کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: عصر کے وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 404
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ ، وَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر ایسے وقت میں پڑھتے تھے کہ سورج سفید ، بلند اور زندہ ہوتا تھا ، اور جانے والا ( عصر پڑھ کر ) عوالی مدینہ تک جاتا اور سورج بلند رہتا تھا ۔
وضاحت:
یہ دلیل ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اول وقت میں عصر پڑھ لیا کرتے تھے جس کی تفصیل گذر چکی ہے کہ ایک مثل سایہ سے عصر کا وقت شروع ہو جاتا ہے۔ سورج زندہ ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ آپ اس کی گرمی و حرارت محسوس کریں۔ مدینہ کے جنوب مشرق کی جانب کی آبادیوں کو «عوالی» (بالائی علاقے) اور شمال کی جانب کے علاقے کو «سافلہ» (نشیبی علاقہ) کہتے تھے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 404
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (621)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/المساجد 34 (621)، سنن النسائی/المواقیت 7 (508)، سنن ابن ماجہ/الصلاة 5 (682)، (تحفة الأشراف: 1522)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المواقیت 13 (550)، والاعتصام 16 (7329)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة 1(11)، مسند احمد (3/223)، سنن الدارمی/الصلاة 15 (1244) (صحیح) »
حدیث نمبر: 405
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : وَالْعَوَالِي عَلَى مِيلَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ ، قَالَ : وَأَحْسَبُهُ قَالَ : أَوْ أَرْبَعَةٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زہری کا بیان ہے کہ` عوالی مدینہ سے دو یا تین میل کے فاصلہ پر واقع ہے ۔ راوی کا کہنا ہے کہ میرا خیال ہے کہ انہوں نے چار میل بھی کہا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 405
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19378) (صحیح) »
حدیث نمبر: 406
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَيَاتُهَا أَنْ تَجِدَ حَرَّهَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´خیثمہ کہتے ہیں کہ` سورج کے زندہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ تم اس کی تپش اور گرمی محسوس کرو ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 406
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:18618) (صحیح) »
حدیث نمبر: 407
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ عُرْوَةُ : وَلَقَدْ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا قَبْلَ أَنْ تَظْهَرَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر ایسے وقت میں ادا فرماتے تھے کہ دھوپ میرے حجرے میں ہوتی ، ابھی دیواروں پر چڑھی نہ ہوتی ۔
وضاحت:
حجرہ عربی زبان میں گھر کے ساتھ گھرے ہوئے آنگن کو بھی کہتے ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کے صحن کی دیواریں چھوٹی ہی تھیں اس لیے دھوپ ابھی آنگن ہی میں ہوتی تھی۔ مشرقی دیوار پر چڑھتی نہ تھی کہ عصر کا وقت ہو جاتا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ لیتے تھے۔ معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اول وقت میں نماز عصر پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 407
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (522) صحيح مسلم (611)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/المواقیت 1 (522)، 13 (544)، والخمس 4 (3103)، صحیح مسلم/المساجد 31 (612)، (تحفة الأشراف: 16596)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 6 (109)، سنن النسائی/المواقیت 7 (506)، سنن ابن ماجہ/الصلاة 5 (683)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة 1(2) (صحیح) »
حدیث نمبر: 408
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْيَمَامِيُّ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ ، قَالَ : " قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ ، فَكَانَ يُؤَخِّرُ الْعَصْرَ مَا دَامَتِ الشَّمْسُ بَيْضَاءَ نَقِيَّةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی بن شیبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ آئے تو دیکھا کہ آپ عصر کو مؤخر کرتے جب تک کہ سورج سفید اور صاف رہتا تھا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 408
