کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: حیض سے غسل کے طریقے کا بیان۔
حدیث نمبر: 313
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ ، عَنْ أُمَيَّةَ بِنْتِ أَبِي الصَّلْتِ ، عَنْ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي غِفَارٍ قَدْ سَمَّاهَا لِي ، قَالَتْ : أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَقِيبَةِ رَحْلِهِ ، قَالَتْ : فَوَاللَّهِ لَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصُّبْحِ فَأَنَاخَ وَنَزَلْتُ عَنْ حَقِيبَةِ رَحْلِهِ ، فَإِذَا بِهَا دَمٌ مِنِّي ، فَكَانَتْ أَوَّلُ حَيْضَةٍ حِضْتُهَا ، قَالَتْ : فَتَقَبَّضْتُ إِلَى النَّاقَةِ وَاسْتَحْيَيْتُ ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بِي وَرَأَى الدَّمَ ، قَالَ : " مَا لَكِ ؟ لَعَلَّكِ نَفِسْتِ ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَأَصْلِحِي مِنْ نَفْسِكِ ، ثُمَّ خُذِي إِنَاءً مِنْ مَاءٍ فَاطْرَحِي فِيهِ مِلْحًا ثُمَّ اغْسِلِي مَا أَصَابَ الْحَقِيبَةَ مِنَ الدَّمِ ثُمَّ عُودِي لِمَرْكَبِكِ " ، قَالَتْ : فَلَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ رَضَخَ لَنَا مِنَ الْفَيْءِ ، قَالَتْ : وَكَانَتْ لَا تَطَّهَّرُ مِنْ حَيْضَةٍ إِلَّا جَعَلَتْ فِي طَهُورِهَا مِلْحًا وَأَوْصَتْ بِهِ أَنْ يُجْعَلَ فِي غُسْلِهَا حِينَ مَاتَتْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ایک غفاری عورت رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے اپنے کجاوے کے حقیبہ ۱؎ پر بٹھایا پھر اللہ کی قسم ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح تک مسلسل چلتے رہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ بٹھا دیا ، میں کجاوے کے حقیبہ پر سے اتری تو اس میں حیض کے خون کا نشان پایا ، یہ میرا پہلا حیض تھا جو مجھے آیا ، وہ کہتی ہیں : میں شرم کی وجہ سے اونٹنی کے پاس سمٹ گئی ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حال دیکھا اور خون بھی دیکھا تو فرمایا : ” تمہیں کیا ہوا ؟ شاید حیض آ گیا ہے “ ، میں نے کہا : ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے آپ کو ٹھیک کر لو ( کچھ باندھ لو تاکہ خون باہر نہ نکلے ) پھر پانی کا ایک برتن لے کر اس میں نمک ڈال لو اور حقیبہ میں لگے ہوئے خون کو دھو ڈالو ، پھر اپنی سواری پر واپس آ کر بیٹھ جاؤ “ ۔ وہ کہتی ہیں : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو فتح کیا تو مال فی میں سے ہمیں بھی ایک حصہ دیا ۔ وہ کہتی ہیں : پھر وہ جب بھی حیض سے پاکی حاصل کرتیں تو اپنے پاکی کے پانی میں نمک ضرور ڈالتیں ، اور جب ان کی وفات کا وقت آیا تو اپنے غسل کے پانی میں بھی نمک ڈالنے کی وصیت کر گئیں ۔
وضاحت:
۱؎: ہر وہ چیز جو اونٹ کے پیچھے کجاوہ کے آخر میں باندھ دی جائے حقیبہ کہلاتی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 313
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن إسحاق عنعن (تقدم: 47), وأمية بنت أبي الصلت: لا يعرف حالھا (تقريب: 8538), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 26
تخریج حدیث « تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 18381)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/380) (ضعیف) » (اس کی راویہ اُمیہ بنت ابی الصلت مجہول ہیں)
حدیث نمبر: 314
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَخْبَرَنَا سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَتْ أَسْمَاءُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ تَغْتَسِلُ إِحْدَانَا إِذَا طَهُرَتْ مِنَ الْمَحِيضِ ؟ قَالَ : " تَأْخُذُ سِدْرَهَا وَمَاءَهَا فَتَوَضَّأُ ، ثُمَّ تَغْسِلُ رَأْسَهَا وَتَدْلُكُهُ حَتَّى يَبْلُغَ الْمَاءُ أُصُولَ شَعْرِهَا ، ثُمَّ تُفِيضُ عَلَى جَسَدِهَا ، ثُمَّ تَأْخُذُ فِرْصَتَهَا فَتَطَّهَّرُ بِهَا " ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ أَتَطَهَّرُ بِهَا ؟ قَالَتْ عَائِشَةُ : فَعَرَفْتُ الَّذِي يَكْنِي عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ لَهَا : تَتَبَّعِينَ بِهَا آثَارَ الدَّمِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` اسماء ( اسماء بنت شکل انصاریہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! جب ہم میں سے کوئی حیض سے پاک ہو تو وہ کس طرح غسل کرے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیر کی پتی ملا ہوا پانی لے کر وضو کرے ، پھر اپنا سر دھوئے ، اور اسے ملے یہاں تک کہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے ، پھر اپنے سارے جسم پر پانی بہائے ، پھر روئی کا پھاہا لے کر اس سے طہارت حاصل کرے “ ۔ اسماء نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں اس ( پھاہے ) سے طہارت کس طرح حاصل کروں ؟ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات کنایۃً کہی وہ میں سمجھ گئی ، چنانچہ میں نے ان سے کہا : تم اسے خون کے نشانات پر پھیرو ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 314
