کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: جمعہ کے دن غسل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 340
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ ، أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ ، عَنْ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بَيْنَا هُوَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ ، فَقَالَ عُمَرُ : أَتَحْتَبِسُونِ عَنِ الصَّلَاةِ ؟ فَقَالَ الرَّجُلُ : مَا هُوَ إِلَّا أَنْ سَمِعْتُ النِّدَاءَ فَتَوَضَّأْتُ ، فَقَالَ عُمَرُ : وَالْوُضُوءُ أَيْضًا ، أَوَ لَمْ تَسْمَعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران ایک آدمی ۱؎ داخل ہوا تو آپ نے کہا : کیا تم لوگ نماز ( میں اول وقت آنے ) سے رکے رہتے ہو ؟ اس شخص نے کہا : جوں ہی میں نے اذان سنی ہے وضو کر کے آ گیا ہوں ، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اچھا صرف وضو ہی ؟ کیا تم لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے نہیں سنا ہے : ” جب تم میں سے کوئی جمعہ کے لیے آئے تو چاہیئے کہ غسل کرے “ ۔
وضاحت:
۱؎: اس سے مراد عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 340
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (882) صحيح مسلم (845)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الجمعة 2 (878)، 5 (882)، صحیح مسلم/الجمعة 1 (845)، موطا امام مالک/النداء للصلاة 1(3)، (تحفة الأشراف: 10667)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجمعة 3 (494)، سنن الدارمی/الصلاة 190 (1580) (صحیح) »
حدیث نمبر: 341
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " غُسْلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جمعہ کے دن کا غسل ہر بالغ ( مسلمان ) پر واجب ہے “ ۔
وضاحت:
عورتیں بھی اس کی پابند ہیں۔ کسی بھی مسلمان بالغ مرد عورت کو بغیر معقول عذر کے اس بارے میں غفلت نہیں کرنی چاہیے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 341
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (895) صحيح مسلم (846)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الأذان 161 (858)، والجمعة 2 (879)، 12 (895)، والشہادات 18 (2665)، صحیح مسلم/الجمعة 1 (846)، سنن النسائی/الجمعة 8 (1378)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 80 (1089)، (تحفة الأشراف: 4161)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجمعة 1(4)، مسند احمد (3/6)، سنن الدارمی/الصلاة 190 (1578) (صحیح) »
حدیث نمبر: 342
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الرَّمْلِيُّ ، أَخْبَرَنَا الْمُفَضَّلُ يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ رَوَاحُ الْجُمُعَةِ ، وَعَلَى كُلِّ مَنْ رَاحَ إِلَى الْجُمُعَةِ الْغُسْلُ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : إِذَا اغْتَسَلَ الرَّجُلُ بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ أَجْزَأَهُ مِنْ غُسْلِ الْجُمُعَةِ ، وَإِنْ أَجْنَبَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر بالغ پر جمعہ کی حاضری اور جمعہ کے لیے ہر آنے والے پر غسل ہے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : جب آدمی طلوع فجر کے بعد غسل کر لے تو یہ غسل جمعہ کے لیے کافی ہے اگرچہ وہ جنبی رہا ہو ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 342
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « سنن النسائی/الجمعة 2 (1372)، (تحفة الأشراف: 15806) (صحیح) »
حدیث نمبر: 343
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ الْهَمْدَانِيُّ . ح حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ . ح حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، وَهَذَا حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : قَالَ يَزِيدُ ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ ، في حديثهما عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَأَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلَبِسَ مِنْ أَحْسَنِ ثِيَابِهِ وَمَسَّ مِنْ طِيبٍ إِنْ كَانَ عِنْدَهُ ، ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَلَمْ يَتَخَطَّ أَعْنَاقَ النَّاسِ ، ثُمَّ صَلَّى مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ ، ثُمَّ أَنْصَتَ إِذَا خَرَجَ إِمَامُهُ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ صَلَاتِهِ ، كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ جُمُعَتِهِ الَّتِي قَبْلَهَا " ، قَالَ : وَيَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةِ : وَزِيَادَةٌ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ ، وَيَقُولُ : إِنَّ الْحَسَنَةَ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَحَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ أَتَمُّ ، وَلَمْ يَذْكُرْ حَمَّادٌ كَلَامَ أَبِي هُرَيْرَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے ، اپنے کپڑوں میں سے اچھے کپڑے پہنے ، اور اگر اس کے پاس ہو تو خوشبو لگائے ، پھر جمعہ کے لیے آئے اور لوگوں کی گردنیں نہ پھاندے ، پھر اللہ نے جو نماز اس کے لیے مقدر کر رکھی ہے پڑھے ، پھر امام کے ( خطبہ کے لیے ) نکلنے سے لے کر نماز سے فارغ ہونے تک خاموش رہے ، تو یہ ساری چیزیں اس کے ان گناہوں کا کفارہ ہوں گی جو اس جمعہ اور اس کے پہلے والے جمعہ کے درمیان اس سے سرزد ہوئے ہیں “ ، راوی کہتے ہیں : ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اور مزید تین دن کے گناہوں کا بھی ، اس لیے کہ ایک نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : محمد بن سلمہ کی حدیث زیادہ کامل ہے اور حماد نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا کلام ذکر نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 343