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, محمد بن يزيد اليمامي وشيخه يزيد بن عبد الرحمٰن: مجهولان (تقريب: 6404،7747), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 28
تخریج حدیث « تفرد به أبوداود، (تحفة الأشراف: 10019) (ضعیف) » (اس کے دو راوی محمد بن یزید اور یزید مجہول ہیں)
حدیث نمبر: 409
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ : " حَبَسُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى صَلَاةِ الْعَصْرِ ، مَلَأَ اللَّهُ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خندق کے روز فرمایا : ” ہم کو انہوں نے ( یعنی کافروں نے ) نماز وسطیٰ ( یعنی عصر ) سے روکے رکھا ، اللہ ان کے گھروں اور قبروں کو جہنم کی آگ سے بھر دے “ ۔
وضاحت:
یہ حدیث آیت کریمہ: «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وقوموا لله قانتين» نمازوں کی محافظت اور پابندی کرو اور درمیانی (یا افضل) نماز کی، اور اللہ کے لیے باادب ہو کر کھڑے ہوؤ ۔ کی تفسیر کرتی ہے کہ اس میں صلوۃ وسطیٰ سے مراد عصر کی نماز ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی رحیم و شفیق شخصیت کی زبان مبارک سے اس قسم کی شدید بددعا کا جاری ہونا واضح کرتا ہے کہ نماز کا بروقت ادا کرنا کتنا اہم ہے ہمیں بھی ہر نماز بروقت ادا کرنی چاہیے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 409
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2931) صحيح مسلم (627)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الجہاد 98 (2931)، والمغازي 29 (4111)، وتفسیر البقرة (4533)، والدعوات 58 (6396)، صحیح مسلم/المساجد 35 (626)، 36 (627)، سنن الترمذی/تفسیر البقرة 42 (2984)، سنن النسائی/الصلاة 14 (474)، (تحفة الأشراف: 10232)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الصلاة 6 (684)، مسند احمد (1/81، 82، 113، 122، 126، 135، 137، 144، 146، 150، 151، 152، 153، 154)، سنن الدارمی/الصلاة 28 (1286) (صحیح) »
حدیث نمبر: 410
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّهُ قَالَ : " أَمَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنْ أَكْتُبَ لَهَا مُصْحَفًا ، وَقَالَتْ : إِذَا بَلَغْتَ هَذِهِ الْآيَةَ فَآذِنِّي حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى سورة البقرة آية 238 ، فَلَمَّا بَلَغْتُهَا آذَنْتُهَا ، فَأَمْلَتْ عَلَيَّ : 0 حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى وَصَلاةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ 0 ، ثُمَّ قَالَتْ عَائِشَةُ : سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´قعقاع بن حکیم ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام ابویونس سے روایت کرتے ہیں کہ` انہوں نے کہا کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے حکم دیا کہ میں ان کے لیے ایک مصحف لکھوں اور کہا کہ جب تم آیت کریمہ : «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وصلاة العصر وقوموا لله قانتين» پر پہنچنا تو مجھے بتانا ، چنانچہ جب میں اس آیت پر پہنچا تو انہیں اس کی خبر دی ، تو انہوں نے مجھ سے اسے یوں لکھوایا : «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وصلاة العصر وقوموا لله قانتين‏ » ۱؎ ۲؎ ، پھر عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز وسطیٰ (درمیانی نماز) نماز عصر نہیں کوئی اور نماز ہے لیکن یہ قرأت شاذ ہے اس سے استدلال صحیح نہیں، یا یہ عطف عطف تفسیری ہے۔
۲؎: نمازوں کی حفاظت کرو خصوصی طور پر درمیان والی نماز کی اور عصر کی اور اللہ کے سامنے باادب کھڑے رہا کرو۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 410
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح ثم , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (629)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/المساجد 36 (629)، سنن الترمذی/تفسیر البقرة (2982)، سنن النسائی/الصلاة 14 (473)، (تحفة الأشراف: 17809)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صلاة الجماعة 7 (25)، مسند احمد (6/73) (صحیح) »
حدیث نمبر: 411
