کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: عشاء کے وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 419
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِوَقْتِ هَذِهِ الصَّلَاةِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ ، " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهَا لِسُقُوطِ الْقَمَرِ لِثَالِثَةٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` میں لوگوں میں سب سے زیادہ اس نماز یعنی عشاء کے وقت کو جانتا ہوں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ نماز تیسری رات کا چاند ڈوب جانے کے وقت پڑھتے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 419
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (613)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الصلاة 9 (165)، سنن النسائی/المواقیت 18 (529)، (تحفة الأشراف: 11614)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/270، 274)، سنن الدارمی/الصلاة 18 (1247) (صحیح) »
حدیث نمبر: 420
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : مَكَثْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ ، فَخَرَجَ إِلَيْنَا حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ بَعْدَهُ ، فَلَا نَدْرِي أَشَيْءٌ شَغَلَهُ أَمْ غَيْرُ ذَلِكَ ، فَقَالَ حِينَ خَرَجَ : "أَتَنْتَظِرُونَ هَذِهِ الصَّلَاةَ ؟ لَوْلَا أَنْ تَثْقُلَ عَلَى أُمَّتِي لَصَلَّيْتُ بِهِمْ هَذِهِ السَّاعَةَ ، ثُمَّ أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ایک رات ہم عشاء کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا انتظار کرتے رہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تشریف لائے جب تہائی رات یا اس سے زیادہ گزر گئی ، ہم نہیں جانتے کہ کسی چیز نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشغول کر رکھا تھا یا کوئی اور بات تھی ، جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر آئے تو فرمایا : ” کیا تم لوگ اس نماز کا انتظار کر رہے ہو ؟ اگر میری امت پر گراں نہ گزرتا تو میں انہیں یہ نماز اسی وقت پڑھاتا “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مؤذن کو حکم دیا ، اس نے نماز کے لیے تکبیر کہی ۔
وضاحت:
انتظار کرانے کا مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ لوگ عبادت کے انتظار کا ثواب حاصل کر لیں اور ان کو تاخیر کی فضیلت بھی بتا دی جائے۔ بہرحال اس سے عشاء کی نماز تاخیر سے پڑھنے کی فضیلت کا اثبات ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 420
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (639)
تخریج حدیث « * تخريج:صحیح مسلم/المساجد 39 (639)، سنن النسائی/المواقیت 20 (538)، (تحفة الأشراف: 7649)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/مواقیت الصلاة 24 (571)، مسند احمد (2/28، 95، 126) (صحیح) »
حدیث نمبر: 421
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا حَرِيزٌ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ السَّكُونِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ، يَقُولُ : ارْتَقَبْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْعَتَمَةِ فَأَخَّرَ حَتَّى ظَنَّ الظَّانُّ أَنَّهُ لَيْسَ بِخَارِجٍ ، وَالْقَائِلُ مِنَّا ، يَقُولُ : صَلَّى ، فَإِنَّا لَكَذَلِكَ ، حَتَّى خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا لَهُ كَمَا قَالُوا ، فَقَالَ لَهُمْ : " أَعْتِمُوا بِهَذِهِ الصَّلَاةِ ، فَإِنَّكُمْ قَدْ فُضِّلْتُمْ بِهَا عَلَى سَائِرِ الْأُمَمِ ، وَلَمْ تُصَلِّهَا أُمَّةٌ قَبْلَكُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم نے عشاء میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کیا لیکن آپ نے تاخیر کی ، یہاں تک کہ گمان کرنے والوں نے گمان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں تشریف لائیں گے ، اور ہم میں سے بعض کہنے والے یہ بھی کہہ رہے تھے کہ آپ نماز پڑھ چکے ہیں ، ہم اسی حال میں تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، لوگوں نے آپ سے بھی وہی بات کہی جو پہلے کہہ رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” تم لوگ اس نماز کو دیر کر کے پڑھو ، کیونکہ تمہیں اسی کی وجہ سے دوسری امتوں پر فضیلت دی گئی ہے ، تم سے پہلے کسی امت نے یہ نماز نہیں پڑھی “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 421
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (612)
تخریج حدیث « تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 11319)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/237) (صحیح) »
حدیث نمبر: 422
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَتَمَةِ ، فَلَمْ يَخْرُجْ حَتَّى مَضَى نَحْوٌ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ ، فَقَالَ : خُذُوا مَقَاعِدَكُمْ ، فَأَخَذْنَا مَقَاعِدَنَا ، فَقَالَ : " إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَأَخَذُوا مَضَاجِعَهُمْ ، وَإِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُ الصَّلَاةَ ، وَلَوْلَا ضَعْفُ الضَّعِيفِ وَسَقَمُ السَّقِيمِ لَأَخَّرْتُ هَذِهِ الصَّلَاةَ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشاء پڑھنی چاہی تو آپ باہر تشریف نہ لائے یہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی ( اس کے بعد تشریف لائے ) اور فرمایا : ” تم لوگ اپنی اپنی جگہ بیٹھے رہو ، ہم لوگ اپنی اپنی جگہ بیٹھے رہے “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگوں نے نماز پڑھ لی اور اپنی خواب گاہوں میں جا کر سو رہے ، اور تم برابر نماز ہی میں رہے جب تک کہ تم نماز کا انتظار کرتے رہے ، اگر مجھے کمزور کی کمزوری ، اور بیمار کی بیماری کا خیال نہ ہوتا تو میں اس نماز کو آدھی رات تک مؤخر کرتا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 422
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (618)
تخریج حدیث « سنن النسائی/المواقیت 20 (539)، سنن ابن ماجہ/الصلاة 8 (693)، (تحفة الأشراف: 4314)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/5) (صحیح) »