأَمَرَ بِلَالًا، فَأَذَّنَ وَأَقَامَ وَصَلَّى ، قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَاهُ مَالِكٌ ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، وَابْنِ إِسْحَاقَ ، لم يذكر أحد منهم الأذان في حديث الزهري هذا ولم يسنده منهم أحد ، إلا الأوزاعي ، وأبان العطار ، عَنْ مَعْمَرٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس حدیث میں یہ بھی روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنی اس جگہ سے جہاں تمہیں یہ غفلت لاحق ہوئی ہے کوچ کر چلو “ ، وہ کہتے ہیں : پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اذان ۱؎ دی اور تکبیر کہی اور آپ نے نماز پڑھائی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے مالک ، سفیان بن عیینہ ، اوزاعی اور عبدالرزاق نے معمر اور ابن اسحاق سے روایت کیا ہے ، مگر ان میں سے کسی نے بھی زہری کی اس حدیث میں اذان ۲؎ کا ذکر نہیں کیا ہے ، نیز ان میں سے کسی نے اسے مرفوعاً نہیں بیان کیا ہے سوائے اوزاعی اور ابان عطار کے ، جنہوں نے اسے معمر سے روایت کیا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: اس روایت میں اذان کا اضافہ ہے، یونس والی روایت میں اذان کا ذکر نہیں، چھوٹی ہوئی نماز کے لئے اذان دی جائے گی یا نہیں اس مسئلہ میں علماء کا اختلاف ہے، امام احمد کی رائے میں اذان اور اقامت دونوں کہی جائے گی، اور یہی قول اصحاب الرای کا بھی ہے، امام شافعی کا مشہور قول یہ ہے کہ صرف تکبیر کہی جائے گی اذان نہیں۔
۲؎: یہی واقعہ ہشام نے حسن کے واسطے سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے اس میں بھی اذان کا ذکر ہے، اور ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں بھی اذان اور اقامت دونوں کا ذکر ہے (اور ان دونوں کی روایتیں آگے آ رہی ہیں) یہ دونوں روایتیں صحیح ہیں، نیز دیگر صحابہ کرام سے بھی ایسے ہی مروی ہے، اور احادیث و روایات میں ثقہ راویوں کے اضافے اور زیادات مقبول ہوتی ہیں۔
۲؎: یہی واقعہ ہشام نے حسن کے واسطے سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے اس میں بھی اذان کا ذکر ہے، اور ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں بھی اذان اور اقامت دونوں کا ذکر ہے (اور ان دونوں کی روایتیں آگے آ رہی ہیں) یہ دونوں روایتیں صحیح ہیں، نیز دیگر صحابہ کرام سے بھی ایسے ہی مروی ہے، اور احادیث و روایات میں ثقہ راویوں کے اضافے اور زیادات مقبول ہوتی ہیں۔
حدیث نمبر: 437
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو قَتَادَةَ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ لَهُ ، فَمَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمِلْتُ مَعَهُ ، فَقَالَ : انْظُرْ ، فَقُلْتُ : هَذَا رَاكِبٌ ، هَذَانِ رَاكِبَانِ ، هَؤُلَاءِ ثَلَاثَةٌ ، حَتَّى صِرْنَا سَبْعَةً ، فَقَالَ : احْفَظُوا عَلَيْنَا صَلَاتَنَا يَعْنِي صَلَاةَ الْفَجْرِ ، فَضُرِبَ عَلَى آذَانِهِمْ فَمَا أَيْقَظَهُمْ إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ ، فَقَامُوا فَسَارُوا هُنَيَّةً ثُمَّ نَزَلُوا فَتَوَضَّئُوا وَأَذَّنَ بِلَالٌ فَصَلَّوْا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ ثُمَّ صَلَّوْا الْفَجْرَ وَرَكِبُوا ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : قَدْ فَرَّطْنَا فِي صَلَاتِنَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّهُ لَا تَفْرِيطَ فِي النَّوْمِ ، إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ ، فَإِذَا سَهَا أَحَدُكُمْ عَنْ صَلَاةٍ ، فَلْيُصَلِّهَا حِينَ يَذْكُرُهَا وَمِنَ الْغَدِ لِلْوَقْتِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک سفر میں تھے ، تو آپ ایک طرف مڑے ، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسی طرف مڑ گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دیکھو ، ( یہ کون آ رہے ہیں ) ؟ “ ، اس پر میں نے کہا : یہ ایک سوار ہے ، یہ دو ہیں ، یہ تین ہیں ، یہاں تک کہ ہم سات ہو گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم ہماری نماز کا ( یعنی نماز فجر کا ) خیال رکھنا “ ، اس کے بعد انہیں نیند آ گئی اور وہ ایسے سوئے کہ انہیں سورج کی تپش ہی نے بیدار کیا ، چنانچہ لوگ اٹھے اور تھوڑی دور چلے ، پھر سواری سے اترے اور وضو کیا ، بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی تو سب نے پہلے فجر کی دونوں سنتیں پڑھیں ، پھر دو رکعت فرض ادا کی ، اور سوار ہو کر آپس میں کہنے لگے : ہم نے اپنی نماز میں کوتاہی کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سو جانے میں کوئی کوتاہی اور قصور نہیں ہے ، کوتاہی اور قصور تو جاگنے کی حالت میں ہے ، لہٰذا جب تم میں سے کوئی نماز بھول جائے تو جس وقت یاد آئے اسے پڑھ لے اور دوسرے دن اپنے وقت پر پڑھے “ ۔
حدیث نمبر: 438
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ نَصْرٍ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ،حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ سُمَيْرٍ ، قَالَ : قَدِمَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيُّ مِنْ الْمَدِينَةِ وَكَانَتْ الْأَنْصَارُ تُفَقِّهُهُ ، فَحَدَّثَنَا ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ فَارِسُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشَ الْأُمَرَاءِ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ ، قَالَ : فَلَمْ تُوقِظْنَا إِلَّا الشَّمْسُ طَالِعَةً ، فَقُمْنَا وَهِلِينَ لِصَلَاتِنَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : رُوَيْدًا رُوَيْدًا ، حَتَّى إِذَا تَعَالَتِ الشَّمْسُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَرْكَعُ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ فَلْيَرْكَعْهُمَا ، فَقَامَ مَنْ كَانَ يَرْكَعُهُمَا وَمَنْ لَمْ يَكُنْ يَرْكَعُهُمَا فَرَكَعَهُمَا ، ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنَادَى بِالصَّلَاةِ فَنُودِيَ بِهَا ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِنَا ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : أَلَا إِنَّا نَحْمَدُ اللَّهَ أَنَّا لَمْ نَكُنْ فِي شَيْءٍ مِنْ أُمُورِ الدُّنْيَا يَشْغَلُنَا عَنْ صَلَاتِنَا ، وَلَكِنَّ أَرْوَاحَنَا كَانَتْ بِيَدِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَأَرْسَلَهَا أَنَّى شَاءَ فَمَنْ أَدْرَكَ مِنْكُمْ صَلَاةَ الْغَدَاةِ مِنْ غَدٍ صَالِحًا فَلْيَقْضِ مَعَهَا مِثْلَهَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´خالد بن سمیر کہتے ہیں کہ` مدینہ سے عبداللہ بن رباح انصاری جنہیں انصار مدینہ فقیہ کہتے تھے ہمارے پاس آئے اور انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ مجھ سے ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہسوار تھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کا ایک لشکر بھیجا ( اور پھر یہی قصہ بیان کیا ) ، اس میں ہے : تو سورج کے نکلنے ہی نے ہمیں جگایا ، ہم گھبرائے ہوئے اپنی نماز کے لیے اٹھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھہرو ، ٹھہرو ، یہاں تک کہ جب سورج چڑھ آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے جو لوگ فجر کی دو رکعت سنت پڑھا کرتے تھے پڑھ لیں “ ، چنانچہ جو لوگ سنت پڑھا کرتے تھے اور جو نہیں پڑھتے تھے ، سبھی سنت پڑھنے کے لیے کھڑے ہو گئے اور سبھوں نے دو رکعت سنت ادا کی ، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے لیے اذان دینے کا حکم فرمایا ، اذان دی گئی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی ، جب نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سنو ! ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ ہم دنیا کے کسی کام میں نہیں پھنسے تھے ، جس نے ہم کو نماز سے باز رکھا ہو ، ہماری روحیں تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں تھیں ، جب اس نے چاہا انہیں چھوڑا ، تم میں سے جو شخص کل فجر ٹھیک وقت پر پائے وہ اس کے ساتھ ایسی ہی ایک اور نماز پڑھ لے “ ۔
حدیث نمبر: 439
