کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: عضو تناسل چھونے سے وضو نہ کرنے کی رخصت کا بیان۔
حدیث نمبر: 182
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَدِمْنَا عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ رَجُلٌ كَأَنَّهُ بَدَوِيٌّ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، " مَا تَرَى فِي مَسِّ الرَّجُلِ ذَكَرَهُ بَعْدَ مَا يَتَوَضَّأُ ؟ فَقَالَ : هَلْ هُوَ إِلَّا مُضْغَةٌ مِنْهُ ؟ أَوْ قَالَ : بَضْعَةٌ مِنْهُ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَاهُ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، وشعبة ، وابن عيينة ، وجرير الرازي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´طلق بن علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اتنے میں ایک شخص آیا وہ دیہاتی لگ رہا تھا ، اس نے کہا : اللہ کے نبی ! وضو کر لینے کے بعد آدمی کے اپنے عضو تناسل چھونے کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ تو اسی کا ایک لوتھڑا ہے “ ، یا کہا : ” ٹکڑا ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: طلق بن علی رضی اللہ عنہ کی حدیث میں عضو تناسل کے چھونے سے وضو نہ ٹوٹنے کی دلیل ہے، جب کہ بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ عضو تناسل کے مس (چھونے) کرنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، دونوں حدیثیں صحیح ہیں،اس لئے علماء نے ان دونوں کے درمیان تطبیق و توفیق کی صورت یہ نکالی ہے کہ عضو تناسل پر پردہ ہو تو وضو نہیں ٹوٹے گا، اور پردہ نہ ہو تو وضو ٹوٹ جائے گا۔ طلق بن علی کی حدیث کے الفاظ «الرجل يمس ذكره في الصلاة» سے یہی مفہوم نکلتا ہے، دوسری صورت تطبیق کی یہ ہے کہ اگر شہوت کے ساتھ ہے تو ناقض وضو ہے بصورت دیگر نہیں، واللہ اعلم بالصواب۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 182
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (320), وحقق ابن حبان وغيره بأنه حديث منسوخ
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الطھارة 62 (85)، سنن النسائی/الطھارة 119 (165)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 64 (483)، (تحفة الأشراف: 5023)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/22، 23) (صحیح) »
حدیث نمبر: 183
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ ، وَقَالَ فِي الصَّلَاةِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مسدد کا بیان ہے کہ` ہم سے محمد بن جابر نے بیان کیا ہے ، محمد بن جابر نے قیس بن طلق سے ، قیس نے اپنے والد طلق سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے ، اور اس میں «في الصلاة» کا اضافہ ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 183
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, محمد بن جابر ضعيف ضعفه الجمهور وقال الھيثمي: وھو ضعيف عند الجمھور (مجمع الزوائد 5/ 191), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 20
تخریج حدیث « انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 5023) (صحیح) »