کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: زمین خشک ہو کر پاک ہو جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 382
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عُمَرَ : " كُنْتُ أَبِيتُ فِي الْمَسْجِدِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكُنْتُ فَتًى شَابًّا عَزَبًا ، وَكَانَتْ الْكِلَابُ تَبُولُ وَتُقْبِلُ وَتُدْبِرُ فِي الْمَسْجِدِ ، فَلَمْ يَكُونُوا يَرُشُّونَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں رات کو مسجد میں سوتا تھا ، میں ایک نوجوان کنوارا ( غیر شادی شدہ ) تھا ، اور کتے مسجد میں آتے جاتے اور پیشاب کرتے ، کوئی اس پر پانی نہ بہاتا تھا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ زمین میں اگر پیشاب وغیرہ پڑ جائے پھر وہ زمین خشک ہو جائے تو وہ پاک ہو جاتی ہے، نیز مسجد میں سونا درست اور جائز ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 382
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (174)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الوضوء 33 (174)، تعلیقًا (تحفة الأشراف: 6704)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/71) (صحیح) »