حدیث نمبر: 311
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، أَخْبَرَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ أَبِي سَهْلٍ ، عَنْ مُسَّةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : " كَانَتْ النُّفَسَاءُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقْعُدُ بَعْدَ نِفَاسِهَا أَرْبَعِينَ يَوْمًا ، أَوْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ، وَكُنَّا نَطْلِي عَلَى وُجُوهِنَا الْوَرْسَ تَعْنِي مِنَ الْكَلَفِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نفاس والی عورتیں زچگی کے بعد چالیس دن یا چالیس رات تک بیٹھی رہتی تھیں ۱؎ ، ہم اپنے چہروں پر ورس ۲؎ ملا کرتے تھے یعنی جھائیوں کی وجہ سے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی نماز اور روزے سے رکی رہتی تھیں۔
۲؎: ایک خوشبودار گھاس ہے جسے رنگنے کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔
۲؎: ایک خوشبودار گھاس ہے جسے رنگنے کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔
حدیث نمبر: 312
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ يَعْنِي حُبِّي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ نَافِعٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ :حَدَّثَتْنِي الْأَزْدِيَّةُ يَعْنِي مُسَّةَ ، قَالَتْ : حَجَجْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، فَقُلْتُ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنَّ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ يَأْمُرُ النِّسَاءَ يَقْضِينَ صَلَاةَ الْمَحِيضِ ،فَقَالَتْ : " لَا يَقْضِينَ ، كَانَتْ الْمَرْأَةُ مِنْ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقْعُدُ فِي النِّفَاسِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ، لَا يَأْمُرُهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَضَاءِ صَلَاةِ النِّفَاسِ " ، قَالَ مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ حَاتِمٍ : وَاسْمُهَا مُسَّةُ تُكْنَى أُمَّ بُسَّةَ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : كَثِيرُ بْنُ زِيَادٍ كُنْيَتُهُ أَبُو سَهْلٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مسہازدیہ ( ام بسہ ) سے روایت ہے کہ` میں حج کو گئی تو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں حاضر ہوئی ، میں نے ان سے کہا : اے ام المؤمنین ! سمرہ بن جندب عورتوں کو حیض کی نمازیں قضاء کرنے کا حکم دیتے ہیں ، اس پر انہوں نے کہا : وہ قضاء نہ کریں ( کیونکہ ) عورت جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے ہوتی ۱؎ حالت نفاس میں چالیس دن تک بیٹھی رہتی تھی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے نفاس کی نماز قضاء کرنے کا حکم نہیں دیتے تھے ۔
وضاحت:
۱؎: اس سے صرف ازواج مطہرات ہی مراد نہیں ہیں بلکہ یہ عام ہے اس میں بیٹیاں، لونڈیاں اور خاندان اور رشتہ کی عورتیں بھی داخل ہیں۔