حدیث نمبر: 194
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ ، عَنْ الْأَغَرِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْوُضُوءُ مِمَّا أَنْضَجَتِ النَّارُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آگ پر پکی ہوئی چیز کے کھانے سے وضو ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یہ حکم پہلے تھا بعد میں منسوخ ہو گیا، ناسخ احادیث پہلے گزر چکی ہیں۔
حدیث نمبر: 195
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ فَسَقَتْهُ قَدَحًا مِنْ سَوِيقٍ ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَمَضْمَضَ ، فَقَالَتْ : يَا ابْنَ أُخْتِي أَلَا تَوَضَّأُ ؟ ، إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تَوَضَّئُوا مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ ، أَوْ قَالَ : مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : فِي حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ ، يَا ابْنَ أَخِي .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوسفیان بن سعید بن مغیرہ کا بیان ہے کہ` وہ ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے ، تو ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے انہیں ایک پیالہ ستو پلایا ، پھر ( ابوسفیان ) نے پانی منگا کر کلی کی ، ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا : میرے بھانجے ! تم وضو کیوں نہیں کرتے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” جنہیں آگ نے بدل ڈالا ہو “ ، یا فرمایا : ” جنہیں آگ نے چھوا ہو ، ان چیزوں سے وضو کرو “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : زہری کی حدیث میں لفظ : «يا ابن أخي» ” اے میرے بھتیجے “ ہے ۔