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، فِي هَذَا الْخَبَرِ ، قَالَ : فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ قَبَضَ أَرْوَاحَكُمْ حَيْثُ شَاءَ ، وَرَدَّهَا حَيْثُ شَاءَ ، قُمْ فَأَذِّنْ بِالصَّلَاةِ . فَقَامُوا فَتَطَهَّرُوا حَتَّى إِذَا ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ ، قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے اس حدیث میں یوں مروی ہے کہ` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے تمہاری روحوں کو جب تک چاہا روکے رکھا ، اور جب چاہا انہیں چھوڑ دیا ، تم اٹھو اور نماز کے لیے اذان دو “ ، چنانچہ سب اٹھے اور سب نے وضو کیا یہاں تک کہ جب سورج چڑھ گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی ۔
حدیث نمبر: 440
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ ، حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمَعْنَاهُ ، قَالَ : فَتَوَضَّأَ حِينَ ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى بِهِمْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کرتے ہیں ،` اس میں ہے : ” تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا جس وقت سورج چڑھ گیا پھر انہیں نماز پڑھائی “ ۔
حدیث نمبر: 441
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ وَهُوَ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ،عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطٌ ، إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ أَنْ تُؤَخِّرَ صَلَاةً حَتَّى يَدْخُلَ وَقْتُ أُخْرَى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سو جانے میں کوتاہی نہیں ہے ، بلکہ کوتاہی یہ ہے کہ تم جاگتے ہوئے کسی نماز میں اس قدر دیر کر دو کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے “ ۔
حدیث نمبر: 442
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا ، لَا كَفَّارَةَ لَهَا إِلَّا ذَلِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص کوئی نماز بھول جائے تو جب یاد آئے اسے پڑھ لے ، یہی اس کا کفارہ ہے اس کے علاوہ اس کا کوئی اور کفارہ نہیں “ ۔
حدیث نمبر: 443
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي مَسِيرٍ لَهُ فَنَامُوا عَنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ ، فَاسْتَيْقَظُوا بِحَرِّ الشَّمْسِ ، فَارْتَفَعُوا قَلِيلًا حَتَّى اسْتَقَلَّتِ الشَّمْسُ ثُمَّ أَمَرَ مُؤَذِّنًا فَأَذَّنَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ ثُمَّ أَقَامَ ثُمَّ صَلَّى الْفَجْرَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے کہ لوگ نماز فجر میں سوئے رہ گئے ، سورج کی گرمی سے وہ بیدار ہوئے تو تھوڑی دور چلے یہاں تک کہ سورج چڑھ گیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مؤذن کو حکم دیا ، تو اس نے اذان دی تو آپ نے فجر ( کی فرض نماز ) سے پہلے دو رکعت سنت پڑھی ، پھر ( مؤذن نے ) تکبیر کہی اور آپ نے فجر پڑھائی ۔
حدیث نمبر: 444
حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، وَهَذَا لَفْظُ عَبَّاسٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ حَدَّثَهُمْ ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ يَعْنِي الْقِتْبَانِيَّ ، أَنَّ كُلَيْبَ بْنَ صُبْحٍ حَدَّثَهُمْ ، أَنَّ الزِّبْرِقَانَ حَدَّثَهُ ، عَنْ عَمِّهِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ ، قَالَ : " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فَنَامَ عَنِ الصُّبْحِ ، حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : تَنَحَّوْا عَنْ هَذَا الْمَكَانِ ، قَالَ : ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ ثُمَّ تَوَضَّئُوا وَصَلَّوْا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ ، ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى بِهِمْ صَلَاةَ الصُّبْحِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے ، آپ فجر میں سوئے رہ گئے ، یہاں تک کہ سورج نکل آیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے اور فرمایا : ” اس جگہ سے کوچ کر چلو “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا ، انہوں نے اذان دی پھر لوگوں نے وضو کیا اور فجر کی دونوں سنتیں پڑھیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا ، انہوں نے نماز کے لیے تکبیر کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فجر پڑھائی ۔
