کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: حضر (اقامت) میں تیمم کا بیان۔
حدیث نمبر: 329
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، أَخْبَرَنَا أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ ، يَقُولُ : أَقْبَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبِي الْجُهَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ الْأَنْصَارِيِّ ، فَقَالَ أَبُو الْجُهَيْمِ : " أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ بِئْرِ جَمَلٍ ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ، فَلَمْ يَرُدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ السَّلَامَ حَتَّى أَتَى عَلَى جِدَارٍ فَمَسَحَ بِوَجْهِهِ وَيَدَيْهِ ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام عمیر کہتے ہیں کہ` میں اور ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے غلام عبداللہ بن یسار دونوں ابوجہیم بن حارث بن صمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو ابوجہیم نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بئرجمل ( مدینے کے قریب ایک جگہ کا نام ) کی طرف سے تشریف لائے تو ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا اور اس نے آپ کو سلام کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سلام کا جواب نہیں دیا ، یہاں تک کہ آپ ایک دیوار کے پاس آئے اور آپ نے ( دونوں ہاتھوں کو دیوار پر مار کر ) اپنے منہ اور دونوں ہاتھوں کا مسح کیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب دیا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 329
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح إلا أن مسلما علقه , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (337) صحيح مسلم (369)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/التیمم 3 (337)، صحیح مسلم/الحیض 28 (تعلیقاً) (369)، سنن النسائی/الطھارة 195 (312)، (تحفة الأشراف: 11885)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/169) (صحیح) »
حدیث نمبر: 330
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَوْصِلِيُّ أَبُو عَلِيٍّ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْعَبْدِيُّ ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ ، قَالَ : انْطَلَقْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فِي حَاجَةٍ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَضَى ابْنُ عُمَرَ حَاجَتَهُ فَكَانَ مِنْ حَدِيثِهِ يَوْمَئِذٍ أَنْ ، قَالَ : " مَرَّ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِكَّةٍ مِنَ السِّكَكِ وَقَدْ خَرَجَ مِنْ غَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ حَتَّى إِذَا كَادَ الرَّجُلُ أَنْ يَتَوَارَى فِي السِّكَّةِ ، ضَرَبَ بِيَدَيْهِ عَلَى الْحَائِطِ وَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ ثُمَّ ضَرَبَ ضَرْبَةً أُخْرَى فَمَسَحَ ذِرَاعَيْهِ ، ثُمَّ رَدَّ عَلَى الرَّجُلِ السَّلَامَ ، وَقَالَ : إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ إِلَّا أَنِّي لَمْ أَكُنْ عَلَى طُهْرٍ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، يَقُولُ : رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ حَدِيثًا مُنْكَرًا فِي التَّيَمُّمِ ، قَالَ ابْنُ دَاسَةَ : قَالَ أَبُو دَاوُد : لَمْ يُتَابَعْ مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ عَلَى ضَرْبَتَيْنِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرَوَوْهُ فِعْلَ ابْنِ عُمَرَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نافع کہتے ہیں :` میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ کسی ضرورت کے تحت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا ، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی ضرورت پوری کی اور اس دن ان کی گفتگو میں یہ بات بھی شامل تھی کہ ایک آدمی ایک گلی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ہو کر گزرا اور آپ ( ابھی ) پاخانہ یا پیشاب سے فارغ ہو کر نکلے تھے کہ اس آدمی نے سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا ، یہاں تک کہ جب وہ شخص گلی میں آپ کی نظروں سے اوجھل ہو جانے کے قریب ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ دیوار پر مارے اور انہیں اپنے چہرے پر پھیرا ، پھر دوسری بار اپنے دونوں ہاتھ دیوار پر مارے اور اس سے دونوں ہاتھوں کا مسح کیا پھر اس کے سلام کا جواب دیا اور فرمایا : ” مجھے تیرے سلام کا جواب دینے میں کوئی چیز مانع نہیں تھی سوائے اس کے کہ میں پاکی کی حالت میں نہیں تھا “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے احمد بن حنبل کو کہتے سنا کہ محمد بن ثابت نے تیمم کے باب میں ایک منکر حدیث روایت کی ہے ۔ ابن داسہ کہتے ہیں کہ ابوداؤد نے کہا ہے کہ اس قصے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دو ضربہ پر محمد بن ثابت کی متابعت ( موافقت ) نہیں کی گئی ہے ، صرف انہوں نے ہی دو ضربہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل قرار دیا ہے ، ان کے علاوہ دیگر حضرات نے اسے ابن عمر رضی اللہ عنہما کا فعل روایت کیا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 330
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف منكر, محمد بن ثابت العبدي: ضعفه الجمهور لمخالفته الثقات فروايته منكرة،وانظر تحرير تقريب التهذيب (5771), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 26
تخریج حدیث « تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 8420) (ضعیف) » (محمد بن ثابت لین الحدیث ہیں ایک ضربہ والی اگلی حدیث صحیح ہے)
حدیث نمبر: 331
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى الْبُرُلُّسِيُّ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ ، أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْغَائِطِ فَلَقِيَهُ رَجُلٌ عِنْدَ بِئْرِ جَمَلٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْحَائِطِ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى الْحَائِطِ ثُمَّ مَسَحَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ، ثُمَّ رَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرَّجُلِ السَّلَامَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پاخانہ سے فارغ ہو کر آئے تو بئر جمل کے پاس ایک آدمی کی ملاقات آپ سے ہو گئی ، اس نے آپ کو سلام کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا ، یہاں تک کہ ایک دیوار کے پاس آئے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو دیوار پر مارا پھر اپنے چہرے اور دونوں ہاتھوں کا مسح کیا ، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کے سلام کا جواب دیا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 331
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, وحسنه المنذري
تخریج حدیث « تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 8533) (صحیح) »