کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: دامن میں گندگی لگ جائے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 383
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أُمِّ وَلَدٍ لِإِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّهَا سَأَلَتْ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : إِنِّي امْرَأَةٌ أُطِيلُ ذَيْلِي وَأَمْشِي فِي الْمَكَانِ الْقَذِرِ ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُطَهِّرُهُ مَا بَعْدَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف کی ام ولد ( حمیدہ ) سے روایت ہے کہ` انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ میں اپنا دامن لمبا رکھتی ہوں ( جو زمین پر گھسٹتا ہے ) اور میں نجس جگہ میں بھی چلتی ہوں ؟ تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” اس کے بعد کی زمین ( جس پر وہ گھسٹتا ہے ) اس کو پاک کر دیتی ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 383
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (504), أم ولد لإبراھيم بن عبد الرحمن بن عوف وثقھا العقيلي بقوله: ’’ھذا إسناد صالح جيد‘‘ (2/257) وقال أبو القاسم الحنائي في حديثه: ’’ھذا حديث حسن‘‘ (فوائد الحنائي 2/1188) وللحديث شواھد منھا الحديث الآتي (384)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الطھارة 109 (143)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 79 (531)، (تحفة الأشراف: 18296)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطھارة 4(16)، سنن الدارمی/الطھارة 63 (769) (صحیح) »
حدیث نمبر: 384
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ،عَنْ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لَنَا طَرِيقًا إِلَى الْمَسْجِدِ مُنْتِنَةً ، فَكَيْفَ نَفْعَلُ إِذَا مُطِرْنَا ؟ قَالَ : " أَلَيْسَ بَعْدَهَا طَرِيقٌ هِيَ أَطْيَبُ مِنْهَا ؟ . قَالَتْ : قُلْتُ : بَلَى ، قَالَ : فَهَذِهِ بِهَذِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´قبیلہ بنو عبدالاشھل کی ایک عورت کہتی ہیں کہ` میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہمارا مسجد تک جانے کا راستہ غلیظ اور گندگیوں والا ہے تو جب بارش ہو جائے تو ہم کیا کریں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا اس کے آگے پھر کوئی اس سے بہتر اور پاک راستہ نہیں ہے ؟ “ ، میں نے کہا : ہاں ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو یہ اس کا جواب ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی پاک و صاف راستے میں چلنے سے کپڑا پاک ہو جائے گا جیسے پہلے گندے راستہ سے ناپاک ہو گیا تھا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 384
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (512)
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/الطھارة 79 (533)،(تحفة الأشراف: 18380)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/435) (صحیح) »