حدیث نمبر: 445
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَرِيزٌ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ ، حَدَّثَنَا مُبَشِّرٌ يَعْنِي الْحَلَبِيَّ ، حَدَّثَنَا حَرِيزٌ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ ذِي مِخْبَرٍ الْحَبَشِيِّ وَكَانَ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي هَذَا الْخَبَرِ ، قَالَ : فَتَوَضَّأَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وُضُوءًا لَمْ يَلْثَ مِنْهُ التُّرَابُ ، ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ ، ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ غَيْرَ عَجِلٍ ، ثُمَّ قَالَ لِبِلَالٍ : أَقِمْ الصَّلَاةَ . ثُمَّ صَلَّى الْفَرْضَ وَهُوَ غَيْرُ عَجِلٍ ، قَالَ : عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ صُلَيْحٍ ، حَدَّثَنِي ذُو مِخْبَرٍ رَجُلٌ مِنْ الْحَبَشَةِ ، وقَالَ عُبَيْدٌ : يَزِيدُ بْنُ صَالِحٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ذی مخبر حبشی رضی اللہ عنہ ( خادم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) سے اس واقعے میں روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اتنے پانی سے ) وضو کیا کہ مٹی اس سے بھیگ نہیں سکی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا انہوں نے اذان دی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آہستہ آہستہ ٹھہر ٹھہر کر اطمینان سے دو رکعتیں ادا کیں ، پھر بلال رضی اللہ عنہ سے کہا : ” نماز کے لیے تکبیر کہو “ تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرض نماز کو ٹھہر ٹھہر کر اطمینان سے ادا کیا ۔ حجاج کی روایت میں «عن يزيد بن صليح حدثني ذو مخبر رجل من الحبشة» ہے اور عبید کی روایت میں «يزيد بن صليح» کے بجائے «يزيد بن صالح.» ہے ۔
وضاحت:
ثابت ہوا کہ قضاء نماز بھی انسان کو سکون، اطمینان، اور اعتدال سے ادا کرنی چاہیے۔
حدیث نمبر: 446
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنْ حَرِيزٍ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ ذِي مِخْبَرٍ ابْنِ أَخِي النَّجَاشِيِّ ، فِي هَذَا الْخَبَرِ ، قَالَ : فَأَذَّنَ وَهُوَ غَيْرُ عَجِلٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی ذی مخبر سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے` انہوں نے بغیر جلد بازی کے ٹھہر ٹھہر کر اذان دی ۔
حدیث نمبر: 447
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي عَلْقَمَةَ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، قَالَ : أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَكْلَؤُنَا ، فَقَالَ بِلَالٌ : أَنَا ، فَنَامُوا حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ ، فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : افْعَلُوا كَمَا كُنْتُمْ تَفْعَلُونَ ، قَالَ : فَفَعَلْنَا ، قَالَ : فَكَذَلِكَ فَافْعَلُوا لِمَنْ نَامَ أَوْ نَسِيَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` ہم صلح حدیبیہ کے زمانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آئے ، آپ نے فرمایا : ” رات میں ہماری نگرانی کون کرے گا ؟ “ ، بلال رضی اللہ عنہ نے کہا : میں ، پھر لوگ سوئے رہے یہاں تک کہ جب سورج نکل آیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم ویسے ہی کرو جیسے کیا کرتے تھے “ ۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : چنانچہ ہم لوگوں نے ویسے ہی کیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کوئی سو جائے یا ( نماز پڑھنی ) بھول جائے تو وہ اسی طرح کرے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ جس طرح وقت پر ادا کی جانے والی نماز میں کیا جاتا ہے اسی طرح اس کی قضا نماز میں کرے، پس فجر کی قضا نماز میں بھی قرات جہری ہو گی۔