حدیث نمبر: 352
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ النَّاسُ مُهَّانَ أَنْفُسِهِمْ ، فَيَرُوحُونَ إِلَى الْجُمُعَةِ بِهَيْئَتِهِمْ ، فَقِيلَ لَهُمْ : لَوِ اغْتَسَلْتُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` لوگ اپنے کام خود کرتے تھے ، اور جمعہ کے لیے اسی حالت میں چلے جاتے تھے ( ان کی بو سے لوگوں کو تکلیف ہوتی تھی ، جب اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا ) تو ان لوگوں سے کہا گیا : ” کاش تم لوگ غسل کر کے آتے “ ۔
حدیث نمبر: 353
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، أَنَّ أُنَاسًا مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ جَاءُوا ، فَقَالُوا : يَا ابْنَ عَبَّاسٍ ، أَتَرَى الْغُسْلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاجِبًا ؟ قَالَ : لَا ، وَلَكِنَّهُ أَطْهَرُ وَخَيْرٌ لمن اغتسل ، ومن لم يغتسل فليس عليه بواجب ، " وَسَأُخْبِرُكُمْ كَيْفَ بَدْءُ الْغُسْلِ ، كَانَ النَّاسُ مَجْهُودِينَ يَلْبَسُونَ الصُّوفَ وَيَعْمَلُونَ عَلَى ظُهُورِهِمْ وَكَانَ مَسْجِدُهُمْ ضَيِّقًا مُقَارِبَ السَّقْفِ إِنَّمَا هُوَ عَرِيشٌ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ حَارٍّ وَعَرِقَ النَّاسُ فِي ذَلِكَ الصُّوفِ حَتَّى ثَارَتْ مِنْهُمْ رِيَاحٌ آذَى بِذَلِكَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا ، فَلَمَّا وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ الرِّيحَ ، قَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ ، إِذَا كَانَ هَذَا الْيَوْمَ فَاغْتَسِلُوا وَلْيَمَسَّ أَحَدُكُمْ أَفْضَلَ مَا يَجِدُ مِنْ دُهْنِهِ وَطِيبِهِ " ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : ثُمَّ جَاءَ اللَّهُ بِالْخَيْرِ ، وَلَبِسُوا غَيْرَ الصُّوفِ وَكُفُوا الْعَمَلَ وَوُسِّعَ مَسْجِدُهُمْ وَذَهَبَ بَعْضُ الَّذِي كَانَ يُؤْذِي بَعْضُهُمْ بَعْضًا مِنَ الْعَرَقِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عکرمہ کہتے ہیں کہ` عراق کے کچھ لوگ آئے اور کہنے لگے : اے ابن عباس ! کیا جمعہ کے روز غسل کو آپ واجب سمجھتے ہیں ؟ آپ نے کہا : نہیں ، لیکن جو غسل کرے اس کے لیے یہ بہتر اور پاکیزگی کا باعث ہے ، اور جو غسل نہ کرے اس پر واجب نہیں ہے ، اور میں تم کو بتاتا ہوں کہ غسل کی ابتداء کیسے ہوئی : لوگ پریشان حال تھے ، اون پہنا کرتے تھے ، اپنی پیٹھوں پر بوجھ ڈھوتے تھے ، ان کی مسجد بھی تنگ تھی ، اس کی چھت نیچی تھی بس کھجور کی شاخوں کا ایک چھپر تھا ، ( ایک بار ) ایسا ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سخت گرمی کے دن نکلے ، لوگوں کو کمبل پہننے کی وجہ سے بےحد پسینہ آیا یہاں تک کہ ان کی بدبو پھیلی اور اس سے ایک دوسرے کو تکلیف ہوئی ، تو جب یہ بو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو محسوس ہوئی تو آپ نے فرمایا : ” لوگو ! جب یہ دن ہوا کرے تو تم غسل کر لیا کرو ، اور اچھے سے اچھا جو تیل اور خوشبو میسر ہو لگایا کرو “ ، ابن عباس کہتے ہیں : پھر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو وسعت دی ، وہ لوگ اون کے علاوہ کپڑے پہننے لگے ، خود محنت کرنے کی ضرورت نہیں رہی ، ان کی مسجد بھی کشادہ ہو گئی ، اور پسینے کی بو سے ایک دوسرے کو جو تکلیف ہوتی تھی ختم ہو گئی ۔
حدیث نمبر: 354
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَوَضَّأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَبِهَا وَنِعْمَتْ ، وَمَنِ اغْتَسَلَ فَهُوَ أَفْضَلُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے جمعہ کے دن وضو کیا ، تو اس نے سنت پر عمل کیا اور یہ اچھی بات ہے ، اور جس نے غسل کیا تو یہ افضل ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں اس بات کی صراحت ہے کہ جمعہ کے لئے وضو کافی ہے اور غسل افضل ہے فرض نہیں۔