حدیث نمبر: 267
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حَبِيبٍ مَوْلَى عُرْوَةَ ، عَنْ نُدْبَةَ مَوْلَاةِ مَيْمُونَةَ ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُبَاشِرُ الْمَرْأَةَ مِنْ نِسَائِهِ وَهِيَ حَائِضٌ ، إِذَا كَانَ عَلَيْهَا إِزَارٌ إِلَى أَنْصَافِ الْفَخِذَيْنِ أَوِ الرُّكْبَتَيْنِ تَحْتَجِزُ بِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں سے حیض کی حالت میں مباشرت ( اختلاط و مساس ) کرتے تھے جب ان کے اوپر نصف رانوں تک یا دونوں گھٹنوں تک تہبند ہوتا جس سے وہ آڑ کئے ہوتیں ۔
حدیث نمبر: 268
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ إِحْدَانَا إِذَا كَانَتْ حَائِضًا ، أَنْ تَتَّزِرَ ، ثُمَّ يُضَاجِعُهَا زَوْجُهَا " ، وَقَالَ مَرَّةً : يُبَاشِرُهَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے کسی کو جب وہ حائضہ ہوتی ازار ( تہبند ) باندھنے کا حکم دیتے ، پھر اس کا شوہر ۱؎ اس کے ساتھ سوتا ، ایک بار راوی نے «يضاجعها» کے بجائے «يباشرها» کے الفاظ نقل کئے ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: «إحدانا» کے لفظ سے مراد یا تو ازواج مطہرات ہیں، ایسی صورت میں «زوجها» سے مراد خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہوں گے، یا «إحدانا» سے عام مسلمان عورتیں مراد ہیں، تو اس صورت میں «زوجها» سے اس مسلمان عورت کا شوہر مراد ہو گا، مؤلف کے سوا اور کسی کے یہاں یہ لفظ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 269
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ جَابِرِ بْنِ صُبْحٍ ، سَمِعْتُ خِلَاسًا الْهَجَرِيَّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ : " كُنْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيتُ فِي الشِّعَارِ الْوَاحِدِ وَأَنَا حَائِضٌ طَامِثٌ ، فَإِنْ أَصَابَهُ مِنِّي شَيْءٌ غَسَلَ مَكَانَهُ وَلَمْ يَعْدُهُ ، ثُمَّ صَلَّى فِيهِ ، وَإِنْ أَصَابَ تَعْنِي ثَوْبَهُ مِنْهُ شَيْءٌ ، غَسَلَ مَكَانَهُ وَلَمْ يَعْدُهُ ، ثُمَّ صَلَّى فِيهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں رات میں ایک کپڑے میں سوتے اور میں پورے طور سے حائضہ ہوتی ، اگر میرے حیض کا کچھ خون آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( کے بدن ) کو لگ جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اسی مقام کو دھو ڈالتے ، اس سے زیادہ نہیں دھوتے ، پھر اسی میں نماز پڑھتے ، اور اگر اس میں سے کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے کو لگ جاتا ، تو آپ صرف اسی جگہ کو دھو لیتے ، اس سے زیادہ نہیں دھوتے ، پھر اسی میں نماز پڑھتے تھے ۔
حدیث نمبر: 270
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ بْنِ غَانِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غُرَابٍ ، قَال : إِنّ عَمَّة لَهُ حَدَّثَتْهُ ، أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : إِحْدَانَا تَحِيضُ وَلَيْسَ لَهَا وَلِزَوْجِهَا إِلَّا فِرَاشٌ وَاحِدٌ ، قَالَتْ : " أُخْبِرُكِ بِمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، دَخَلَ لَيْلا وَأَنَا حَائِضٌ ، فَمَضَى إِلَى مَسْجِدِهِ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : تَعْنِي مَسْجِدَ بَيْتِهِ ، فَلَمْ يَنْصَرِفْ حَتَّى غَلَبَتْنِي عَيْنِي وَأَوْجَعَهُ الْبَرْدُ ، فَقَالَ : ادْنِي مِنِّي ، فَقُلْتُ : إِنِّي حَائِضٌ ، فَقَالَ : وَإِنْ ، اكْشِفِي عَنْ فَخِذَيْكِ ، فَكَشَفْتُ فَخِذَيَّ فَوَضَعَ خَدَّهُ وَصَدْرَهُ عَلَى فَخِذِي وَحَنَيْتُ عَلَيْهِ حَتَّى دَفِئَ وَنَامَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمارہ بن غراب کہتے ہیں : ان کی پھوپھی نے ان سے بیان کیا کہ` انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ ہم میں سے ایک عورت کو حیض آتا ہے ، اور اس کے اور اس کے شوہر کے پاس صرف ایک ہی بچھونا ہے ( ایسی صورت میں وہ حائضہ عورت کیا کرے ؟ ) ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بتاتی ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لائے اور اپنی نماز پڑھنے کی جگہ میں چلے گئے ( ابوداؤد کہتے ہیں : مسجد سے مراد گھر کے اندر نماز کی جگہ ” مصلی “ ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز سے فارغ ہونے سے پہلے پہلے مجھے نیند آ گئی ، ادھر آپ کو سردی نے ستایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میرے قریب آ جاؤ “ ، تو میں نے کہا : میں حائضہ ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنی ران کھولو “ ، میں نے اپنی رانیں کھول دیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا رخسار اور سینہ میری ران پر رکھ دیا ، میں اوپر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھک گئی ، یہاں تک کہ آپ کو گرمی پہنچ گئی ، اور سو گئے ۔
حدیث نمبر: 271
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ ، عَنْ أُمِّ ذَرَّةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " كُنْتُ إِذَا حِضْتُ نَزَلْتُ عَنِ الْمِثَالِ عَلَى الْحَصِيرِ ، فَلَمْ نَقْرُبْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ نَدْنُ مِنْهُ حَتَّى نَطْهُرَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں جب حائضہ ہوتی تو بچھونے سے چٹائی پر چلی آتی ، اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب نہ ہوتے ، جب تک کہ ہم پاک نہ ہو جاتے ۔
حدیث نمبر: 272
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ مِنَ الْحَائِضِ شَيْئًا ، أَلْقَى عَلَى فَرْجِهَا ثَوْبًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عکرمہ بعض ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن سے روایت کرتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حائضہ سے جب کچھ کرنا چاہتے تو ان کی شرمگاہ پر ایک کپڑا ڈال دیتے تھے ۔
حدیث نمبر: 273
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا فِي فَوْحِ حَيْضَتِنَا أَنْ نَتَّزِرَ ثُمَّ يُبَاشِرُنَا ، وَأَيُّكُمْ يَمْلِكُ إِرْبَهُ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْلِكُ إِرْبَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے حیض کی شدت میں ہمیں ازار ( تہبند ) باندھنے کا حکم فرماتے تھے پھر ہم سے مباشرت کرتے تھے ، اور تم میں سے کون اپنی خواہش پر قابو پا سکتا ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی خواہش پر قابو تھا ؟ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جو مرد اپنے نفس پر قابو نہ رکھ پاتا ہو اس کا حائضہ سے مباشرت کرنا بہتر نہیں، کیوں کہ خدشہ ہے کہ وہ اپنے نفس پر قابو نہ رکھ سکے اور جماع کر بیٹھے۔