حدیث نمبر: 219
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَمَّتِهِ سَلْمَى ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى نِسَائِهِ يَغْتَسِلُ عِنْدَ هَذِهِ وَعِنْدَ هَذِهِ ، قَالَ : قُلْتُ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا تَجْعَلُهُ غُسْلًا وَاحِدًا ؟ قَالَ : هَذَا أَزْكَى وَأَطْيَبُ وَأَطْهَرُ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَحَدِيثُ أَنَسٍ أَصَحُّ مِنْ هَذَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن اپنی بیویوں کے پاس گئے ، ہر ایک کے پاس غسل کرتے تھے ۱؎ ۔ ابورافع کہتے ہیں کہ میں نے آپ سے کہا : اللہ کے رسول ! ایک ہی بار غسل کیوں نہیں کر لیتے ؟ آپ نے فرمایا : ” یہ زیادہ پاکیزہ ، عمدہ اور اچھا ہے ۔“ ابوداؤد کہتے ہیں : انس رضی اللہ عنہ کی روایت اس سے زیادہ صحیح ہے ۲؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی ہر ایک سے جماع کر کے غسل کرتے تھے۔
۲؎: یعنی اس سے پہلے والی حدیث (۲۱۸)۔
۲؎: یعنی اس سے پہلے والی حدیث (۲۱۸)۔
حدیث نمبر: 220
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ ، ثُمَّ بَدَا لَهُ أَنْ يُعَاوِدَ ، فَلْيَتَوَضَّأْ بَيْنَهُمَا وُضُوءًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس جائے ( یعنی صحبت کرے ) پھر دوبارہ صحبت کرنا چاہے ، تو ان دونوں کے درمیان وضو کرے ۔“