کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: مغرب کے وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 416
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نَرْمِي ، فَيَرَى أَحَدُنَا مَوْضِعَ نَبْلِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب پڑھتے تھے ، پھر تیر مارتے تو ہم میں سے ہر شخص اپنے تیر کے گرنے کی جگہ دیکھ لیتا تھا ۔
وضاحت:
یعنی غروب کے بعد فوراً ہی نماز پڑھ لی جاتی تھی کہ نماز سے فراغت کے بعد فضا میں اس قدر روشنی باقی ہوتی تھی کہ کمان سے پھینکا گیا تیر اپنے گرنے کی جگہ پر نظر آتا تھا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 416
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 374) وقد أخرجہ: مسند احمد (3/370) (صحیح) »
حدیث نمبر: 417
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عِيسَى ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ سَاعَةَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ إِذَا غَابَ حَاجِبُهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب سورج ڈوبتے ہی پڑھتے تھے جب اس کے اوپر کا کنارہ غائب ہو جاتا ۔
وضاحت:
سورج کی ٹکیہ کا افق میں غائب ہو جانا ہی غروب ہوتا ہے۔ اس کے بعد احتیاط کے کوئی معنی نہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 417
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (561) صحيح مسلم (636)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/المواقیت 18 (561)، صحیح مسلم/المساجد 38 (636)، سنن الترمذی/الصلاة 8 (164)، سنن ابن ماجہ/الصلاة 7 (688)، (تحفة الأشراف: 4535)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/54)، دی/الصلاة 16(1245) (صحیح) »
حدیث نمبر: 418
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ عَلَيْنَا أَبُو أَيُّوبَ غَازِيًا وَعُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ يَوْمَئِذٍ عَلَى مِصْرَ فَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ ، فَقَامَ إِلَيْهِ أَبُو أَيُّوبَ ، فَقَالَ لَهُ : مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ يَا عُقْبَةُ ؟ قَالَ : أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا تَزَالُ أُمَّتِي بِخَيْرٍ ، أَوْ قَالَ : عَلَى الْفِطْرَةِ مَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْمَغْرِبَ إِلَى أَنْ تَشْتَبِكَ النُّجُومُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مرثد بن عبداللہ کہتے ہیں کہ` جب ابوایوب رضی اللہ عنہ ہمارے پاس جہاد کے ارادے سے آئے ، ان دنوں عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ مصر کے حاکم تھے ، تو عقبہ نے مغرب میں دیر کی ، ابوایوب نے کھڑے ہو کر ان سے کہا : عقبہ ! بھلا یہ کیا نماز ہے ؟ عقبہ نے کہا : ہم مشغول رہے ، انہوں نے کہا : کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے نہیں سنا کہ : ” میری امت ہمیشہ بھلائی یا فطرت پر رہے گی جب تک وہ مغرب میں اتنی تاخیر نہ کرے گی کہ ستارے چمکنے لگ جائیں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 418
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (609)
تخریج حدیث « تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 3488)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/147) (حسن صحیح) »