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (1387), ابن إسحاق صرح بالسماع عند أحمد (3/81)
تخریج حدیث « وقد تفرد بہ أبو داود (تحفة الأشراف: 4430)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجمعة 8 (858) من حديث أبي هريرة مختصرًا ومن غير هذا السند، وأدرج قوله: ’’وثلاثة أيام‘‘ في قوله صلی اللہ علیہ وسلم (حسن) »
حدیث نمبر: 344
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلَالٍ ، وَبُكَيْرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ حَدَّثَاهُ ،عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ ، وَالسِّوَاكُ ، وَيَمَسُّ مِنَ الطِّيبِ مَا قُدِّرَ لَهُ " ، إِلَّا أَنَّ بُكَيْرًا لَمْ يَذْكُرْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ ، وَقَالَ فِي الطِّيبِ : وَلَوْ مِنْ طِيبِ الْمَرْأَةِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر بالغ پر جمعہ کے دن غسل کرنا ، مسواک کرنا اور خوشبو لگانا جو اسے نصیب ہو لازم ہے “ ، مگر بکیر نے ( عمرو بن سلیم اور ابو سعید خدری کے درمیان ) عبدالرحمٰن بن ابی سعید کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے ، اور خوشبو کے بارے میں انہوں نے کہا : اگرچہ عورت ہی کی خوشبو ہو ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 344
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (846)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الجمعة 3 (880) (نحوہ)، صحیح مسلم/الجمعة 2 (846)، سنن النسائی/الجمعة 6 (1376)، (تحفة الأشراف: 4116، 4267)، وقد أخرجہ: (3/30، 65، 66، 69) (صحیح) »
حدیث نمبر: 345
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْجَرْجَرَائِيُّ حِبِّي ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيُّ ،حَدَّثَنِي أَوْسُ بْنُ أَوْسٍ الثَّقَفِيُّ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ غَسَّلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاغْتَسَلَ ثُمَّ بَكَّرَ وَابْتَكَرَ وَمَشَى وَلَمْ يَرْكَبْ وَدَنَا مِنَ الْإِمَامِ فَاسْتَمَعَ وَلَمْ يَلْغُ ، كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ عَمَلُ سَنَةٍ أَجْرُ صِيَامِهَا وَقِيَامِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اوس بن اوس ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جو شخص جمعہ کے دن نہلائے اور خود بھی نہائے ۱؎ پھر صبح سویرے اول وقت میں ( مسجد ) جائے ، شروع سے خطبہ میں رہے ، پیدل جائے ، سوار نہ ہو اور امام سے قریب ہو کر غور سے خطبہ سنے ، اور لغو بات نہ کہے تو اس کو ہر قدم پر ایک سال کے روزے اور شب بیداری کا ثواب ملے گا ۔‏‏‏‏“
وضاحت:
۱؎: یعنی اپنی بیوی سے صحبت کی اور اس پر بھی غسل لازم کر دیا ہو۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 345
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (1388)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الصلاة 239 (496)، سنن النسائی/الجمعة 10 (1382)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 80 (1087)، (تحفة الأشراف: 1735) وقد أخرجہ: مسند احمد (4/8، 9، 10)، سنن الدارمی/الصلاة 194 (1588) (صحیح) تفصیل کے لیے دیکھیں فتح المغيث للسخاوی 3/ 189۔ اور تحفة الأحوذي 5/3 »
حدیث نمبر: 346
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ، عَنْ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : مَنْ غَسَلَ رَأْسَهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ سَاقَ نَحْوَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے جمعہ کے دن اپنا سر دھویا اور غسل کیا “ ، پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث بیان کی ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 346
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, انظر الحديث السابق
تخریج حدیث « انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 1735) (صحیح) »
حدیث نمبر: 347
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَقِيلٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمِصْرِيَّانِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ ابْنُ أَبِي عَقِيلٍ : أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَمَسَّ مِنْ طِيبِ امْرَأَتِهِ إِنْ كَانَ لَهَا وَلَبِسَ مِنْ صَالِحِ ثِيَابِهِ ثُمَّ لَمْ يَتَخَطَّ رِقَابَ النَّاسِ وَلَمْ يَلْغُ عِنْدَ الْمَوْعِظَةِ ، كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا بَيْنَهُمَا ، وَمَنْ لَغَا وَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ ، كَانَتْ لَهُ ظُهْرًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے ، اپنی عورت کی خوشبو میں سے اگر اس کے پاس ہو لگائے ، اپنے اچھے کپڑے زیب تن کرے ، پھر لوگوں کی گردنیں نہ پھاندے اور خطبہ کے وقت بیکار کام نہ کرے ، تو یہ اس جمعہ سے اس ( یعنی پچھلے ) جمعہ تک کے گناہوں کا کفارہ ہو گا ، اور جو بلا ضرورت ( بیہودہ ) باتیں بکے ، اور لوگوں کی گردنیں پھاندے ، تو وہ جمعہ اس کے لیے ظہر ہو گا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 347
