حدیث نمبر: 332
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ الْوَاسِطِيُّ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ . ح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيَّ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : اجْتَمَعَتْ غُنَيْمَةٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا أَبَا ذَرٍّ ، ابْدُ فِيهَا ، فَبَدَوْتُ إِلَى الرَّبَذَةِ فَكَانَتْ تُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ فَأَمْكُثُ الْخَمْسَ وَالسِّتَّ ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَبُو ذَرٍّ ، فَسَكَتُّ ، فَقَالَ : ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ أَبَا ذَرٍّ لِأُمِّكَ الْوَيْلُ ، فَدَعَا لِي بِجَارِيَةٍ سَوْدَاءَ فَجَاءَتْ بِعُسٍّ فِيهِ مَاءٌ فَسَتَرَتْنِي بِثَوْبٍ وَاسْتَتَرْتُ بِالرَّاحِلَةِ وَاغْتَسَلْتُ فَكَأَنِّي أَلْقَيْتُ عَنِّي جَبَلًا ، فَقَالَ : " الصَّعِيدُ الطَّيِّبُ وَضُوءُ الْمُسْلِمِ وَلَوْ إِلَى عَشْرِ سِنِينَ ، فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَاءَ فَأَمِسَّهُ جِلْدَكَ فَإِنَّ ذَلِكَ خَيْرٌ " ، وَقَالَ مُسَدَّدٌ : غُنَيْمَةٌ مِنَ الصَّدَقَةِ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَحَدِيثُ عَمْرٍو أَتَمُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ بکریاں جمع ہو گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابوذر ! تم ان بکریوں کو جنگل میں لے جاؤ “ ، چنانچہ میں انہیں ہانک کر مقام ربذہ کی طرف لے گیا ، وہاں مجھے جنابت لاحق ہو جایا کرتی تھی اور میں پانچ پانچ چھ چھ روز یوں ہی رہا کرتا ، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، آپ نے فرمایا : ” ابوذر ! “ ، میں خاموش رہا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہاری ماں تم پر روئے ، ابوذر ! تمہاری ماں کے لیے بربادی ہو ۱؎ “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے ایک کالی لونڈی بلائی ، وہ ایک بڑے پیالے میں پانی لے کر آئی ، اس نے میرے لیے ایک کپڑے کی آڑ کی اور ( دوسری طرف سے ) میں نے اونٹ کی آڑ کی اور غسل کیا ، ( غسل کر کے مجھے ایسا لگا ) گویا کہ میں نے اپنے اوپر سے کوئی پہاڑ ہٹا دیا ہو ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پاک مٹی مسلمان کے لیے وضو ( کے پانی کے حکم میں ) ہے ، اگرچہ دس برس تک پانی نہ پائے ، جب تم پانی پا جاؤ تو اس کو اپنے بدن پر بہا لو ، اس لیے کہ یہ بہتر ہے “ ۔ مسدد کی روایت میں «غنيمة من الصدقة» کے الفاظ ہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عمرو کی روایت زیادہ کامل ہے ۔
وضاحت:
۱؎: اس طرح کے الفاظ زبان پر یوں ہی بطور تعجب جاری ہو جاتے ہیں ان سے بددعا مقصود نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 333
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ فِي الْإِسْلَامِ فَأَهَمَّنِي دِينِي ، فَأَتَيْتُ أَبَا ذَرٍّ ، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ : " إِنِّي اجْتَوَيْتُ الْمَدِينَةَ ، فَأَمَرَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَوْدٍ وَبِغَنَمٍ ، فَقَالَ لِي : اشْرَبْ مِنْ أَلْبَانِهَا ، قَالَ حَمَّادٌ : وَأَشُكُّ فِي أَبْوَالِهَا ، هَذَا قَوْلُ حَمَّادٍ ، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ : فَكُنْتُ أَعْزُبُ عَنِ الْمَاءِ ، وَمَعِي أَهْلِي فَتُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ فَأُصَلِّي بِغَيْرِ طَهُورٍ ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنِصْفِ النَّهَارِ وَهُوَ فِي رَهْطٍ مِنْ أَصْحَابِهِ وَهُوَ فِي ظِلِّ الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ : فَقُلْتُ : نَعَمْ هَلَكْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : وَمَا أَهْلَكَكَ ؟ قُلْتُ : إِنِّي كُنْتُ أَعْزُبُ عَنِ الْمَاءِ وَمَعِي أَهْلِي فَتُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ فَأُصَلِّي بِغَيْرِ طُهُورٍ ، فَأَمَرَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ فَجَاءَتْ بِهِ جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ بِعُسٍّ يَتَخَضْخَضُ مَا هُوَ بِمَلْآنَ فَتَسَتَّرْتُ إِلَى بَعِيرِي فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ جِئْتُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّ الصَّعِيدَ الطَّيِّبَ طَهُورٌ ، وَإِنْ لَمْ تَجِدِ الْمَاءَ إِلَى عَشْرِ سِنِينَ ، فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَاءَ فَأَمِسَّهُ جِلْدَكَ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، لَمْ يَذْكُرْ أَبْوَالَهَا . قَالَ أَبُو دَاوُد : هَذَا لَيْسَ بِصَحِيحٍ ، وَلَيْسَ فِي أَبْوَالِهَا إِلَّا حَدِيثُ أَنَسٍ ، تَفَرَّدَ بِهِ أَهْلُ الْبَصْرَةِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´قبیلہ بنی عامر کے ایک آدمی کہتے ہیں کہ` میں اسلام میں داخل ہوا تو مجھے اپنا دین سیکھنے کی فکر لاحق ہوئی لہٰذا میں ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، انہوں نے کہا : مجھے مدینہ کی آب و ہوا راس نہ آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کچھ اونٹ اور بکریاں دینے کا حکم دیا اور مجھ سے فرمایا : ” تم ان کا دودھ پیو “ ، ( حماد کا بیان ہے کہ مجھے شک ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پیشاب بھی پینے کے لیے کہا یا نہیں ، یہ حماد کا قول ہے ) ، پھر ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں پانی سے ( اکثر ) دور رہا کرتا تھا اور میرے ساتھ میری بیوی بھی تھی ، مجھے جنابت لاحق ہوتی تو میں بغیر طہارت کے نماز پڑھ لیتا تھا ، تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دوپہر کے وقت آیا ، آپ صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ مسجد کے سائے میں ( بیٹھے ) تھے ، آپ نے فرمایا : ” ابوذر ؟ “ ، میں نے کہا : جی ، اللہ کے رسول ! میں تو ہلاک و برباد ہو گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کس چیز نے تمہیں ہلاک و برباد کیا ؟ “ ، میں نے کہا : میں پانی سے دور رہا کرتا تھا اور میرے ساتھ میری بیوی تھی ، مجھے جنابت لاحق ہوتی تو میں بغیر طہارت کے نماز پڑھ لیتا تھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے پانی لانے کا حکم دیا ، چنانچہ ایک کالی لونڈی بڑے برتن میں پانی لے کر آئی جو برتن میں ہل رہا تھا ، برتن بھرا ہوا نہیں تھا ، پھر میں نے اپنے اونٹ کی آڑ کی اور غسل کیا ، پھر آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے ابوذر ! پاک مٹی پاک کرنے والی ہے ، اگرچہ تم دس سال تک پانی نہ پاؤ ، لیکن جب تمہیں پانی مل جائے تو اسے اپنی کھال پر بہاؤ ( غسل کرو ) “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے حماد بن زید نے ایوب سے روایت کیا ہے اور اس میں انہوں نے پیشاب کا ذکر نہیں کیا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ صحیح نہیں ہے اور پیشاب کا ذکر صرف انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے ، جس میں اہل بصرہ منفرد ہیں ۔