کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: کیا جنبی اپنا سر خطمی سے دھوئے تو کافی ہے؟
حدیث نمبر: 256
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُوَاءَةَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " أَنَّهُ كَانَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ بِالْخِطْمِيِّ وَهُوَ جُنُبٌ يَجْتَزِئُ بِذَلِكَ ، وَلَا يَصُبُّ عَلَيْهِ الْمَاءَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حالت جنابت میں اپنا سر خطمی ۱؎ سے دھوتے اور اسی پر اکتفا کرتے ، اور اس پر ( دوسرا ) پانی نہیں ڈالتے تھے ۔
وضاحت:
۱؎: خطمی ایک گھاس ہے جو سر دھلنے میں استعمال ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 256
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, رجل من بني سواءة: مجهول (تقريب: 8518), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 22
تخریج حدیث « تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 17811) (ضعیف) » (اس کے اندر واقع ایک راوی «رجل» مبہم ہے)