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 8659) (حسن) »
حدیث نمبر: 348
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ شَيْبَةَ ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ الْعَنَزِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ مِنْ أَرْبَعٍ : مِنَ الْجَنَابَةِ ، وَيَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَمِنَ الْحِجَامَةِ ، وَمِنْ غُسْلِ الْمَيِّتِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چار چیزوں کی وجہ سے غسل کرتے تھے : ( ا ) جنابت کی وجہ سے ، ( ۲ ) جمعہ کے دن ( ۳ ) پچھنے لگانے سے ، ( ۴ ) اور میت کو نہلانے سے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 348
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (542), صححه ابن خزيمه (256 وسنده حسن) مصعب بن شيبه: حسن الحديث وثقه الجمھور
تخریج حدیث « تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 16193)، ویأتی عند المؤلف فی الجنازة برقم (3160) (ضعیف) » (اس کے راوی ”مصعب بن شیبہ “ ضعیف ہیں)
حدیث نمبر: 349
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ ، أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَوْشَبٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ مَكْحُولًا عَنْ هَذَا الْقَوْلِ : غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ ، فَقَالَ : " غَسَّلَ رَأْسَهُ وَغَسَلَ جَسَدَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی بن حوشب کہتے ہیں کہ` میں نے مکحول سے اس قول «غسل واغتسل» کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : اس کا مطلب ہے کہ وہ اپنا سر اور بدن دھوئے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 349
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 19471) (صحیح) »
حدیث نمبر: 350
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، " فِي غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ ، قَالَ : قَالَ سَعِيدٌ : غَسَّلَ رَأْسَهُ وَغَسَلَ جَسَدَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعید بن عبدالعزیز سے` «غسل واغتسل» کے بارے میں مروی ہے ، ابومسہر کہتے ہیں کہ سعید کا کہنا ہے کہ «غسل واغتسل» کے معنی ہیں : وہ اپنا سر اور اپنا بدن خوب دھلے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 350
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 18691) (صحیح) »
حدیث نمبر: 351
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ غُسْلَ الْجَنَابَةِ ثُمَّ رَاحَ ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَدَنَةً ، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّانِيَةِ ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَقَرَةً ، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّالِثَةِ ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ كَبْشًا أَقْرَنَ ، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الرَّابِعَةِ ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ دَجَاجَةً ، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الْخَامِسَةِ ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَيْضَةً ، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ حَضَرَتِ الْمَلَائِكَةُ يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے جمعہ کے دن غسل جنابت کی طرح غسل کیا پھر ( پہلی گھڑی میں ) جمعہ کے لیے ( مسجد ) گیا تو گویا اس نے ایک اونٹ اللہ کی راہ میں پیش کیا ، جو دوسری گھڑی میں گیا گویا اس نے ایک گائے اللہ کی راہ میں پیش کی ، اور جو تیسری گھڑی میں گیا گویا اس نے ایک سینگ دار مینڈھا اللہ کی راہ میں پیش کیا ، جو چوتھی گھڑی میں گیا گویا اس نے ایک مرغی اللہ کی راہ میں پیش کی ، اور جو پانچویں گھڑی میں گیا گویا اس نے ایک انڈا اللہ کی راہ میں پیش کیا ، پھر جب امام ( خطبہ کے لیے ) نکل آتا ہے تو فرشتے بھی آ جاتے ہیں اور ذکر ( خطبہ ) سننے لگتے ہیں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 351
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (881) صحيح مسلم (850)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الجمعة 4 (881)، وبدء الخلق 6 (3211)، صحیح مسلم/الجمعة 7 (850)، سنن الترمذی/الجمعة 6 (499)، سنن النسائی/1708، من الکبریٰ، (تحفة الأشراف: 12569)، وقد أخرجہ : سنن النسائی/الإمامة 59 (865)، والجمعة 13 (1386)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 82 (1092)، موطا امام مالک/الجمعة 1(1)، مسند احمد (2/239، 259، 280، 505، 512)، سنن الدارمی/الصلاة 193 (1585) (صحیح) »