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح، صحيح مسلم (332)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الحیض 13 (332)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 124 (642)، (تحفة الأشراف: 17847)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحیض13 (314)، سنن النسائی/الطھارة 159 (252)، مسند احمد (6/147، سنن الدارمی/الطھارة 83 (800) (حسن صحیح) »
حدیث نمبر: 315
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ،عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا ذَكَرَتْ نِسَاءَ الْأَنْصَارِ فَأَثْنَتْ عَلَيْهِنَّ ، وَقَالَتْ : لَهُنَّ مَعْرُوفًا ، وَقَالَتْ : دَخَلَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : فِرْصَةً مُمَسَّكَةً ، قَالَ مُسَدَّدٌ : كَانَ أَبُو عَوَانَةَ ، يَقُولُ : فِرْصَةً ، وَكَانَ أَبُو الْأَحْوَصِ ، يَقُولُ : قَرْصَةً .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انصار کی عورتوں کا ذکر کیا` تو ان کی تعریف کی اور ان کے حق میں بھلی بات کہی اور بولیں : ” ان میں سے ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی “ ، پھر راوی نے سابقہ مفہوم کی حدیث بیان کی ، مگر اس میں انہوں نے «فرصة ممسكة» ( مشک میں بسا ہوا پھاہا ) کہا ۔ مسدد کا بیان ہے کہ ابوعوانہ «فرصة» ( پھاہا ) کہتے تھے اور ابوالاحوص «قرصة» ( روئی کا ٹکڑا ) کہتے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 315
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, انظر الحديث السابق
تخریج حدیث « انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 17847) (حسن صحیح) »
حدیث نمبر: 316
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ يَعْنِي ابْنَ مُهَاجِرٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أَسْمَاءَ سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمَعْنَاهُ ، قَالَ : فِرْصَةً مُمَسَّكَةً ، قَالَتْ : كَيْفَ أَتَطَهَّرُ بِهَا ؟ قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، تَطَهَّرِي بِهَا وَاسْتَتِرِي بِثَوْبٍ ، وَزَادَ : وَسَأَلَتْهُ عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ ، فَقَالَ : تَأْخُذِينَ مَاءَكِ فَتَطَّهَّرِينَ أَحْسَنَ الطُّهُورِ وَأَبْلَغَهُ ، ثُمَّ تَصُبِّينَ عَلَى رَأْسِكِ الْمَاءَ ثُمَّ تَدْلُكِينَهُ حَتَّى يَبْلُغَ شُؤُونَ رَأْسِكِ ، ثُمَّ تُفِيضِينَ عَلَيْكِ الْمَاءَ ، قَالَ : وَقَالَتْ عَائِشَةُ : نِعْمَ النِّسَاءُ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ ، لَمْ يَكُنْ يَمْنَعُهُنَّ الْحَيَاءُ أَنْ يَسْأَلْنَ عَنِ الدِّينِ وَأَنْ يَتَفَقَّهْنَ فِيهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` اسماء رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ، پھر آگے اسی مفہوم کی حدیث ہے ، اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مشک لگا ہوا روئی کا پھاہا ( لے کر اس سے پاکی حاصل کرو ) “ ، اسماء نے کہا : اس سے میں کیسے پاکی حاصل کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سبحان اللہ ! اس سے پاکی حاصل کرو “ ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑے سے ( اپنا چہرہ ) چھپا لیا ۔ اس حدیث میں اتنا اضافہ ہے کہ اسماء رضی اللہ عنہا نے غسل جنابت کے بارے میں بھی دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم پانی لے لو ، پھر اس سے خوب اچھی طرح سے پاکی حاصل کرو ، پھر اپنے سر پر پانی ڈالو ، پھر اسے اتنا ملو کہ پانی بالوں کی جڑوں میں پہنچ جائے ، پھر اپنے اوپر پانی بہاؤ “ ۔ راوی کہتے ہیں : عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : انصار کی عورتیں کتنی اچھی ہیں انہیں دین کا مسئلہ دریافت کرنے اور اس کو سمجھنے میں حیاء مانع نہیں ہوتی ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 316
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, انظر الحديثين السابقين وأخرجه البيھقي (1/180) وسنده صحيح
تخریج حدیث « انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 17847) (حسن) »