کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: فجر کے وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 423
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّهَا قَالَتْ : " إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُصَلِّي الصُّبْحَ ، فَيَنْصَرِفُ النِّسَاءُ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ مَا يُعْرَفْنَ مِنَ الْغَلَسِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز صبح ( فجر ) ادا فرماتے ، پھر عورتیں اپنی چادروں میں لپٹی واپس لوٹتیں تو اندھیرے کی وجہ سے وہ پہچانی نہیں جاتی تھیں ۔
وضاحت:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس حد تک اول وقت میں نماز ادا فرماتے تھے کہ بعد ازنماز بھی اندھیرا باقی ہوتا تھا اور دور سے معلوم نہ ہوتا تھا کہ کوئی عورت آ جا رہی ہے یا مرد؟ ورنہ پردہ دار خاتون کے پہچانے جانے کے کوئی معنی نہیں۔ عورتوں کو بھی نماز کے لیے مساجد میں حاضر ہونے کی اجازت ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 423
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (867) صحيح مسلم (645)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/ الصلاة 13 (372)، المواقیت 27 (578)، والأذان 163 (867)، 165 (872)، صحیح مسلم/المساجد 40 (645)، سنن الترمذی/الصلاة 2 (153)، سنن ابن ماجہ/الصلاة 2 (669)، سنن النسائی/المواقیت 24 (547)، (تحفة الأشراف: 17931)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/وقوت الصلاة 1(4)، مسند احمد (6/33، 36، 179، 248، 259)، سنن الدارمی/الصلاة 20 (1252) (صحیح) »
حدیث نمبر: 424
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَصْبِحُوا بِالصُّبْحِ ، فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِأُجُورِكُمْ ، أَوْ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” صبح طلوع ہونے پر ( ہی ) صبح کی نماز پڑھا کرو ۔ بلاشبہ یہ تمہارے لیے بہت زیادہ ثواب کا باعث ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی فجر طلوع صبح کے وقت پڑھو کیونکہ «اصبح الرجل» اس وقت کہا جاتا ہے جب آدمی صبح کرے اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ جن لوگوں نے «أسفروا بالفجر» کی روایت کی ہے، وہ روایت بالمعنی ہے اور یہ غلس میں پڑھنے کی فضیلت کی دلیل ہے نہ کہ اسفار کی۔ کچھ لوگ اس حدیث کا ترجمہ یوں کرتے ہیں کہ سفیدی اور روشنی ہونے پر فجر کی نماز پڑھا کرو۔ مگر یہ صحیح نہیں ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد خیرالقرون میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا معمول ثابت ہے کہ وہ سب فجر کی نماز «غلس» یعنی صبح کے اندھیرے ہی میں پڑھتے تھے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس ارشاد کا پس منظر یہ ہے کہ شاید کچھ لوگ بہت زیادہ جلدی کرتے ہوئے قبل از وقت نماز پڑھ لیتے تھے تو اس حکم سے ان کی اصلاح فرمائی گئی۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 424
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, مشكوة المصابيح (614), محمد بن عجلان صرح بالسماع عند ابن ماجه (672) وغيره، وتابعه محمد بن إسحاق عند الترمذي (154) صححه ابن حبان (263)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الصلاة 3 (154)، سنن النسائی/المواقیت 26 (550)، سنن ابن ماجہ/الصلاة 2 (672)، تحفة الأشراف(3582)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/460، 4/140)، سنن الدارمی/الصلاة 21 (1253) (حسن صحیح) »