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي حَكِيمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الزِّبْرِقَانَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ ، وَلَمْ يَكُنْ يُصَلِّي صَلَاةً أَشَدَّ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا ، فَنَزَلَتْ : حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى سورة البقرة آية 238 ، وَقَالَ : إِنَّ قَبْلَهَا صَلَاتَيْنِ وَبَعْدَهَا صَلَاتَيْنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر دوپہر کو پڑھا کرتے تھے ، اور کوئی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب پر اس سے زیادہ سخت نہ ہوتی تھی ، تو یہ آیت نازل ہوئی : «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى» ۱؎ زید نے کہا : بیشک اس سے پہلے دو نماز ہیں ( ایک عشاء کی ، دوسری فجر کی ) اور اس کے بعد دو نماز ہیں ( ایک عصر کی دوسری مغرب کی ) ۔
وضاحت:
۱؎: نماز وسطی سے مراد کون سی نماز ہے اس سلسلے میں مختلف حدیثیں وارد ہیں، زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ اس سے عصر مراد ہے، اکثر علماء کا رجحان اسی جانب ہے، واللہ اعلم بالصواب۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 411
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (637)
تخریج حدیث « تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 3731)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/183)، موطا امام مالک/صلاة الجماعة 7 (27موقوفا) (صحیح) »
حدیث نمبر: 412
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنِي ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْعَصْرِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ ، وَمَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْفَجْرِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پالی تو اس نے نماز عصر پالی ، اور جس شخص نے سورج نکلنے سے پہلے فجر کی ایک رکعت پالی تو اس نے نماز فجر پالی “ ۔
وضاحت:
مذکورہ بالاحدیث صاحب عذر کے لیے ہے مثلاً جب کوئی سوتا رہ گیا ہو یا بھول گیا ہو اور بالکل آخر وقت میں جاگا ہو آخر وقت میں نماز یاد آئی ہو تو اس کے لیے یہی وقت ہے۔ مگر جو بغیر کسی عذر کے تاخیر کرے تو اس کے لیے انتہائی مکروہ ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 412
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (608)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/المساجد 30 (608)، سنن النسائی/المواقیت 10 (515)، 28 (551)، (تحفة الأشراف: 13576)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المواقیت 28 (579)، سنن الترمذی/الصلاة 25 (186)، سنن النسائی/11 (516، 517)، سنن ابن ماجہ/الصلاة 11 (1122)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة 1(5)، مسند احمد (2/254، 260، 282، 348، 399، 462، 474)، سنن الدارمی/الصلاة 22 (1258) (صحیح) »
حدیث نمبر: 413
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بَعْدَ الظُّهْرِ فَقَامَ يُصَلِّي الْعَصْرَ ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ ذَكَرْنَا تَعْجِيلَ الصَّلَاةِ أَوْ ذَكَرَهَا ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِينَ ، تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِينَ ، تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِينَ ، يَجْلِسُ أَحَدُهُمْ حَتَّى إِذَا اصْفَرَّتِ الشَّمْسُ فَكَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ ، أَوْ عَلَى قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ ، قَامَ فَنَقَرَ أَرْبَعًا لَا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علاء بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ` ہم ظہر کے بعد انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو دیکھا کہ وہ عصر پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے ہیں ، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے نماز کے جلدی ہونے کا ذکر کیا یا خود انہوں نے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” یہ منافقوں کی نماز ہے ، یہ منافقوں کی نماز ہے ، یہ منافقوں کی نماز ہے کہ آدمی بیٹھا رہے یہاں تک کہ جب سورج زرد ہو جائے اور وہ شیطان کی دونوں سینگوں کے بیچ ہو جائے یا اس کی دونوں سینگوں پر ہو جائے ۱؎ تو اٹھے اور چار ٹھونگیں لگا لے اور اس میں اللہ کا ذکر صرف تھوڑا سا کرے “ ۔
وضاحت:
یہ حدیث گویا پہلی حدیث ۴۱۲ کی شرح ہے کہ اگر کسی سے عذر شرعی کی بناء پر تاخیر ہوئی ہو اور اس نے سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے ایک رکعت پالی ہو تو اس نے گویا وقت میں نماز پالی اور یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر خاص رحمت ہے۔ اور اگر بغیر عذر کے تاخیر کرے تو یہ منافقت کی علامت ہے۔ سورج کا شیطان کے دو سینگوں کے درمیان ہونا کے مفہوم میں اختلاف ہے، علامہ نووی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: کہا جاتا ہے کہ یہ حقیقت ہے اور سورج کے طلوع و غروب کے وقت شیطان سورج کے سامنے آ جاتا ہے اور ایسے لگتا ہے گویا سورج اس کے سر کے درمیان سے نکل رہا ہے یا غروب ہو رہا ہے اور سورج کے پجاری بھی ان اوقات میں اس کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہی تو یہ سمجھتا ہے کہ اسے ہی سجدہ کیا جا رہا ہے۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دو سینگوں سے مراد مجاز شیطان کا بلند ہونا اور شیطانی قوتوں کا غلبہ ہے اور کفار طلوع و غروب کے اوقات مین سورج کو سجدہ کرتے ہیں۔ استثنائی صورتوں کو قاعدہ یا کلیہ نہیں بنانا چاہیے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 413
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (622)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/المساجد 34 (622)، سنن الترمذی/الصلاة 6 (160)، سنن النسائی/المواقیت 8 (512)، (تحفة الأشراف: 1122)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القرآن 10(46)، مسند احمد (3/102، 103، 149، 185، 247) (صحیح) »
حدیث نمبر: 414
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الَّذِي تَفُوتُهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ ، فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : أُتِرَ ، وَاخْتُلِفَ عَلَى أَيُّوبَ فِيهِ ، وقَالَ الزُّهْرِيُّ : عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : وُتِرَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص کی عصر چھوٹ گئی گویا اس کے اہل و عیال تباہ ہو گئے اور اس کے مال و اسباب لٹ گئے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عبیداللہ بن عمر نے «وتر» ( واؤ کے ساتھ ) کے بجائے «أتر» ( ہمزہ کے ساتھ ) کہا ہے ( دونوں کے معنی ہیں : لوٹ لیے گئے ) ۔ اس حدیث میں «وتر» اور «أتر» کا اختلاف ایوب کے تلامذہ میں ہوا ہے ۔ اور زہری نے سالم سے ، سالم نے اپنے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اور عبداللہ بن عمر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ نے «وتر» فرمایا ہے ۔
وضاحت:
امام خطابی نے کہا ہے وُتِرَ کے معنی ہیں کم کر دیا گیا یا چھین لیا گیا، پس وہ شخص بغیر اہل اور مال کے تنہا رہ گیا، اس لیے ایک مسلمان کو نماز عصر کو فوت کرنے سے اسی طرح بچنا چاہیے جیسے وہ گھر والوں سے اور مال کے فوت ہونے سے ڈرتا ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو «باب ماجاء فی السھوعن وقت صلاۃ العصر» کے ذیل میں درج فرمایا ہے۔ اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ انسان عصر کی نماز میں بھول کر بھی تاخیر کرے تو بے حدوشمار گھاٹے اور خسارے میں ہے، کجا یہ کہ عمداً تغافل کا شکار ہو۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 414
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (552) صحيح مسلم (626)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/المواقیت 14 (552)، صحیح مسلم/المساجد 35 (626)، سنن النسائی/الصلاة 17 (479)، (تحفة الأشراف: 8345)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 16 (175)، سنن ابن ماجہ/الصلاة 6 (685)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة 5 (21)، مسند احمد (2/8، 13، 27، 48، 64، 75، 76، 102، 134، 145، 147)، سنن الدارمی/الصلاة 27 (1267) (صحیح) »
حدیث نمبر: 415
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : قَالَ أَبُو عَمْرٍو يَعْنِي الْأَوْزَاعِيَّ : وَذَلِكَ أَنْ تَرَى مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الشَّمْسِ صَفْرَاءَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوعمرو یعنی اوزاعی کا بیان ہے کہ` عصر فوت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ زمین پر جو دھوپ ہے وہ تمہیں زرد نظر آنے لگے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 415
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, الوليد بن مسلم عنعن وھو مدلس (طبقات المدلسين: 127/ 4), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 28
تخریج حدیث « تفرد بہ ابو داود، (تحفة الأشراف: 18965) (ضعیف ) » (ولید مدلس راوی ہیں، نیز یہ اوزاعی کا اپنا خیال ہے)