کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: جب جنبی کو سردی کا ڈر ہو تو کیا وہ تیمم کر سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 334
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، أَخْبَرَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ الْمِصْرِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاص ، قَالَ : " احْتَلَمْتُ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ السُّلَاسِلِ فَأَشْفَقْتُ إِنِ اغْتَسَلْتُ أَنْ أَهْلِكَ ، فَتَيَمَّمْتُ ثُمَّ صَلَّيْتُ بِأَصْحَابِي الصُّبْحَ ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا عَمْرُو ، صَلَّيْتَ بِأَصْحَابِكَ وَأَنْتَ جُنُبٌ ؟ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي مَنَعَنِي مِنَ الِاغْتِسَالِ ، وَقُلْتُ : إِنِّي سَمِعْتُ اللَّهَ ، يَقُولُ : وَلا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا سورة النساء آية 29 ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرٍ مِصْرِيٌّ مَوْلَى خَارِجَةَ بْنِ حُذَافَةَ ، وَلَيْسَ هُوَ ابْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` غزوہ ذات السلاسل کی ایک ٹھنڈی رات میں مجھے احتلام ہو گیا اور مجھے یہ ڈر لگا کہ اگر میں نے غسل کر لیا تو مر جاؤں گا ، چنانچہ میں نے تیمم کر کے اپنے ساتھیوں کو فجر پڑھائی ، تو لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا : ” عمرو ! تم نے جنابت کی حالت میں اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی ؟ “ ، چنانچہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل نہ کرنے کا سبب بتایا اور کہا : میں نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان سنا کہ «ولا تقتلوا أنفسكم إن الله كان بكم رحيما» ( سورۃ النساء : ۲۹ ) ” تم اپنے آپ کو قتل نہ کرو ، بیشک اللہ تم پر رحم کرنے والا ہے “ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے اور آپ نے کچھ نہیں کہا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 334
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, صححه ابن حبان (202) والحاكم علٰي شرط الشيخين (1/177) ووافقه الذھبي وسنده حسن
تخریج حدیث « تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 10750)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/203) (صحیح) »
حدیث نمبر: 335
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ ابْنِ لَهِيعَةَ وَعَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ كَانَ عَلَى سَرِيَّةٍ ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ نَحْوَهُ ، قَالَ : فَغَسَلَ مَغَابِنَهُ وَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ صَلَّى بِهِمْ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْكُرِ التَّيَمُّمَ ، قَالَ أَبُو دَاوُد ، وَرَوَى هَذِهِ الْقِصَّةَ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ ، قَالَ فِيهِ : فَتَيَمَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے غلام ابو قیس سے روایت ہے کہ` عمرو بن العاص ایک سریہ کے سردار تھے ، پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی ، اس میں ہے : تو انہوں نے اپنی شرمگاہ کے آس پاس کا حصہ دھویا ، پھر وضو کیا جس طرح نماز کے لیے وضو کرتے ہیں پھر لوگوں کو نماز پڑھائی ، آگے راوی نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی مگر اس میں تیمم کا ذکر نہیں کیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ واقعہ اوزاعی نے حسان بن عطیہ سے روایت کیا ہے ، اس میں «فتيمم» کے الفاظ ہیں ( یعنی انہوں نے تیمم کیا ) ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 335
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, انظر الحديث السابق (334)
تخریج حدیث « انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 10750) (صحیح) »