کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو (ٹوٹ جانے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 184
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّازِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : " سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ ، فَقَالَ : تَوَضَّئُوا مِنْهَا ، وَسُئِلَ عَنْ لُحُومِ الْغَنَمِ ، فَقَالَ : لَا تَوَضَّئُوا مِنْهَا ، وَسُئِلَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي مَبَارِكِ الْإِبِلِ ، فَقَالَ : لَا تُصَلُّوا فِي مَبَارِكِ الْإِبِلِ فَإِنَّهَا مِنَ الشَّيَاطِينِ ، وَسُئِلَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ ، فَقَالَ : صَلُّوا فِيهَا فَإِنَّهَا بَرَكَةٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کے متعلق سوال کیا گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس سے وضو کرو “ ، اور بکری کے گوشت کے بارے میں پوچھا گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس سے وضو نہ کرو “ ، آپ سے اونٹ کے باڑے ( بیٹھنے کی جگہ ) میں نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اونٹ کے بیٹھنے کی جگہ میں نماز نہ پڑھو کیونکہ وہ شیاطین میں سے ہے “ ، اور آپ سے بکریوں کے باڑے ( رہنے کی جگہ ) میں نماز پڑھنے کے سلسلہ میں پوچھا گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس میں نماز پڑھو کیونکہ وہ برکت والی ہیں “ ۔
وضاحت:
اونٹ حلال جانور ہے مگر اس کا گوشت کھانے سے وضو کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مقدس ہے۔ اس میں کیا حکمت یا کیا علت ہے؟ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ ہمارے لیے تو اللہ عزوجل کا ارشاد ہے: «وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا» رسول جو تمہیں دیں، وہ لے لو اور جس سے روک دیں اس سے رک جاؤ (سورۃ الحشر، ۷) بکریاں پالنا باعث برکت ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 184
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, الأعمش صرح بالسماع وللحديث شاهد عند مسلم (360)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الطھارة 60 (81)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 67 (494)، (تحفة الأشراف: 1783)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/288)، ویأتی المؤلف برقم: (493) (صحیح) »